اتوار , 5 فروری 2023

ڈیووس میں پاش پاش دنیا

(تحریر: سید نعمت اللہ)

پیر 15 جنوری سے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کا 53 واں اجلاس شروع ہو چکا ہےجو جمعہ 20 جنوری تک جاری رہنا ہے۔ اس اجلاس کا موضوع "پاش پاش شدہ دنیا میں باہمی تعاون” رکھا گیا ہے جبکہ ڈیووس کے کوہستانی شہر میں سکیورٹی امور کی انجام دہی کیلئے 5 ہزار فوجی تعینات کئے گئے ہیں اور یہ اقدام بذات خود اس موضوع کے معنی و مفہوم کی بخوبی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ شاید اس قدر بڑی تعداد میں فورسز کی موجودگی کی وجہ یہ ہو کہ اس اجلاس میں دنیا کی اہم ترین سیاسی شخصیات نے شرکت کرنا ہے جن میں یوکرین کا حکومتی وفد بھی شامل ہے۔ لیکن یہ محض ایک بہانہ ہے اور اصل وجہ عالمی رائے عامہ کی توجہ دنیا کی عمومی صورتحال سے متعلق پائے جانے والے شدید خوف اور پریشانی کی فضا سے ہٹا کر ڈیووس میں ممکنہ دہشت گردنہ حملے کی جانب مبذول کرنا ہے۔

بہرحال، ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے حالیہ اجلاس کا موضوع ظاہر کرتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فورسز کی موجودگی کی وجہ عالمی طاقتوں کے درمیان خلیج کا زیادہ وسیع ہو جانا اور دنیا کے امیر ممالک میں فوجی سرگرمیاں بڑھ جانا ہے۔ مزید برآں، اس اجلاس میں شرکت کرنے والے اقتصادی رہنماوں کی تعداد میں سب سے زیادہ ہے اور یہ بھی ڈیووس پر چھائی خوف اور پریشانی کی فضا کا سبب ہو سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس اجلاس میں دنیا کی 700 تجارتی اور اقتصادی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 1500 رہنما شریک ہوں گے۔ اسی طرح اس اجلاس میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کے 600 منیجنگ ڈائریکٹرز بھی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے مختلف ممالک کے حکومتی عہدیداروں سے ہٹ کر ہے۔

ڈیووس کے اس اجلاس میں سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں سرگرم کمپنیوں کے عہدیدار بھی شریک ہیں۔ گذشتہ برس دنیا کی اکثر کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ آئی ہے جبکہ اسٹاک ایکسچینجز کے انڈکس بھی کافی حد تک گر گئے ہیں لہذا تصور کیا جا رہا ہے کہ 2022ء ان تمام شرکاء کیلئے بہت مشکل مالی سال رہا ہے۔ اب اکثر ممالک میں سود کی شرح میں اضافہ مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن چکا ہے جبکہ یہ تشویش بھی پیدا ہو چکی ہے کہ کہیں عالمی معیشت کووڈ 19 وبا کے بعد دوسری بار جمود کا شکار نہ ہو جائے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یا آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا اس سے پہلے خبردار کر چکی ہیں کہ ایک تہائی عالمی معیشت کا جمود کا شکار ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔

دوسری طرف بلوم برگ نے ورلڈ بینک کے بقول اعلان کیا تھا: "حتی اگر کوئی نیا بحران جنم نہیں بھی لیتا تب بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حالیہ برس میں عالمی سطح پر معیشتی ترقی شدید گراوٹ کا شکار ہو گی۔ یہ امر بہت زیادہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی پالیسیوں، مالی حالات میں بگاڑ اور یوکرین پر روس کے فوجی حملے سے پیدا شدہ مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔” لہذا ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے حالیہ اجلاس میں شرکت کیلئے اقتصادی رہنماوں کا ہجوم ظاہر کرتا ہے کہ وہ درپیش مشکلات کا حل تلاش کرنے کے درپے ہیں چاہے یہ حل عارضی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح یہ بات بھی دور از امکان دکھائی دیتی ہے کہ ان کے پاس قابل قبول راہ حل پایا جاتا ہو۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ عالمی اقتصادی رہنما حالیہ اجلاس میں زیادہ بولنے کی بجائے زیادہ سننے کیلئے شریک ہو رہے ہیں۔

یہ عمومی صورتحال حکومتی اور پرائیویٹ سیکٹر کے اعلی سطحی اقتصادی رہنماوں کی سرگردانی ظاہر کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ آخرکار راہ حل تلاش کر پائیں گے یا نہیں؟ کم از کم عالمی بینک کے بیانیے میں صرف کلی باتیں کی گئی ہیں اور اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔ اس بیانیے میں راہ حل یوں پیش کیا گیا ہے: "ایسے جمود کا خطرہ کم کرنے کیلئے فوری طور پر عالمی اور قومی کوششوں کی ضرورت پائی جاتی ہے۔” لیکن اقتصادی جمود، عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ، یوکرین جنگ کے باعث اشیاء کی ترسیل میں خلل پڑ جانے اور کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلاو کی وجہ سے یہ عالمی اور قومی کوششیں عالمی معیشت کی موجود صورتحال پر زیادہ موثر واقع نہیں ہو سکیں گے۔

شاید اسی وجہ سے ورلڈ اکنامک فورم کے بانی کلاوس شواب نے ڈیووس اجلاس کے قریب صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا: "معیشتی، ماحولیاتی، سماجی اور جیوپولیٹیکل بحران آپس میں اکٹھے ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے انتہائی غیر یقینی مستقبل پیدا ہو گیا ہے۔” ان سب کے علاوہ سیاست اور اقتصاد چلانے والوں کیلئے اہم ترین مسئلہ یہ ہو سکتا ہے کہ گلوبلائزیشن کا عمل کس طرف جائے گا اور کیا موجود صورتحال گلوبلائزیشن کی موت کیلئے الٹی گنٹی بن چکی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی لبرل نظام، گلوبلائزیشن کی راہ میں موجود رکاوٹوں اور مشکلات کی تشخیص دے کر اسے زوال پذیر ہونے سے بچانے کی بھرپور کوششیں انجام دیں گے لیکن بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "ایک پاش پاش شدہ دنیا” میں گلوبلائزیشن کو آگے بڑھانا کیسے ممکن ہے؟بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکا نے چینی جاسوسی غبارے کے پیش نظر 3 ائیرپورٹ بند کر دیے

نیویارک :امریکا نے چینی غبارے کے معاملے پر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 3 ائیرپورٹس …