بدھ , 1 فروری 2023

کیا شاہد خاقان، مفتاح اسماعیل اور مصطفیٰ نواز نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں؟

(بشیر چوہدری)

پاکستان میں سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ہم خیال لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔

اس بات کو لوگوں کی بڑی تعداد درست اطلاع سمجھ رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں عموماً عام انتخابات سے قبل کوئی نہ کوئی نئی سیاسی جماعت وجود میں آجاتی ہے جو بڑی سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک متاثر کرتی ہے یا متاثر کرنے کے لیے ہی بنائی جاتی ہے۔

اسے درست ماننے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ مفتاح اسماعیل نے وزارت خزانہ سے فراغت کے کچھ عرصہ بعد سے اپنی ہی جماعت کی پالیسیوں اور بالخصوص وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی اپنی جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف کے باعث سینیٹ سے مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ شاہد خاقان عباسی جو ہمیشہ سے ن لیگ کی کابینہ کا حصہ رہے لیکن شہباز شریف کابینہ کا حصہ نہیں بنے۔

یہ معاملہ مصطفیٰ نواز کھوکھر اور مفتاح اسماعیل کی ٹویٹس سے شروع ہوا تھا۔ ان ٹویٹس کی بنیاد پر سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر یہ تاثر پھیلنے لگا کہ یہ رہنما مل کر ایک نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک میڈیا ہاؤس کی جانب سے خبر بھی نشر کی گئی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ لوگ نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں۔

اس معاملے پر اردو نیوز نے شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور مصطفیٰ نواز کھوکھر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن تینوں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

تاہم اس فورم میں شامل ایک اور شخصیت سے رابطہ ہوا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اس ایجنڈے پر مجھے بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ یہ فورم نئی سیاسی جماعت نہیں بنے گا بلکہ کچھ ہم خیال لوگ ملک میں موجود مسائل پر بات کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔‘
کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی مریم نواز کو پارٹی کا سینیئر نائب صدر بنانے اور مفتاح اسماعیل کو ہٹانے پر پارٹی قیادت سے ناراض ہیں اس لیے کچھ عرصے سے نظر نہیں آرہے۔

تاہم وزارت توانائی کے حکام نے اردو نیوز کو تصدیق کی ہے کہ ’شاہد خاقان عباسی وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں توانائی کی وزارت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ گذشتہ روز بھی انھوں نے پاکستان روس مذاکرات کے حوالے سے ایک اجلاس میں شرکت کی اور کئی گھنٹے تک وہ پاک سیکریٹریٹ میں موجود رہے۔‘

خیال رہے کہ 16 جنوری کو مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ٹوئٹر تھریڈ میں لکھا تھا کہ ’ایک غیر جانبدارانہ کوشش میں، میں دوستوں اور ساتھیوں سے پاکستان کے موجودہ معاشی، سیاسی اور سماجی بحران کے بارے میں بات کرتا رہا ہوں جو اب ریاست اور معاشرے کی مرکزی بنیادوں پر ضرب لگا رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں انفرادی اور اجتماعی حقوق شدید دباؤ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں علاقائی اور نسلی تقسیم کے لوگوں میں وسیع پیمانے پر عدم اطمینان ہے۔ یہ مشکل وقت ہم سے ’دوبارہ سوچنے‘ یا ’دوبارہ تصور‘ کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا میں، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، حاجی لشکری رئیسانی،خواجہ محمد خان ہوتی، ہمایوں کرد، فواد حسن فواد، اسد شاہ اور دیگر پاکستان کی گورننس کے ڈھانچے کی تشکیل نو کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے پاکستان بھر میں سیمینارز کے سلسلے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ یہ لوگوں کی امنگوں کو بہتر طریقے سے پورا کر سکے۔ ہم سب سے خوب صورت لیکن سب سے زیادہ نظرانداز صوبے بلوچستان سے آغاز کریں گے اور ہمارا پہلا سیمینار کوئٹہ میں ہوگا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لشکری ​​رئیسانی، ہمایوں کرد اور دیگر دوستوں نے اس سیمینار کی میزبانی کی پیش کش کی ہے جو 21 جنوری 2023 بروز سنیچر صبح 10 بجے نوری خان کلچرل کمپلیکس میں منعقد ہوگا۔ ہم اپنے خوب صورت ملک کی حقیقی صلاحیت کو سمجھنے کے لیے ایک تعمیری بحث شروع کرنے کے منتظر ہیں۔‘

اس کے اگلے روز سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک تھریڈ لکھا جس میں انھوں نے نو نکات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان موضوعات پر یکساں موقف پیدا کرنے کے لیے سیمینارز کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ ‘

’شاہد خاقان عباسی، حاجی لشکری رئیسانی، خواجہ محمد خان ہوتی، ہمایوں کرد، فواد حسن فواد، اسد شاہ، میں اور بہت سے دوسرے ساتھی اہم مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح ہم عام پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان بھر میں سیمینارز کا انعقاد کر رہے ہیں۔‘

مفتاح اسماعیل نے مزید لکھا کہ ’ان سیمینارز کا مقصد یہ ہے کہ ہم جان سکیں اور حل تلاش کر سکیں کیونکہ 75 سال بعد ہمارے نصف بچے سکولوں سے باہر ہیں، 40 فیصد بچے کمزور ہیں، 18 فیصد بچے ضائع ہو رہے ہیں۔ 28 فیصد کم وزن ہیں۔ ہر سال 55 لاکھ نئے بچے پیدا ہوتے ہیں اور 8 کروڑ لوگ غربت سے نیچے ہیں۔ آبادی کی اکثریت زندگی بچانے والی سرجری کی متحمل نہیں ہے۔ بہت زیادہ بے روزگاری ہے۔ بجلی کے زائد نرخوں کی وجہ سے پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ اس لیے ہمارے لیڈروں کو مل بیٹھ کر ان مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ 21 جنوری کو ہمارا پہلا سیمینار اس اتفاق رائے کی طرف ایک قدم ہے۔‘

خیال رہے کہ مفتاح اسماعیل اور مصطفٰی نواز کھوکھر گذشتہ ہفتے لاہور میں ہونے والے ایک مباحثے میں بھی شریک تھے جہاں انھوں نے پاکستان کے مسائل، گورننس اور دیگر معاملات پر کھل کر بات چیت کی تھی۔بشکریہ نیوز اردو

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی ٹینک: اب یوکرین میں

(لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)  (حصہ اول) پاک فوج کی مطالعاتی دنیا میں جب سے آنکھ …