جمعرات , 2 فروری 2023

خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل،گورنر نے دستخط کردیئے

پشاور:گورنر خیبر پختونخوا ( Khyber Pakhtunkhwa ) کے دستخط کے بعد صوبائی اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کے گورنر حاجی غلام علی نے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر آج بروز بدھ 18 جنوری کو دستخط کردیئے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے گزشتہ روز 17 جنوری بروز منگل کو اسمبلی تحلیل کی سمری گورنر کو ارسال کی گئی تھی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا ملکی مفاد میں خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آنے والے عام انتخابات میں پورے ملک میں دو تہائی اکثریت سے حکومت قائم کریں گے۔

موجودہ وزیراعلیٰ آئین کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ کے حلف اٹھانے تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گورنر کی جانب سے اڑتالیس گھنٹوں میں دستخط نہ کرنے کی صورت میں اسمبلی خودبخود تحلیل ہوجاتی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کب بنی ؟
تحلیل کی گئی خیبر پختونخوا کی اسمبلی 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد وجود میں آئی تھی، جس کے بعد 13 اگست 2018 کو اسمبلی اراکین نے حلف اٹھایا تھا۔

اس اسمبلی کی اصولاً مدت 12 اگست 2023 کو ختم ہونا تھی، تاہم صوبائی اسمبلی کو 4 سال 5 ماہ بعد ہی تحلیل کردیا گیا ہے، اس طرح اسمبلی سات ماہ قبل تحلیل کی گئی ہے۔

کتنے اجلاس ہوئے؟
تحلیل ہونے والی اسمبلی کے کُل 23 سیشنز ہوئے۔
اسمبلی کے 249 دن اجلاس ہوئے۔
ایوان میں کل 211 بل پیش ہوئے۔
188 بلوں پر قانون سازی کی گئی۔
ایوان میں 908 سوالات پیش کئے گئے۔
ممبران کی استحقاق کی 66 تحاریک نمٹائیں گئیں۔
ایوان میں 244 قرار دادیں بھی پیش کی گئیں۔
ممبران نے 276 توجہ دلائو نوٹس پیش کئے۔
ایوان میں 58 تحریک التواٗ پر بحث ہوئی۔

یہ بھی دیکھیں

آئی ایم ایف کا سرکاری افسران اور اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد :آئی ایم ایف نے پاکستان سے تکنیکی سطح پر مذاکرات کے دوران گریڈ …