جمعرات , 9 فروری 2023

دہشتگرد کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد پر ردعمل میں شدت آرہی ہے۔ ایران کے مختلف حکام اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ البتہ یہ غیر قانونی سلسلہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے 2019ء میں شروع کیا تھا، جس کی تقلید آج پورپی یونین کرتی نظر آرہی ہے۔ کتنی عحیب بات ہے کہ دہشت گردی کے خالق اور "ایم کے او” جیسی دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دینے والے سپاہ پاسداران کو دہشتگردوں کے فہرست میں شامل کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے اس اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لیکن اس اقدام سے انہوں نے ایران میں اپنی حالیہ ناکامیوں اور برطانوی جاسوس اکبری کا انتقام لینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکام اور مقاومت کے بلاک کی طرف سے یورپی پارلیمنٹ کے اس اقدام پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔

صدر ایران سید ابراہیم رئیسی، اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی اژہ ای کے درمیان ہونے والی سہ فریقی ملاقات میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کی قرار داد کی مذمت کی گئی۔ مجریہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں نے اس سہ فریقی اجلاس میں ملک کے خلاف ابلاغیاتی، نفسیاتی اور اقتصادی جنگ میں دشمنوں کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انقلاب اور اسلامی نظام کی حمایت میں عوام کی آگاہانہ موجودگی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی طاقت اور مسلح افواج کا ایک حصہ ہے، جو ایران کی سرزمین کے دفاع میں پچھلے چالیس برس سے شاندار خدمات انجام دے رہا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے اور خطے کو ان کے شر سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اتوار کو پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی صدر سید ابراہیم ر‏ئیسی کا کہنا تھا کہ دنیا کی کسی بھی فوج نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی طرح دہشت گردوں کا مقابلہ اور خطے کو ان کے شر سے محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ رئیسی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کی افواج اور پورے خطے کے اعلیٰ حکام دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دہشت گردی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اگر جنرل قاسم سلیمانی اور پاسداران انقلاب کی کوششیں نہ ہوتیں تو آج ایران اور مغربی ایشیاء کی صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔

صدر سید ابراہیم رئیسی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اقدامات کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے اس طاقتور بازو کو بدنام کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی اور ان کے تخمینے اور اندازے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ادھر سپاہ پاسداران انقلاب کے خلاف یورپ کے غیر قانونی اقدام کے جواب میں ایران کی پارلیمنٹ نے تین نکاتی مسودہ تیار کرلیا ہے۔ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ یورپی یونین کے صدر کے بیانات کے مطابق مغربی ممالک اس قرارداد پر عمل درآمد کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر یورپ نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا تو کوئی بھی جواب ناممکن نہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کو ڈرامہ بازی قرار دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ میں یورپی افواج کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے بل کو، مناسب جوابی اقدام قرار دیا۔ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا تھا کہ خطے میں فوجی نقل و حرکت میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل سلامی نے سپاہ پاسداران کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کئے جانے کے یورپی پالمینٹ کے اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہ کریں۔ اسی طرح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل سلامی نے ہفتے کے روز ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ قدس فورس اور شہید جنرل سلیمانی کی کمان میں اگر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی مجاہدت نہ ہوتی تو یقیناً اس وقت ہر طرف دہشت گردی کی وہ آگ بھڑکی ہوئی ہوتی، جو امریکہ نے لگائی ہے۔ جنرل سلامی نے کہا کہ اب تک خود یورپ بھی اس آگ کی لپیٹ میں آچکا ہوتا اور پورا براعظم زوال سے دوچار ہوچکا ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ فلسطینیوں کے برحق دفاع کو دہشت گردی اور غاصب صیہونیوں کی جارحیت کو جائز، اپنے ملک کی سرحدوں سے متعلق یمنی عوام کے دفاع کو جارحیت اور سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کو جائز و دفاع کہتے ہیں اور اسی طریقے سے وہ اپنی اقدار سے متعلق ایرانی عوام اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے دفاع کو دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل سلامی نے کہا کہ یورپ اور امریکہ خود کو دہشت گردی کا مخالف کہتے ہیں، جبکہ وہ خود دہشت گردوں کی پناہگاہ بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یورپ نے دو بار خود کو عالمی جنگ کے مقابل لاکھڑا کیا اور اس وقت وہ ماضی کی انہی جنگوں کی تباہی و بربادی کی نئی شکل ہے اور اس براعظم نے ماضی کی اپنی غلطیوں سے اب تک کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل سلامی نے کہا کہ یورپ سمجھتا ہے کہ اپنے اس قسم کے بیانات سے ایمان کی طاقت، خدا پر توکل کی حامل سپاہ پاسداران کے آہنی عزم و ارادے کو متزلزل کرسکتا ہے۔ ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ اگر عقلانیت سے عاری ہو کر دہشت گردی کی حمایت کی طرف آگے بڑھتی ہے تو ایران کی پارلیمنٹ بھی اس کے ہر اقدام کا ٹھوس جواب دینے کے لئے آمادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یورپی سمجھتے ہیں کہ سپاہ بھی ان کی افواج کی طرح صرف ایک فوجی طاقت ہے، جبکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور بسیج فورس ایرانی عوام کی طاقت سے بنی ہوئی فوجی قوت ہے۔

