ہفتہ , 4 فروری 2023

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ لبنان اور خطے کی حساس صورتحال

(ترتیب و تنظیم: علی واحدی)

لبنان میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے نئے صدر کے انتخاب میں ناکامی نے بیروت کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے بعد کئی مہینوں تک نئی کابینہ سے محروم کر رکھا ہے اور سیاسی و اقتصادی بحران کے امتزاج نے اس اہم ملک کے مستقبل کے استحکام کے بارے میں خطرناک انتباہات کو بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بیروت گئے، تاکہ لبنان کے استحکام کے لیے تہران کی بھرپور حمایت اور صدر کے انتخاب میں سیاسی تعطل کو حل کرنے میں مدد کے لیے اپنی آمادگی اور تیاری کی خواہش کا اظہار کریں۔ نیز دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق دوطرفہ تعاون کو آگئے بڑھا کر دونوں ممالک کے حکام اور عوام تک ترقی و پیشرفت کا پیغام پہنچا سکیں۔ دوسری طرف مقبوضہ فلسطین اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر القدس پر پے درپے حملوں جیسے مسائل نیز صیہونی حکومت کی نئی انتہاء پسند کابینہ کی مہم جوئی کے بارے میں علاقائی خدشات نے اس دورے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ نئی صیہونی کابینہ اور لبنان کے ساتھ گیس کے حالیہ معاہدے پر نئی صورت حال جیسے موضوعات نے امیر عبداللہیان کے اس دورے کی اہمیت کو مزید اہم کر دیا ہے۔

لبنان سیاسی اور آبادی کے لحاظ سے مغربی ایشیا میں منفرد ملک ہے، جس کی پیشرفت مختلف علاقائی اور غیر علاقائی طاقتوں کے مقابلے کا میدان بن چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھی مختلف معاشی اور سیاسی بحرانوں کے امتزاج نے ایسی صورتحال پیدا کی ہے، جہاں بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور ان کا اثر و رسوخ پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ دریں اثناء گذشتہ ہفتوں کے دوران صدر کے انتخابات کے لیے پارلیمنٹ کے مسلسل اجلاسوں کا سلسلہ ناکام ہونے کے بعد، فرانس، سعودی عرب اور امریکہ اپنے خیالات کو قریب لانے کے لیے ایک اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اس زمرے میں اپنے سیاسی کھیل کو آگے بڑھانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ دریں اثناء، حزب اللہ اور لبنانی مزاحمت میں اس کے اتحادی، جو اب بھی پارلیمنٹ میں اقتدار کے فیصلہ کن مقام پر فائز ہیں، غیر ملکی مداخلت کو موجودہ تعطل کے خاتمے میں بنیادی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ اس وقت صدارتی منصب کی دوڑ، جس کا تعلق آئین کے مطابق میرونائٹ مارونی عیسائیوں سے ہے، حزب اللہ کی اتحادی جماعت آزاد محب وطن تحریک اور سعودی حمایت یافتہ لبنانی فورسز کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے۔

اس دوران ایران ایک اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر، جس نے ہمیشہ لبنان کی سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی پالیسی پر عمل کیا ہے، اب بھی اس ملک کے اقتصادی بحران اور موجودہ سیاسی تعطل کو ختم کرنے کا خواہاں ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ لبنان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانا اور سیاسی تعطل کو جاری رکھنا کسی بھی صورت میں لبنان کے مفاد میں نہیں اور یہ صرف صیہونی حکومت کے حق میں ہے۔ اس لیے امیر عبداللہیان کا دورہ لبنان مختلف گروہوں کے درمیان سیاسی معاہدے کی شرائط کو آسان بنانے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں حسین امیر عبداللہیان نے بیروت میں لبنان کے وزیر خارجہ عبداللہ بوحبیب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا: ہم لبنان کے تمام سیاسی دھڑوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ انتخابات کے حوالے سے جلد از جلد مذاکرات اور معاہدے کی راہ پر گامزن ہوں اور اس ملک کے صدر کے انتخاب اور لبنان میں سیاسی عمل کی تکمیل کے لئے مل کر قدم اٹھائیں۔

