بدھ , 8 فروری 2023

پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف سازش

(تحریر: سید رضا میر طاہر)

ایران کے اندرونی معاملات میں یورپی یونین کی مداخلت کا سلسلہ جاری ہے اور آج کل یورپی پارلیمنٹ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔ ایران میں بدامنی کے حوالے سے منگل کے روز یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس پارلیمنٹ کے نمائندوں نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنے، تہران کے خلاف انسانی حقوق کی پابندیاں تیز کرنے اور اسلامی جمہوریہ کو جوابدہ ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن "عبیر السهلانی” نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب اسلامی یورپ کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہونے کے بہت قریب ہے۔ ادھر برطانیہ بھی پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ 11 جنوری کو برطانوی ہاؤس آف کامنز نے متفقہ طور پر ایک تحریک کی منظوری دی، جس میں ملک کی حکومت سے انقلابی گارڈز پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا کہا گیا تھا۔

یہ منصوبہ غیر قابل اجرا ہے اور اس ملک کے ایک ریگولیٹری ادارے کی جانب سے اس طرح کے اقدام کے حوالے سے انتباہ کے باوجود برطانوی پارلیمنٹ میں اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ترجمان نظام الدین موسوی نے اپنے ذاتی صفحہ پر ایک ٹوئٹ کیا ہے اور یورپی پارلیمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کے خلاف کسی بھی قرارداد کو ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے فیصلہ کن جواب اور جوابی کارروائی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔ اپنے ٹویٹ کے تسلسل میں، انہوں نے مغربی ممالک کی طرف سے پابندیوں اور پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے اسے محض ایک مضحکہ خیز اور شیطانی پروپیگنڈہ چال کہا ہے۔ یاد رہے برسلز میں یورپی یونین کے ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاملے کا نتیجہ فروری 2023ء کے آخر تک واضح ہو جائے گا۔ اس لیے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیئے کہ 23 ​​جنوری کو برسلز میں وزرائے خارجہ کی کونسل کے اگلے اجلاس میں اس معاملے پر بحث مکمل ہو جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ جرمنی، ہالینڈ اور جمہوریہ چیک آئی آر جی سی کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کے حق میں ہیں۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دینے کے سلسلے میں یورپی یونین اور اس کے اداروں جیسے یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ کوشش درحقیقت یورپیوں کی طرف سے امریکہ کی اندھی اور احقمانہ پیروی ہے۔ 8 اپریل 2019ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی میدان میں ایک بیہودہ اقدام اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ایک بیان پر دستخط کرتے ہوئے پاسداران انقلاب اسلامی کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر متعارف کرایا اور اس کے خلاف وسیع پابندیوں کا اعلان کیا۔

اس طرح، IRGC یعنی سپاہ پاسداران کے خلاف اپنی کارروائی سے ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی قانون کو تباہ کرنے اور عالمی اصولوں کو منہدم کرنے کی راہ میں ایک نیا قدم اٹھایا۔ اب یورپی، جو ایک بار پھر ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں امریکہ کے ساتھ ٹرانس اٹلانٹک کنورژن کی طرف بڑھ رہے ہیں، واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگ اور ایران کے خلاف دباؤ کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ، اس ناکام تجربے کو دہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکہ پاسداران انقلاب پر پابندیاں لگا رہا ہے، تاہم اس میدان میں کئی سنجیدہ تحفظات موجود ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ یورپی یونین کے ممالک مشرقی یورپ میں یوکرائنی جنگ کے جاری رہنے اور اس کے نتائج کی وجہ سے اب ایک ناموافق اور نازک معاشی اور سماجی صورت حال کا شکار ہیں، ان کی طرف سے ایران کے خلاف نئی مہم جوئی، جو یقیناً تہران کی جانب سے شدید ردعمل کا باعث بنے گی، ان کے لیے موجودہ حالات کی پیچیدگیوں اور مشکلات میں اضافہ ہی کرے گی۔

دوسرا، سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا ایک حصہ ہے، جس کی مغربی ایشیائی خطے بالخصوص شام اور عراق میں مغرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑائی کی ایک طویل اور موثر تاریخ ہے، جس نے اس خطے میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے اسے دہشت گرد قرار دینے کا امکان نہ صرف بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے بلکہ درحقیقت علاقائی امن و سلامتی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ایک اور مسئلہ یورپی یونین کے اداروں بشمول یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کمیشن کی جانب سے پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دینے کے ممکنہ نتائج کا ہے، کیونکہ انہیں تہران کی جانب سے یقینی طور پر فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ IRGC کے سیاسی بیورو کے سربراہ جنرل "رسول سنائی راد” نے کہا ہے کہ سپاہ کو دہشت گرد قرار دینے سے برطانیہ اور اس کے یورپی اور امریکی اتحادیوں کے لیے تناؤ و کشیدگی کی سطح میں اضافہ ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ملک کی سرکاری اور قانونی مسلح افواج کا حصہ ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی اقدام ایرانی نظام اور خود مختاری کے خلاف اقدام تصور کیا جاتا ہے، لہذا اسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جائیگا۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

لکی مروت؛ مشترکہ آپریشن میں 12 دہشت گرد ہلاک، پولیس

لکی مروت: سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 12 دہشت گرد ہلاک ہو …