یاد رہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے بدھ کے روز ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کی تجویز کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔ دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے سوئیڈن کے اپنے ہم منصب توبیاس بیلسترم سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپاہ پاسداران نے یورپی دارالحکومتوں کو دہشتگرد ٹولے داعش کے حملوں سے بچایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نجات پانے میں یورپی ملکوں کو ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا احسان مند ہونا چاہیئے۔ امیر عبد اللہیان نے سپاہ پاسداران کے سلسلے میں یورپی پارلیمنٹ کے تخریبی اقدامات کو اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سپاہ پاسداران نے عراق، شام اور مغربی ایشیاء میں دہشتگرد ٹولے داعش کے خلاف جنگ میں اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے اور اسے نابود کرکے سپاہ نے یورپی دارالحکومتوں کو داعشی حملوں کے مقابلے میں محفوظ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ ایران مخالف اقدامات اور مداخلت پسندانہ بیانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک قرارداد پاس کرکے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام نام نہاد دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اگرچہ پورپی پارلیمنٹ کی قرارداد لازم الاجراء نہیں ہے اور یورپی کونسل کے لیے محض ایک تجویز شمار ہوتی ہے۔ ٹرانس ایٹلانٹک اتحاد کے دعویدار امریکی صدر جو بائیڈن کے دور حکومت میں مغربی دنیا ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایک پیج پر آگئی ہے اور خاص طور سے ایران میں ہونے والے حالیہ ہنگاموں کے بعد یہ سمجھ رہی ہے کہ ایران کے اسلامی نظام اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سمیت اس کے اہم اداروں کو کمزور کرنے والے اقدامات میں شدت کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا ایک حصہ ہے، جس کی مغربی ایشیاء، بالخصوص شام اور عراق میں مغرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے جدوجہد کی طویل اور موثر تاریخ ہے۔ لہذا یورپی یونین کی جانب سے اسے دہشت گرد قرار دینے کا ممکنہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ علاقائی امن و سلامتی کو کمزور کرنے کا سبب بنے گا۔ ایران میں حالیہ ہنگاموں کی حمایت کرکے تہران پر دباؤ ڈالنے کی یورپی کوشش بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔ البتہ تہران نے یورپ کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی جیسے ایران کی مسلح افواج کے شعبے کے خلاف کسی بھی قسم کے منفی اقدام کی بابت سخت خبردار کیا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کتنے وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں؟

(شیگل کیساپوگلو) ترکی اور شام میں پیر کے روز 7.8 شدت کا زلزلہ آنے کے …