دوسری طرف لبنان کے اقتصادی مسئلے نے اس ملک میں معاش اور عام زندگی کے حالات بالخصوص توانائی اور ایندھن کے شعبے کو ایک سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ امیر عبداللہیان کا حالیہ دورہ ایرانی حکومت اور عوام کی حمایت کے پیغام کا حامل ہے۔ سخت سردی کے حالات میں لبنانی عوام کے لیے توانائی کی ضروریات کی پیشکش ایران کا مثالی اقدام ہے۔ امیر عبداللہیان نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران لبنان کے مشکل دنوں میں دوست رہا ہے اور رہے گا۔ ایران اس معاہدے کے فریم ورک میں لبنان کو درکار پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے تیار ہے۔ پچھلے سال لبنان میں ایندھن کے بڑے بحران اور ملک کی حکومت کی جانب سے ایندھن فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد، ایران نے ملک کی سرکاری درخواست پر ایندھن بردار بحری جہاز بھیج کر بحران کو بڑھنے سے روکا۔ نئی ایرانی حکومت میں، ایران نے اقتصادی سفارت کاری اور اقتصادی اور تجارتی تعاون کی مضبوطی کو سیاسی شراکت داری کے مطابق، خاص طور پر اپنے دور اور قریبی پڑوسیوں کے ساتھ، اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہوا ہے اور اس طرح قدرتی طور پر، لبنان ایک مطلوبہ منڈی بن سکتا ہے۔

مختلف ایرانی کمپنیوں کے سامان اور خدمات کے لیے اس طرح کے دورے اور ڈپلومیسی دو طرفہ اقتصادی تعاون کے امکانات کے بارے میں مزید جاننے کا ایک موقع ہے۔ لبنان کا یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ ایران کی برآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور باہمی تجارت بڑھانے کا ایک طریقہ بھی ہوسکتا ہے۔ 1398 سے 1400 شمسی کے دوران لبنان کے لئیے ایران کی برآمدات کا حجم بہت کم ہوا اور یہ 30 ملین ڈالر سے نیچے پہنچ گیا تھا، جو کہ لبنان کی تقریباً 11 بلین ڈالر کی درآمدات میں بڑی چھوٹی مقدار ہے۔ ایکسپورٹ گارنٹی فنڈ کے قیام، تاجروں کی براہ راست موجودگی اور بڑے چین اسٹورز کے قیام کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دستیاب صلاحیتوں میں سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سلامتی اور علاقائی مسائل:
مغربی کنارے کی کشیدہ صورتحال میں امیر عبداللہیان کے دورہ لبنان میں فلسطینی اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی، نیز انہوں نے محور مزاحمت (تہران، اسلامی جہاد اور حزب اللہ) کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی۔ اس دورے نے کسی بھی منظر نامے کے لیے مزاحمت کے بلاک کی مکمل تیاری کا فیصلہ کن پیغام صیہونی حکومت کے رہنماؤں کو بھیج دیا ہے، جنہوں نے گذشتہ ہفتوں میں بغیر سوچے سمجھے اور جارحانہ اقدامات سے مغربی کنارے میں اشتعال انگیزی اور کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ہم لبنان کی سلامتی کو ایران اور خطے کی سلامتی سمجھتے ہیں اور ایران صیہونی حکومت اور استکبار کے خلاف لبنان اور فلسطین میں مزاحمتی تحریکوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس دورہ کا ایک پیغام یہ بھی تھا کہ پچھلے چند مہینوں میں کچھ شرپسندوں نے فسادات کو ہوا دے کر ایران کی علاقائی طاقت کو کمزور کرنے کے کوشش کی۔ اس حوالے سے مغربی عربی عبرانی محاذ کے شدید پروپیگنڈہ منصوبوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ امیر عبدالہیان کے دورے کا ایک پیغام دوستوں اور دشمنوں کے لیے یہ تھا کہ چند مٹھی بھر شرپسندوں کی حالیہ سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور ایران کا اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام آئندہ بھی اس طرح کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دیں گی۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …