ہفتہ , 4 فروری 2023

نازک ترین موڑ؟

(مظہر برلاس)

میرے کالج کے زمانے کے دوست ہارون موکل بتاتے ہیں کہ انسان کو بہت سی باتیں بہت دیر بعد سمجھ آتی ہیں۔ ان کیساتھ ایک واقعہ پیش آیا جس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگے،’’ فقیر نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری مٹھی کو عجوہ کھجوروں سے بھر دیا، ساتھ ہی یہ فرمایا کہ میرے پاس بیٹھ کر کھجوریں کھائو اور مجھے یہ بتائو کہ حیات کس کو کہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا زندگی کو، میرے اس جواب پر انہوں نے میرے سر پر ہلکا سا ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا، نہیں بیٹا حیات، زندگی کو کیسے کہا جاسکتا ہے، حیات تو وہ ہوتی ہے جسے کبھی موت نہیں آتی، اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جو فرمایا سچ ہے، قرآن کا ایک ایک لفظ ہیرے، یاقوت اور مرجان سے زیادہ پیارا اور قیمتی ہونے کے علاوہ نصیحتوں سے بھرپور ہے، اللّٰہ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ اسلام مکمل ضابطۂ زندگی ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے، دراصل حیات تو مرنے کے بعد شروع ہوگی، جسے کبھی موت نہیں آئے گی‘‘۔

مہربان بزرگ نے میرے لئے آبِ زم زم سے گلاس بھرتے ہوئے کہا، ’’میرے بیٹے اللّٰہ نے زندگی دی ہے حیات کو سنوارنے کیلئے نہ کہ بگاڑنے کیلئے، یہ زندگی، حیات کیسے ہوسکتی ہے، اس زندگی کا خاتمہ موت سے ہے، اصل حیات تو وہ ہے جسے موت نہیں آئے گی، جسے زوال نہیں آئے گا تو میرے پیارے بیٹے زندگی ایسے گزارو کہ حیات سنور جائے…‘‘ ہارون موکل بتاتے ہیں کہ اس بزرگ کی گفتگو کے بعد میں اس بات کو سمجھا ہوں کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

ضابطۂ حیات کا راز پا جانے والوں کی تو قبریں بھی روشن ہیں، گزشتہ جمعے کو قیصر امین بٹ اور اختر رسول کے ہمراہ حضرت علی ہجویریؒ کے مزار پر حاضری دی، پھر مزار کے احاطے میں ایک محفل سجائی، یہ تقریب سیدہ کائنات حضرت فاطمہ زہراؓ کے یومِ ولادت کے سلسلے میں تھی، یہاں سیدہ کائنات کی شان میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے گئے، کیک کاٹا گیا اور لوگوں کی خدمت میں شاندار کھانا پیش کیا گیا۔ ہم لوگ جناب سیدہ کائناتؓ کی شان کیا بیان کرسکتے ہیں جن کے احترام میں نبی اکرمؐ کھڑے ہو جایا کرتے تھے، جن کے شوہر ساری زندگی اسلام کیلئے جہاد کرتے رہے، جن کے بیٹے نے حق کے لئے سب سے بڑی قربانی دی۔ راہِ حق میں اتنی بڑی قربانی اس سے پہلے کبھی نہیں دی گئی تھی اورنہ ہی قیامت تک دی جا سکے گی۔ چناں چہ رسولؐ کے گھرانے کے پوری کائنات پر احسانات ہیںکہ اس گھرانے کی شان لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔لاہور میں حضرت علی ہجویریؒ کے مزار کے احاطے میں بیٹھ کر چوہدری اختر رسول پرانی یادوں کو تازہ کرنے لگے، وہ کچھ یوں گویا ہوئے … ’’میں ہاکی کھیلتا تھا، میں اور منظور الحسن یہاں بہت آیا کرتے تھے، جب ہمیں یہاں سے ہار پہنائے جاتے تھے تو پھر ہم چیمپئن بن کر لوٹتے تھے۔ ہاکی سے ریٹائرمنٹ کے بعد میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر تھا، ہماری انڈیا کے ساتھ سات میچوں کی سیریز تھی، چھ میچ ہو چکے تھے، ان چھ میچوں میں سے تین بھارت اور تین پاکستان جیت چکا تھا، ابھی تک معاملہ برابر تھا، سیریز کا آخری میچ مدراس میں ہونا تھا اور اس میچ نے فیصلہ کرنا تھا کہ سیریز کا تاج کس کے سر سجتاہے؟ ہاکی فیڈریشن کے سربراہ کے طور پر میرے لئے یہ لمحات پریشان کن تھے، میں لاہور میں تھا، میں حضرت علی ہجویریؒ کے مزار پر حاضر ہوا تو میرے گلے کو پھولوں سے بھر دیا گیا اور اللّٰہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا کہ مدراس میں پاکستان جیتے گا۔ میں گھر واپس آیا اور لاہور سے دہلی اور دہلی سے مدراس کا ٹکٹ کروایا۔

