جمعرات , 2 فروری 2023

حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا اور اجتماعی ذمہ داریاں

(تحریر: ظفر اقبال)

حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں
قَدْرُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ هِمَّتِهِ
انسان کی قدر و قیمت اسکی ہمت و قوت کے مطابق ہے

امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا یہ ارشاد گرامی آج ہمارے لئے ایک بہترین معیار ہے کہ ہماری قدر و قیمت کیا ہے۔ دوسری چیز جو انسان کی قدر و قیمت کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ یہ کہ اس کا اجتماعی زندگی میں کتنا اثر ہے اور اس سے معاشرے نے کتنا استفادہ کیا ہے اور اسکے اثرات کہاں کہاں اور کس کس زمانے میں مترتب ہوئے ہیں۔ کیوں انبیاء کرام اور اہلبیت علیھم السلام کی شخصیات بزرگ ہیں۔ اس کی متعدد دلائل ہوسکتے ہیں ان میں ایک دلیل ان کا اجتماعی کردار ہے کہ جس نے انسانی معاشرے پر عمیق اثر چھوڑا ہے اور زمانہ گزرنے سے یہ اثرات کم نہیں ہوئے۔ ان عظیم مقام اور باعظمت شخصیات میں ایک اسوہ کاملہ حضرت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا کی ذاتِ مبارکہ ہیں جو لیلۃ القدر و امانت خداوند عالم ہے۔ اس لئے تو قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے

اِنَّآ اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے

یعنی یہ ہماری تھی ہم نے آپ کو یہ نعمت عطا کی ہے۔ اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اس امانت خدا کا کھڑے ہوکر اور سر اور ہاتھوں پر بوسہ دے کر احترام فرماتے تھے۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ شادی کرتے وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ’’یا علیؑ، زہراؑ کا خیال رکھنا، یہ امانت خدا و رسولؐ خدا ہے‘‘۔ اس ہستی کے فضائل بیان سے باہر ہیں، اس ہستی کے فضائل قرآن کریم میں خداوند کریم آیت تطہیر اور آیت مباہلہ میں بیان فرماتا ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ہستی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے‘‘ یعنی جو جو فضیلت و کمالات مجھے عطا ہوئے ہیں ان سب میں یہ راز و عطیہ الہٰی شریک ہے۔

امام مہدی علیہ السلام جو سب کے لئے اسواہ کاملہ ہیں، وہ اس باعظمت نور الہٰی کے بارے میں فرماتے ہیں ’’اِنَّ لی فی ابنة رسولِ الله اُسوةٌ حَسَنَةٌ، میرے لئے رسول خدا کی بیٹی اسوہ حسنہ ہیں (الغیبۃ طوسی ص 286)۔ امیر المومنین علی ابن ابیطالبؑ کہ جن کی ایک ضربت ثقلین کی عبادت سے افضل ہے فرماتے ہیں ’’نِعمَ العَونُ عَلى طاعَة الله‘‘ میں نے فاطمہؑ کو عبادت و بندگی خدا میں بہترین مددگار پایا ہے۔ جو تمام عالم کے لئے مشکل کشا ہیں ان کی مشکل کشا کا نام فاطمہؑ ہے۔ وہ جو جنت کے سردار ہیں ان کی بہشت کا نام فاطمہؑ ہے۔ وہ جو رحمت العالمینؐ ہیں ان کی رحمت کا نام فاطمہؑ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس ہستی کو سوائے خدا اور حجت خدا کے علاوہ کوئی بھی درک نہیں کرسکتا۔

یہ سر الہی ہے اور ان کی زندگی ہمارے لئے اسوہ کاملہ ہے، ان کو آج معاشرے میں متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اجتماعی مسائل سے دوچار ہے اور بعض اوقات ہم اس راہ حل ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جو خود اجتماعی مسائل کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جن ہستیوں کو ان اجتماعی مسائل کا راہ حل قرار دیا ہے ان میں ایک عظیم مقام کی حامل شخصیت حضرت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا کی ذاتِ مبارکہ ہیں۔ اس ہستی کی زندگی کا ہر عمل و دستور ہمارے لئے اسوہ کاملہ ہے۔ یہاں فقط چند اجتماعی پہلوؤں کی طرف نہایت مختصر اشارہ کرنا مقصود ہے۔

