بدھ , 1 فروری 2023

پنجگور کے شہداء پر حملے کی مذمت

(تحریر: شبیر احمد شگری)

گذشتہ وقتوں میں کبھی علاقائی کبھی مذہبی فرقہ بندی تو کبھی کسی اور بات کو ایشو بنا کر اس کی آڑ میں دہشتگردی کی جاتی رہی ہے۔ کہیں بم دھماکے تو کہیں ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات میں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جاتا رہا۔ لیکن اب دشمن کا یہ چورن نہیں بکنے والا۔ کیونکہ اب عوام یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ ہمارا دشمن کون ہے؟ ملک عزیز پاکستان کا کوئی بھی محب وطن شہری کبھی پاکستان سے غداری کا مرتکب نہیں ہوسکتا، کبھی اس ماں دھرتی کی جڑیں کھوکھلی نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ایسا ہے تو ان شاء اللہ نہ اسے اس دھرتی پر کوئی عزت ملے گی اور آخرت میں بھی جہنم اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ پاکستان کے وفادار شہری اور سکیورٹی اداروں کے افراد اس ملک کے نام پر اپنی قیمتی جانیں لٹاتے اور شہید ہوتے رہے ہیں، لیکن ان شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہ شہداء کا خون ہی ہے کہ اس ملک کے گلشن کی آبیاری کرتا رہا ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے سرحدی علاقے پنجگور میں دہشتگردوں نے ایرانی سرزمین سے معمول کی پیٹرولنگ پر مامور سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا، جس میں چار اہلکار شہید ہوگئے۔ یہ کارروائی اس سکیورٹی آپریشن کے ردعمل کے طور پر نظر آتی ہے، جب بدھ کی صبح بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں چار دہشت گرد ہلاک کئے تھے، جبکہ ان کے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں دیسی ساختہ بم، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونیوالے دہشتگرد فورسز اور شہریوں پر حملوں کے علاوہ بم نصب کرنے کے واقعات میں ملوث تھے۔ اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے سرحدی علاقے میں پاک فوج کے سرحدی محافظوں پر نامعلوم مسلح افراد کے دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں چار پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ اپنی جان فدا کرنیوالے ان پیاروں کی بلندی درجات کی دعا اور پسماندگان کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔ دہشتگردی ایران اور پاکستان کا مشترکہ درد ہے اور دونوں ممالک اس مذموم رجحان کا شکار ہوئے ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ پاکستان پُرعزم ہے، تاکہ اپنی سرزمین کو سرحدی حملوں سے بچایا جا سکے اور دہشتگرد عناصر کی آمدورفت کو ایران کیخلاف استعمال نہ کیا جائے۔ ایران اور پاکستان دوست اور ہمسایہ ممالک ہیں اور ہمارے پاس بات چیت اور مسائل کی پیروی کیلئے ضروری میکانزم موجود ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ پڑوسی ملک کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔ ان شاء اللہ ایرانی حکومت بھی بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ان ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائے گی، جو اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کیلئے اس طرح کے سازشی اقدامات سے پاکستان اور ایران دونوں برادر اسلامی ممالک کے دوستانہ روابط کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں ممالک مل کر دشمنوں کے ان عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے، پہلے بھی ایسی سازشیں کی گئی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح دونوں برادر ممالک پاکستان اور ایران جس کے درمیان ایک طویل سرحدی لکیر موجود ہے، کے تعلقات کو خراب کیا جائے۔ لیکن یہ دشمن کی بھول ہے اور ان شاء اللہ اس کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ یہ دونوں ہمسایہ ممالک اور ان کے سکیورٹی ادارے ان سب سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس طرح کے کسی بھی ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے اور دشمن کو کبھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستان اور ایران دونوں اسلامی جمہوریہ ممالک ہیں اور ایک کی ایٹمی طاقت اور دوسرے کا انقلاب دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ دونوں ممالک اسلام کے نام پر بنے ہیں اور دونوں ممالک کی اسلام کیلئے بے مثال قربانیاں ہیں۔ دشمن کبھی نہیں چاہتا کہ یہ ممالک قریب آئیں اور ان کے روابط مستحکم ہوں، جبکہ یہ ان کی بھول ہے۔ پاکستان اور ایران قدیم مذہبی، ثقافتی، علمی اور بے شمار گہرے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ جب بھی اس ملک میں ترقی کی راہ پر چلنے کی کوشش کی جائے اور کوئی اہم کام انجام دیا جائے، دشمنوں کے پیٹ میں مروڑ شروع ہو جاتا ہے اور کوئی نہ کوئی دہشتگردی کا واقعہ یا کوئی ایسی حرکت سامنے آتی ہے کہ جس سے ملک کی سلامتی کو چیلجنج کیا جائے۔ اللہ پاک دونوں برادر ممالک کے روابط کو حاسدین اور دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

