ہفتہ , 28 جنوری 2023

آئی ایم ایف کے بعد؟

(علی معین نوازش)

آئی ایم ایف کا حالیہ پروگرام پاکستان کے لئے بائیسواں پروگرام تھا۔ 1958ء سے لے کر 2019ء تک پاکستان بائیس مرتبہ آئی ایم ایف سے مالی پروگرام کے لئے رجوع کر چکا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کے قرض سے معیشت کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہوا جائے تاکہ پھر سے آئی ایم ایف یا کسی اور عالمی مالیاتی ادارے کے آگے مالی امداد یا قرض کے لئے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔

آئی ایم ایف کا پروگرام ہمارے معاشی مسائل کا مستقل حل نہیں ہے، اس کا مقصد ہمیں صرف وہ مواقع فراہم کرنا ہے جن سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنی معاشی حالت سدھار سکیں۔ پاکستان کے مگر کسی بھی اسٹیک ہولڈر نے، جس میں عوام بھی شامل ہیں، میڈیا بھی شامل ہے، سیاستدان بھی شامل ہیں، ریاستی ادارے بھی شامل ہیں، کبھی اس حوالے سے سوچا ہے نہ ہی ملک کی معاشی سمت کی درستگی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
قیامِ پاکستان سے اب تک ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی واضح اور مستند قومی حکمت عملی کا فقدان رہا ہے جس میں دیرپا اور مربوط معاشی حکمت عملی کی عدم موجودگی سب سے نمایاں ہے۔ اس کے اثرات سے ہمارے عوام براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ پاکستان میں عرب پتیوں کی تعداد کتنی ہے اور اُس میں ایسے کتنے افراد ہیں جو ڈالروں کے انبار لگاکر ارب پتی بنے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ٹیکنالوجی یا آئی ٹی کے میدان میں کام کرکے ارب پتی بنا ہو۔ اس کے برعکس ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں نو ایسے افراد ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرکے اربوں ڈالر بنائے ہیں اور اُن میں سے ایک شخص کی نیٹ ورتھ اس وقت پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ یہ لوگ راتوں رات ارب پتی نہیں بنے ہیں اس کے پیچھے برسوں کی محنت، تعلیم، سرمایہ کاری، ہنر اور افرادی قوت شامل ہے۔

بھارت میں آئی ٹی کے شعبہ کو اولین ترجیح بنائے بغیر ایسا ممکن نہیں تھا۔ پاکستان کی آبادی میں اس وقت 65 فیصد نوجوان شامل ہیں جو مناسب حکومتی سرپرستی سے ملک کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری حکومتوں نے نہ ہی نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی اور نہ ہی اُنہیں نئی نالج اکانومی کے حساب سے مناسب مواقع فراہم کئے گئے۔ یہ امر صرف تعلیمی اصلاحات پر ہی منحصر نہیں بلکہ ملکی معیشت میں یہ صلاحیت بھی ہونی تو چاہئے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مناسب مواقع فراہم کر سکے۔

پچھلے دنوں ایک نوجوان نے ، جس کے پاس انجینئرنگ کی ڈگری تھی، سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی تھی کہ بے روز گاری کی وجہ سے وہ فوڈ ڈیلیوری کا کام کرنے پر مجبور ہے لیکن اس شعبے میں بھی ایسے افراد سے پالا پڑا ہے جو سخت سردی میں بھی کھانا بنا کر پیک ہونے تک اپنے ریستوران کے اندر بیٹھ کر انتظار کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ ریستوران مالک کی اس سرد مہری پر زیادہ پریشان ہوں یا ایک انجینئر کے فوڈ ڈیلیوری کی نوکری کرنے پر۔بدقسمتی سے ہمارے اوور سیز پاکستانیوں میں بھی اسی کے نتایئج بھی نظر آتے ہیں۔

امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں سب سے زیادہ کمانے والا بیرونی طبقہ بھارتی ہے جس کی فی کس سالانہ آمدنی تقریباً ایک لاکھ 26ہزار 7سو ڈالر سے زائد بنتی ہے جبکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی فی کس سالانہ آمدنی 87ہزار ڈالر بنتی ہے جوکہ امریکہ میں مقیم بھارتی، فلپائنی، تائیوانی اور انڈونیشیائی افراد سے کافی کم ہے۔ دیگر ممالک میں بھی اس سے ملتی جلتی صورتحال ہی کا سامنا ہے۔ یورپ، امریکہ یا خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت یا تو وہاں ٹیکسی چلاتی ہے یا کوئی مزدوری کرتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارتی وہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ دنیا کی 500بڑی کمپنیوں میں سے 60 کے چیف ایگزیکٹوز ہندوستانی ہیں۔ ہماری حکومتیں اپنی نوجوان نسل پر سرمایہ کاری نہ کرنے، اُنہیں تعلیم کے بہتر مواقع نہ فراہم کرنے سے نہ صرف اُن کے ساتھ بلکہ ملک کے ساتھ بھی زیادتی کر چکی ہیں۔

بحیثیت ملک پاکستان اب بھی ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ہمارے معاشی حالات اُس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ اب ہم مزید قرضوں پر مزید عیاشی نہیں کر سکتے۔ ہمارے سیاستدان اور ہماری افسر شاہی، بڑے بڑے عالی شان دفاتر، قیمتی گاڑیوں اور ماتحتوں کی فوج ظفر موج کی صورت میں ہمیشہ سے قومی خزانے پر عیاشی کرتے چلے آئے ہیں لیکن اس سب کے باوجود اُن کی کارکردگی صفر ہے۔ گوگل اور فیس بک سمیت بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی دیگر کمپنیوں کے مالکان عالی شان دفاتر کے بجائے بڑے بڑے حالوں میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور آج اُن کی کمپنیاں دنیا پر راج کر رہی ہیں جب کہ اس کے برعکس میں اپنے کچھ ڈپٹی کمشنر دوستوں کے عالی شان دفاتر دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہوں کہ قرضوں میں ڈوبے ملک کی افسر شاہی کے دفاتر اور شاہ خرچیاں ایسی نہیں ہو نی چاہئے۔

اب ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم بنیادیں فراہم کرنا پڑیں گی اور اس مقصد کے لئے طویل المدتی اور مربوط معاشی پالیسی تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں پر سرمایہ کاری اور اُن کی تعلیم کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ اگر ہمیں دنیا کی قابلِ قدر معیشتوں میں شامل ہونا ہے تو ہمیں رئیل اسٹیٹ (جوکہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا کاروبار بن چکا ہے) کے بجائے ٹیکنالوجی کے میدان میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے جس کی اس وقت دنیا بھر میں مانگ ہے۔

لیکن ہماری معاشی سمت کی درستگی اور ایک غلط پٹری سے ایک صحیح پٹری تک کا سفر اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ تقریباً ناممکن ہی لگنے لگا ہے۔ لیکن اگر ہمیں اپنی معیشت بحال کرنی ہے، ملک سے غربت اور بے روزگاری ختم کرنی ہے اور دنیا میں اپنے آپ کو منوانا ہے تو یہ ہمارے پاس آخری موقع ہے۔ آج کل یہ بہت سنایا جا رہا ہے کہ ہمیں اپنی سیاست دائو پر لگا کر ملک کو بچانا پڑے گا ، اس سوچ پر بھی افسوس کرنا چاہئے کہ سیاست کے لئے جو اچھا ہے وہ ملک کے لئے اچھا نہیں اور جو ملک کے لئے اچھا ہے وہ سیاست کیلئے نہیں۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پلے نہیں دھیلا

(تحریر : رؤف کلاسرا) امریکہ سے ایک پیارے بھائی کا میسج تھا کہ ابھی آپ …