جمعرات , 2 فروری 2023

برطانوی جاسوس تختہ دار تک کیسے پہنچا

(ترتیب و تنظیم: حیدر سردار زادہ)

(حصہ اول)

برطانوی استعمار کی صدیوں پرانی جاسوسی تاریخ اور دنیا پر بٹھائی گئی دھاک ہوا میں، ایران کے کاونٹر انٹیلجنس اداروں نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کیونکہ برطانیہ ہمیشہ اپنے جاسوسوں کو یقین دلاتا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں انہیں سزا سے بچا لیا جائیگا، ایران کیخلاف برطانوی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنیوالے علیرضا اکبری کی پھانسی، برطانیہ کے لیے پہلا ایسا کیس ہے کہ ایم آئی سیکس کے ایجنٹ کو پھانسی دے دی گئی، یہ برطانوی انٹیلی جنس اداروں کے لیے اور ان کے ایجنٹوں کے لیے واضح پیغام ہے۔ ایرانی عدلیہ کی طرف سے جس برطانوی جاسوس کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے، یہ برطانوی انٹیلیجنس کی تاریخ میں پہلا کیس کہ وہ اپنا ایجنٹ زندہ نکالنے ناکام رہے ہیں۔ ایرانی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے تفصیلی اعلان کے مطابق برطانوی شہریت رکھنے والے جس ایرانی شہری کو برٹش انٹیلی جنس کے ایجنٹ کے طور پر فساد فی الارض اور جاسوسی کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہے۔ جاسوسی کے ذریعے ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں ملوث علی رضا اکبری نے جاسوسی کرکے 18 لاکھ 5 ہزار یورو، 2 لاکھ 65 ہزار پاؤنڈ اور 50 ہزار ڈالر وصول کیے تھے۔

جاسوس کی برطانوی انٹیلجنس کے نزدیک حیثیت:
اکبری کیخلاف مقدمے کی سماعت کرنیوالی اور سزا دینے والی عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے ریکارڈ میں اکبری کے جرائم کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس اعلان کے مطابق مجرم نے گذشتہ سالوں میں ملکی سلامتی کیخلاف مذموم حرکات، برطانوی ایما پر اسپوناج سرگرمیاں، دنیا کے مختلف ممالک میں ایم آئی سیکس کے افسروں سے متعدد اور مسلسل ملاقاتیں، ایک لمبی مدت تک جاسوسی سرگرمیوں کے ذریعے ملکی داخلی و خارجی سلامتی کو نقصان پہنچایا، جس سے ملکی نظم و نسق تہہ و بالا ہوگیا۔ اس ضمن میں برطانوی انٹیلی جنس کے اقدامات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جاسوس ان کے لیے کس قدر کارآمد، اہم اور قابل اعتماد تھا۔

جاسوس کو کن کن چیزوں کی تربیت دی گئی اور کیا وسائل مہیا کیے گئے:
برطانوی انٹیلی جنس کی جانب سے جاسوسی کی مکمل ٹریننگ دی گئی، جیسا کہ:
۱۔ برطانوی انٹیلیجنس کے افسروں سے ملاقاتوں کے دوران اپنا پیچھا کرنیوالے کو چکمہ دینا۔
۲۔ پوچھ گچھ یعنی انٹروگیشن میں دھوکہ دیتے ہوئے رازوں کو چھپانا اور تفتیش کرنیوالوں کی توجہ اصل موضوع سے ہٹائے رکھنے کی ٹریننگ دی گئی۔
۳۔ مختلف روپ دھارنا اور جاسوسی کے لیے بھیس بدلنا۔
۴۔ مطلوبہ معلومات اور انٹیلیجنس اکٹھا کرنے کی ٹریننگ دی گئی، تاکہ جاسوس ایسے افراد تک رسائی حاصل کرسکے، جو زیادہ زیادہ اور مخفی معلومات رکھتے ہیں۔
۵۔ ایرانی کاونٹر انٹیلی جنس کو دھوکا میں رکھنے کے لیے بیرون ملک فرضی کمپنی کھولنے کا انتظام کروایا گیا۔
۶۔ برطانوی انٹیلجنس سے خصوصی طور پر رابطہ رکھنے کے لیے جدید آلات کی فراہمی اور استعمال کی ٹریننگ دی گئی۔

