جمعرات , 9 فروری 2023

اسپتالوں کو صاف رکھ کر ان گنت جانوں کو بچایا جا سکتا ہے:تحقیق

جارجیا: ایک نئی تحقیق کے مطابق اسپتال اور کلینک جتنے صاف ہوں گے ان سے مریضوں میں اینٹی بایوٹک مزاحمت (ریسسٹنٹ) اتنی ہی کم ہوگی اور یوں اس عمل سے لاتعداد جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے جریدے ’ارتقا، ادویہ، اور عوامی صحت‘ میں شائع مقالے کے مطابق پہلی مرتبہ آلودہ اور گندے اسپتالوں اور مریضوں میں بے اثر ہوتی ہوئی اینٹی بایوٹک ادویہ کے درمیان ایک تعلق دریافت ہوا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسپتالوں کو صاف رکھنا قدرے آسان اور سستا نسخہ ہے اور خود مریض کے لیے بھی بہت اچھا عمل ہے۔ دوسری جانب اینٹی بایوٹک دوا کے سامنے بیکٹیریا اور جراثیم خود کو بدل کر قوی ہوتے جارہے ہیں اور ہماری تمام دوائیں بے اثر ہوکر رہ گئ ہیں۔

اب معلوم ہوا کہ گندے اسپتال کے ماحول میں بیکٹیریا سخت جان بنتے جا رہے ہیں۔ جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ ڈاکٹر کرسٹوفر وولائن والڈیفوٹ اور ان کے ساتھیوں کا اصرار ہے کہ خود امریکا میں بھی کئی اسپتال صفائی پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔ اس ضمن میں انہوں نے آلودہ اسپتالوں اور بیکٹیریا کی مزاحمت پر ایک ریاضیاتی ماڈل بنایا ہے۔ یہ ماڈل بتاتا ہے کہ اسپتال میں ناکافی صفائی سے کیونکر اور کس طرح جراثیم تگڑے ہوتے جاتے ہیں؟

اس میں امراض سے بچاؤ کے یورپی مرکز کا ڈیٹا بھی لیا گیا ہے۔ یورپ 19 ممالک میں 691 اسپتالوں اور کلینک کا ڈیٹا لیا گیا ہے۔ صفائی کے صرف ایک طریقے یعنی اسٹاف کی جانب سے الکحل والے سینیٹائزر کے استعمال سے ہی اینٹی بیکٹیریا مزاحمت میں کمی دیکھی گئی۔

انہوں نے زور دیا کہ اسپتالوں، تجربہ گاہوں اور کلینک کو ہر صورت صاف رکھا جائے جبکہ اسٹاف کو ہر طرح کی تربیت فراہم کی جائے۔ اس طرح ہم تیزی سے بدلتے ہوئے جراثیم کے سیلاب کے آگے بندھ باندھ سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

صحت مند بننا چاہتے ہیں؟ تو ان عام عادات کو اپنالیں

اسلام آباد:ہم سب ہی صحت مند رہنے کے خواہشمند ہوتے ہیں مگر اس حوالے سے …