تین چار روز پہلے ہی پاکستان اور ایران کے درمیان 39 نکات پر مشتمل اہم معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ یقیناً یہ معاہدہ بھی دشمن کی نظر میں لازمی کھٹکے گا۔ پاکستان اور ایران کے مابین صنعت و تجارت، امپورٹ ایکسپورٹ، ٹرانسپورٹیشن، نئی جوائنٹ بارڈر مارکیٹس کا قیام، مشترکہ علاقائی نمائشوں کا انعقاد، بارٹر ٹریڈ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے، نئے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے قیام، تفتان بارڈر کے اوقات کار بڑھانے، فریش فروٹس پر امپورٹ ٹیرف میں کمی لانے، مختلف شعبہ جات میں ایک دوسرے کی تیکنیکی معاونت کرنے، جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے ایک سال کیلئے کوئٹہ اور زاہدان چیمبر میں سیکرٹریٹ کا قیام، فلائٹس اور فیری سروس شروع کرنے و دیگر 39 نکات پر مشتمل مفاہمت کے یاداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ اللہ کرے دونوں برادر ممالک پاکستان و ایران کے روابط مزید محکم ہوں، تاکہ ہم اپنی ضروریات ایک دوسرے کی مدد سے پوری کرسکیں۔ بہت سی جنگیں پہلے کی طرح اب محاذوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ ملک میں موجود دشنمن عناصر کی مدد سے ملک کو غیر متزلزل صورتحال سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے بہت سے دشمن ہیں، جو کبھی اس ملک کا استحکام اور ترقی نہیں دیکھ سکتے۔ اس میں بہت سا قصور ہمارا اپنا بھی ہے کہ ہم نے بیرونی طاقتوں کو آقاوں کی صورت اپنے معاملات پر مسلط کیا اور اپنے استحکام اور سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ مسلمان ہوتے ہوئے ہم خدا سے مانگنے کی بجائے اور اس ملک میں خدا کے عطا کردہ وسائل سے مالا مال ہوتے ہوئے بھی دنیاوی آقاوں کے سامنے کاسہ لئے پھرتے رہے اور ملک کو اس حال پر پہنچا دیا کہ اپنی مرضی کے قیصلے نہ کرسکیں۔ ہم نے اپنے پیروں میں ایسی بیڑیاں ڈلوا دیں کہ چاہیں بھی تو ان کی گرفت سے نہ نکل سکیں۔ حالانکہ ہم ان سے چھٹکارا بھی پا سکتے ہیں، اگر صحیح معنوں میں دین خدا کی طرف آئیں اور اللہ سے گڑگڑا کر معافی مانگیں کہ وہ ہمیں ان مشکلات سے نجات دے۔ ہمارے حکمران یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ بھکاریوں کو انتخاب کا حق نہیں، جبکہ عوام کو بھکاری بناتے بناتے سیاست دان خود امیر سے امیر تر ہوتے گئے ہیں اور ملک کی جڑیں روز بروز کھوکھلی ہوتی گئیں۔ بیرونی ہاتھوں میں کھلونا بن کر ہمیں کبھی آپس میں لڑایا گیا، کبھی مذہب کے نام پر کبھی ذات کے نام پر، کبھی قوم کے نام پر۔

کیا وجہ ہے کہ آج ہم مسلمان ایک خدا کا کلمہ پڑھتے ہوئے بھی اکٹھے نہیں ہیں، جبکہ کفار کے الگ الگ خدا ہیں اور اس کے باوجود ایک ہیں۔ جب تک ہم اس پر غور نہیں کریں گے اور آپس میں متحد نہیں ہوں گے، تب تک ہم کامیاب نہیں ہوسکتے اور دشمن نقب لگاتا رہے گا۔ دشمن ہمیں کبھی طاقتور نہیں ہونے دیگا، ورنہ اس کی دال کیسے گلے گی اور وہ وسائل جس سے خدا نے مسلمانوں کو مالا مال کیا ہوا ہے، انہیں کیسے حاصل کرے گا۔ یہ اور بات ہے کہ یہ مسلمانوں کی بدبختی ہے کہ اللہ کے عطا کردہ ان وسائل پر ہم نے صبر و شکر کرکے اس سے استفادہ کرنے کی بجائے ان کی حفاظت بھی نہیں کی اور اغیار کے ہاتھوں میں بکتے اور کھلونا بنتے رہے۔ اگر مسلمانوں نے اپنی غیرتیں فروخت نہ کر دی ہوتیں تو آج قبلہ اول اور فلسطین آزاد ہوتا، کشمیر آزاد ہوتا اور مسلمانوں کیخلاف کسی کی سوچنے کی بھی جرات نہ ہوتی۔ جو ملک نام نہاد سپر پاور کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے، انہیں باقاعدہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ حالانکہ ہم ان سپر پاورز کا حال گذشتہ سالوں میں کرونا کے دوران دیکھ چکے ہیں، جب ان کو اللہ کی ایک چھوٹی سی اور آنکھ سے نظر نہ آنیوالی مخلوق اور جراثیم نے تگنی کا ناچ نچا دیا تھا۔ اس وقت ان کی سپر پاوری کہاں گئی۔؟

کاش ہم بحیثیت مسلمان عملاً بھی اس عقیدے پر ثابت قدم ہو جاتے کہ سپر پاور اس جہاں میں صرف اللہ کی ذات ہے تو ہمیں کہیں اور جھکنا نہ پڑتا۔ اللہ تمام عالم اسلام، پاکستان اور ہمسایہ برادر ملک کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور سلامتی عطا فرمائے۔ پاکستان کے اداروں نے اور عوام نے دہشت گردی کے نام پر بہت قربانیاں دی ہیں۔ خدارا فوج کسی ایک یا دو افراد کا نام نہیں بلکہ ایک پورا محترم ادارہ ہے، ہمارے لئے اس دارے کا ہر وہ سپاہی قابل احترام ہے، جو مختلف محاذوں پر لڑ رہا ہے اور اس دھرتی کی سالمیت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ جن کی وجہ سے ہم راتوں کو گھروں میں سکوں سے سوتے ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی ٹینک: اب یوکرین میں

(لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)  (حصہ اول) پاک فوج کی مطالعاتی دنیا میں جب سے آنکھ …