معرفت کا منبع و محور
علامہ سید جعفر مرتضی عاملی لکھتے ہیں کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی الہٰی و نورانی شخصیت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپ کا ہمیشہ احترام کرنا یہ چیز باعث بنی کہ اس معاشرے کے دین دار افراد کے لئے آپ کی شخصیت ایک معرفت اور اسلامی فکر کا مرکز بن گئی اور لوگ آپ سے علم ومعرفت کسب کرتے تھے۔ یہی اس ہستی کا عمل آج ہمارے لئے اسوہ ہونا چاہیئے کہ ہم میں ہر ایک اول خود علم و معرفت سے مزین ہو اور پھر اپنے معاشرے کو اس سے مزین کریں۔ اس لئے کہ انسان کی سب سے بنیادی ترین ضرورت یہی دین اور اس کی شناخت ہے کہ جس کے لئے خداوند کریم نے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور آسمانی کتابوں کو بعنوان دستور العمل نازل فرمایا۔

شرعی احکام کی تعلیم
حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کا ایک اہم کام اس زمانہ میں جب اسلام اپنی ابتدائی مراحل میں تھا اور لوگوں کو خصوصاً خواتین کو شرعی مسائل سے آگاہی بہت لازمی تھی۔ اس وقت مدینہ منورہ کی خواتین کا احکام شرعیہ کے لئے منبع حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی ذاتِ مبارکہ تھی اور خواتین شرعی مسائل کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتی تھی۔ امام حسن عسکری علیہ السّلام فرماتے ہیں ایک دن ایک خاتون حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں حاضر ہوتی ہے اور کہتی ہے میری ایک سن رسیدہ ماں ہے، اس کو نماز کے مسائل میں شک ہوتا ہے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ سے سوال کرو۔ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے اس کے سوال کا جواب دیا، پھر اس نے دوسرا سوال کیا بی بی نے جواب دیا پھر تیسرا سوال یہاں تک کہ اس نے دس سوالات کئے اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے بہت ہی صبر و تحمل سے جوب دیا اور اس خاتون نے جب زیادہ سوال کئے تو شرمندہ ہوگئی اور کہا اے رسول خدا کی بیٹی میں نے آپ کو زحمت دی ہے۔ بی بی نے فرمایا جب چاہے آسکتی ہیں اور جو بھی چاہے سوال کرسکتی ہیں۔

الہٰی معارف کا بیان
حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی اجتماعی ذمہ داری میں ایک مہم ترین ذمہ داری الہٰی معارف کو بیان فرمانا تھا، اگرچہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد آپ کی عمر مبارک بہت کم تھی اور کچھ نادان لوگوں کی وجہ سے یہ فیض الہٰی، امت اسلامی سے بہت جلدی ظاہری طور پر جدا ہو جاتا ہے۔ ایک دفعہ ایک مومن و مکتب اہلبیت علیھم السلام سے تعلق رکھنے والے فرد نے اپنی زوجہ کو حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کے پاس بھیجا کہ حضرت زہراء سے سوال کریں آیا میں، آپ کے شیعوں میں سے ہو یا نہیں؟ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے اس کی زوجہ کو یوں فرمایا ’’اِنْ کُنْتَ تَعمَلُ بما اَمَرناک وتَنْتَهی عمّا زجرناک عنه فانت من شیعتنا والا فَلا‘‘ اگر جس چیز کا ہم حکم دیتے ہیں اس پر عمل کرتے ہو اور جس سے نہی کرتے ہیں اس سے دوری اختیار کرتے ہیں تو ہمارے شیعوں میں سے ہیں ورنہ ایسا نہیں کرتے تو ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہیں۔ جب اس شخص نے یہ جواب سنا تو بہت پریشان ہوگیا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوا، افسوس ہے مجھ پر! کون ہے جو گناہوں سے پاک ہو؟ پس میں ہمیشہ جہنم میں رہوں گا اس لئے کہ جو ان کے شیعوں میں سے نہیں اس کا انجام یہی ہے۔