۷۔ برطانوی جاسوس ادارے کے ہینڈلر کیساتھ مکمل رابطہ برقرار رکھنے کا انتظام کروایا گیا۔
۸۔ ایران سے فرار کی مکمل مدد اور پناہ کی یقین دہانی کروائی گئی۔
۹۔ برطانیہ کے دوست ممالک کی ایجنسیوں کیساتھ معلومات کے تبادلے کی سہولت فراہم کی گئی۔
۱۰۔ ورغلانے اور جاسوسی کے مقصد کو پورا کروانے کے لیے کثیر مالی تعاون کے ذریعے مسلسل ترغیب دی گئی۔
۱۱۔ تھرڈ پارٹی سے فائدہ اٹھانے کی سہولت دی گئی، یعنی برطانیہ کے علاوہ کچھ ممالک سے متعارف کرویا گیا۔ کئی انٹیلیجنس افسروں سے ملاقاتیں کروائی گئیں۔
۱۲۔ خاص مشن کے دروان پکڑے جانے کی صورت میں برطانوی شہریت دینے کا یقین دلایا کیا گیا۔
مذکورہ بالا تفصیلات کے علاوہ مجرم کے بار بار ملک میں آنے جانے سمیت برطانوی انٹیلیجنس کے تمام اقدامات کا ذکر بھی عدالت کی طرف سے جاری کیے کاغذات میں موجود ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ MI6 کے لیے اس جاسوس کی اعلیٰ سطحی اہمیت تھی۔

علی رضا اکبری کو برطانوی انٹیلیجنس نے کس طرح تیار کیا:
ایران سے باہر جانے اور برطانیہ میں قیام کے دوران جاسوس کو لندن کے اسٹڈی سنٹرز کیساتھ منسلک کیا گیا۔ یہ وہ مطالعاتی ادارے ہیں، جنہیں ایسی معلومات فراہم کی گئی تھیں، جو پہلے سے ایران میں جاسوسی کرنیوالے افسروں زیرانتظام تھے۔ لیکن اس کے باوجود ایرانی کاونٹر اینٹیلیجنس نے کمال مہارت سے علی رضا اکبری کے برطانوی خفیہ اداروں کیساتھ تعلقات کا پتہ لگایا اور آہستہ آہستہ برطانوی اداروں کے میکنزم تک رسائی حاصل کرتے ہوئے، مرضی کی معلومات انڈیلنا شروع کیں۔ برطانوی اداروں نے علی رضا اکبری سے تجارتی سرگرمیوں کے بہانے تعلقات کا آغاز کیا اور بعد میں ریسرچ کے نام پر اپنے ساتھ رکھا۔ اس دوران ایک اور ایرانی شہری بھی سرگرم رہا۔ برطانیہ کے لیے جاسوس کے جرم میں سزا پانے والے نے جب بھی آسٹریا کا سفر کیا، اسے مارک کے فرضی نام سے پہچانے جانے والے ایم آئی سیکس کے خاص افسر سے ملاقات کروائی گئی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق برطانوی ادارے نے نئے سے نئے جاسوسی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے رضا اکبری کی سرکاری حیثیت، زیادہ اور اہم معلومات تک رسائی کیوجہ سے تجارتی ویزے کے حصول کو ایک بہانہ بنایا اور برطانوی سفارت خانے میں موجود جاسوس اداروں کے ایجنٹ سے ملاقاتوں کا بندوبست کیا۔ پھر اسی تجارتی ویزے کے حصول کے بہانے برطانوی جاسوس ادارے کے ایجنٹوں نے رضا اکبری سے سفارت خانے کے باہر مختلف جگہوں پر ملاقاتیں کیں اور رضا اکبری نے دشمن کی مطلوبہ کلاسفائیڈ دستاویزات انہیں دیں۔ اکبری نے برطانوی اداروں کو بتاتا رہا کہ وہ میری طرف سے ایسے معلومات اور سفارشات کا انتظار کریں کہ ایران برطانیہ کی دلچپسی کے موضوع پر کیا کرنے جا رہا ہے، انٹیلیجنس کا کونسا بااختیار افسر اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔

اکبری کے بارے میں سامنے آنیوالی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک عرصہ قبل جب رچرڈ ڈالٹن ایران میں برطانوی سفیر تھا، اس وقت اسی کیساتھ گفتگو میں اس تہران میں ایسے ہی اسٹڈی سنٹر کا ذکر کیا، جو لندن کے مطالعاتی سنٹر کی طرز پر ہی بتایا گیا۔ اس دوران برطانوی سفیر نے اسٹاف افسر کو خصوصی طور پر علی رضا اکبری سے تعلقات مضبوط کرنے اور دیرپا بنانے کے حوالے سے تاکید کی۔ ایرانی سال ۸۳ میں برطانیہ کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزا پانے والے مجرم کو برطانوی سفیر کے توسط سے وی آئی پی ویزہ جاری کیا گیا۔ ایرانی سال ۸۸ تک علی رضا اکبری ایران سے باہر کئی ممالک انگلینڈ، سپین، جرمنی، اٹلی، آسٹریا، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات میں جاتا رہا، اس دوران برطانوی اداروں کا ایک ایجنٹ ملا، جس نے اپنے بارے میں اسے پہلے فوکس نامی تحقیقاتی ادارے کا مشیر کا بتایا، بعد میں ظاہر کر دیا کہ وہ برطانوی اینٹیلیجنس کا ایجنٹ ہے۔ اس نے زور دیا کہ تحقیقاتی ادارے کا حصہ ہی شمار ہوں اور فوکس ایک ایسا ادارہ ہے، جو رسک میجمنٹ پر کام کرتا ہے، یہ کام دوسرے اداروں اور انویسٹرز کی رہنمائی کے استعمال ہوسکتا ہے۔