اگلے دن میچ تھا، میچ شروع ہونے سے قبل بھارتی ہاکی فیڈریشن کے سربراہ پی ایس گل (جنہوں نے خالصتان تحریک کو دبایا تھا) میرے ساتھ بیٹھ کر کہنے لگے کہ آج بھارت جیت جائے گا کیونکہ ہمارا ہوم گرائونڈ ہے اور ہوم کرائوڈ بھی ہمارا ہی ہے۔ میں نے کہا مسٹر گل آج پاکستان ہی جیتے گا اور میں یہ دعوے سے کہتا ہوں ، میچ شروع ہوا تو کچھ ہی منٹوں میں بھارتی ٹیم نے پاکستان کے خلاف گول کردیا، پی ایس گل کہنے لگا، میری بات مان جائیں مگر میں نے صاف انکار کردیا، میچ چلتا رہا، پاکستان نے پہلے میچ برابر کیا اور پھر دو گول مزید کردیے۔یوں میرا پیارا پاکستان سیریز جیت گیا۔ میچ کے اختتام پر مجھے پی ایس گل کہنے لگا کہ آپ کس طرح یقین سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان جیت جائے گا، آخر اس کی وجہ کیا تھی؟ میں نے کہا پی ایس گل جو وجوہات میں بتائوں گا، آپ ان پر یقین نہیں کرو گے، ہمارا خدا ہمیں بعض نشانیوں سے بتا دیتا ہے، بس اتنا ہی کافی ہے.‘‘

پاکستان کے روحانی پہلو تو بہت ہیں مگر پچھلے 75 برسوں سے یہ ملک نازک ترین موڑ سے گزر رہا ہے، پتہ نہیں یہ ’’نازک ترین‘‘ کس قدر طویل ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اب تو حالت عجیب ہوگئی ہے، نوبت یہ ہے کہ یونیورسٹی سے نکلنے والے لوگ رکشہ چلانے پر مجبور ہیں اور جیلوں سے نکلنے والے حکومت کر رہے ہیں، پورا نظام بگڑا ہوا ہے۔ ملک چل نہیں رہا، جام ہو کے رہ گیا ہے، دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر چہرہ بدنما ہے ۔ بقول فرحت عباس شاہ؎بشکریہ جنگ نیوز

صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار

دیوار ہی دیوار ہے دیوار کے اُس پار

آتی ہیں کراہیں، کبھی آہیں، کبھی سسکی

شاید کوئی بیمار ہے دیوار کے اُس پار

یا کھیل کوئی اور خطرناک ہے جاری

یا کوئی میرا یار ہے دیوار کے اُس پار

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقابلہ برائے ’سیاسی غلطیاں‘

(مظہر عباس) لگتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کو اب یقین سا ہوچلا ہے کہ وہ …