اس کی زوجہ دوبارہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں آتی ہے اور اپنے شوہر کی بات بیان کرتی ہے تو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے جواب میں فرمایا، ان کو کہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ہمارے شیعہ بہشت کے اعلیٰ ترین مقام پر ہونگے اور تمام ہمارے چاہنے والے اور ہمارے چاہنے والوں کے دوست اور ہمارے دشمنوں کے دشمن جو بھی دل و زبان سے ہم اہلبیتؑ کا تابع ہو لیکن ہمارے امر و نہی کی مخالفت کرتا ہو وہ ہمارے سچے اور واقعی شیعوں میں سے تو نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود وہ بہشت میں جائے گا لیکن اس دنیا میں مختلف مصائب اور آزمائشوں کو برداشت کرنے کے بعد، یا قیامت کے دن مختلف سختیوں اور عذاب کے بعد یا جہنم کے اوپر والے طبقات میں رہے گا، یہاں تک کہ ہماری محبت کی وجہ سے ہم ان کو نجات دیں اور اپنے پاس منتقل کرلیں۔ (بحار الانوار ج 68 ص155)۔ یہ واقعہ ہماری زندگی کے لئے ایک نصب العین ہونا چاہیئے اور حضرت کے فرمان گرامی کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔

مدافع رسالتؐ
جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسالت الہٰی پر مبعوث ہوتے ہیں تو بے شمار آزار و اذیت کا سامنا فرماتے ہیں۔ قریش کے لوگ خود بھی بطور مستقیم اور اپنے بچوں کو بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذیت پر ابھارتے تھے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینے کے لئے کسی بھی کام سے دریغ نہیں کرتے تھے، بعض اوقات سر مبارک پر خاک ڈال دیتے تھے اور بعض اوقات پتھر مارتے تھے۔ کبھی جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز میں مشغول ہوتے تو آپ کر حیوانوں کا فضلہ ڈال دیتے۔ اس آزار و اذیت میں ایک مدافع نبوت و رسالت کہ جن کی عمر مبارک پانچ سے آٹھ سال کے درمیان تھی اس ہستی کا دفاع فرماتی ہے۔ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نہ فقط گھر سے باہر بلکہ گھر کے اندر بھی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی رحلت کے بعد اپنے والد بزرگوار کی مرہم پٹی فرماتی تھی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے آرام و سکون کا باعث تھی۔ بعض اوقات علماء کے بیان کے مطابق ان ایام میں ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کو ام ابیہا کا لقب عطا فرمایا کیونکہ ایک والدہ کی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آرام و سکون کا باعث تھی۔

مدافع امامت
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معبوث ہونا تمام انسانیت پر خداوند کریم کی طرف سے سب سے بڑا لطف و کرم تھا اور اس رسالت کی تکمیل امامت کے ذریعے ہی ممکن تھی۔ اس آخری و کامل دین کو اب قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کرنی ہے، اس انسانی ہدیہ کی حفاظت بہت ضروری ہے جیسے یہ ناب و خالص اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، انسان کو مقام انسانیت تک لے جانے کے لئے اس کا ہمیشہ خالص رہنا ضروری ہے اور اس کی حفاظت کے لئے خداوند کریم نے نظام امامت کو نبوت کے بعد جاری رکھا ہے لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب امت امامت کو ترک کرنے لگی اور امام زمان کو اذیت دینا چاہتی تھی تو اس ہستی نے امامت کا دفاع فرمایا اور درحقیقت قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے حقوق کا دفاع فرمایا۔

حضرت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا کو معلوم تھا کہ امت کس قدر گمراہی کا راستہ اختیار کرچکی ہے، اس لئے وہ خود امت کی آگاہی اور بیداری کے لئے اور امامت کے دفاع میں میدان میں آتی ہیں اور اپنے خطبوں اور اقدامات سے امامت کا دفاع فرماتی ہیں۔ اگرچہ یہ دفاع آپ کی شہادت پر ختم ہوتا ہے، البتہ شہادت کے بعد بھی اپنی قبر مبارک کو مخفی کرکے قیامت تک باضمیر انسانوں کے لئے مختلف سوالات چھوڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی زندگی میں ہمسایہ کے ساتھ حسن سلوک، ان کے لئے دعا کرنا اور ان کی مدد کرنا ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے، ہمیشہ ایثار و قربانی آپ کی ذاتِ مبارکہ کا حصہ تھی۔ خداوند کریم ہمیں اس اسوہ حسنہ کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پشاور میں خدا کا گھر جل گیا ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) مسجد اللہ کا گھر اور امن کی جگہ ہے، یہاں پر …