ایرانی سال 1386، میں رضا اکبری کا سفر اور ملاقاتیں محدود ہوئیں، اس دوران ایک جارج نامی برطانوی افسر خفیہ طریقے سے رابطے، معلومات کے حصول اور اس کی صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے اکبری کو ایپل کا لیپ ٹاپ دیا۔ اکبری نے معلومات کے تبادلے کے دوران برطانوی خفیہ ایجنسی کے آفیسرز کو اسٹرٹیجک سطح کی ملکی علاقائی داخلی و خارجی سیاست، دفاعی راز، میزائیل پروگرام کی معلومات، جوہری معاہدہ پر مذاکرات اور ایران کیخلاف اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے ہونیوالے مذاکرات کے متعلق معلومات دیتا رہا۔ جارج، مارکو، کولین، جیسیکا، ڈیوڈ کے فرضی ناموں سے برطانوی جاسوس اداروں کے افسروں نے رضا اکبری سے ملاقاتیں کیں۔ سزا پانے والے جاسوس نے انویسٹیگیشن اور انٹروگیشن کے اسپیشلسٹ امام زمانہ علیہ السلام کے گمنام مجاہدین کو بتایا کہ ایم آئی سیکس نے ایران کے مختلف شعبوں کے بارے میں 2000 سوالات کیے اور اس نے ان کو جوابات دیئے۔

اس دوران اکبری نے ایرانی حکام سے مختلف حوالے سے ان کی آراء معلوم کیں اور یہ معلومات برطانوی اداروں کو پہنچائیں۔ اس نے مختلف انداز میں بات چیت کے انداز میں ایسے موضوعات پر ایرانی حکام سے معلومات حاصل کیں، جو ایم آئی سیکس کو مطلوب تھیں۔ شہید سائینسدان محسن فخری زادہ سمیت 178 ناموں کے بارے برطانوی اداروں کی جانب سے پوچھا گیا۔ دشمن ملک کے جاسوس ادارے کو جو معلومات دی ہیں، ان میں شہید محسن فخری زادہ کو ٹیکنالوجی کے میدان کا ایک بنیادی عنصر متعارف کروایا۔

برطانوی افسروں کیساتھ ملاقاتوں کو خفیہ رکھنے کے خصوصی انتظامات:
ایم آئی سیکس کے کسی بھی افسر نے جس ملک کے جس ہوٹل میں بھی اکبری زادہ سے ملاقات کی، اس سے پہلے وہاں کمرہ بک کروایا جاتا تھا، یا کسی تیسرے قابل اعتماد ایجنٹ کے فلیٹ پر ملاقات کا اہتمام کیا جاتا۔ میٹنگ کے لیے جس کمرے میں اکٹھے ہوتے، اس میں داخل ہونے سے پہلے خاص ردھم کیساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جاتا۔ گفتگو کے دوران ٹیلی ویژن چلائے رکھتے، اگر کوئی تحریر موجود ہوتی تو اسے ٹکڑے ٹکرے کر دیا جاتا اور واش روم کے ذریعے پانی میں بہا دیا جاتا۔ ملاقاتوں سے پہلے احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھا جاتا۔ اکبری زادہ جب اپنے گھر سے باہر جاتا تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جاتا، اسی طرح اپنے ٹیلی فون سے تمام ڈیٹا صاف کر دیتا۔ اکبری کو یہ بتایا گیا تھا کہ ملک سے باہر ہی اخراجات کریں، تاکہ ملک میں ان کا ریکارڈ نہ رہے۔ اکبری نے کچھ رقم اپنے ملک میں حاصل کی اور ایک حصہ اسپین کے بنک میں جمع کروایا گیا اور ایک حصہ آسٹریا کے بنک اکاونٹ میں جمع کروایا گیا۔بشکریہ اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

واہ رے تجربہ کارو!

  (ذکیہ نیئر زکی)  اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں …