جمعرات , 9 فروری 2023

معاشی چیلنجز اور ڈالر بحران

(زمرد نقوی)

پاکستان کو اس وقت معاشی میدان میں کثیر چیلنجز کا سامنا ہے اس میں خاص طور پر ڈالر کی دستیابی اور اس کی قدر کو مناسب سطح پر رکھنے کا بحران سرفہرست ہے، ہر پاکستانی یہ جاننا چاہتا ہے کہ پاکستان میں ڈالر بحران کی اصل وجہ کیا ہے ۔

افغانستان میں ایک ڈالر 88افغانی کا ہے اور پاکستان میں ایک ڈالر 235کا بھی نہیں مل رہا جب کہ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد عالمی پابندیاں لگ چکی ہیں۔

ان کے اکاؤنٹس منجمد ہیں وہاں نہ ترسیلات زر کا سلسلہ ہے نہ کچھ برآمد کر رہے ہیں اور نہ ہی وہاں کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔
ڈالر کا بحران افغان طالبان کے کابل میں برسراقتدار ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا، ماضی میں ماہانہ تین ارب ڈالر امریکی امداد بند ہونے سے افغانستان میں ڈالر کی قلت پیدا ہو گئی ہے اب ان کی ڈالر کی ساری ڈیمانڈ پاکستان سے پوری ہونی ہے وہ اس طرح کہ پاکستان سے ماہانہ دو ارب ڈالر افغانستان اسمگل ہو رہے ہیں ۔

یعنی سالانہ چوبیس ارب ڈالر اور ہم ایک ایک ڈالر کے لیے دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ جب کہ ہمارے ماہر معاشیات بتاتے ہیں کہ روپے کی قدر جتنی کم ہو گی برآمدات اتنی زیادہ بڑھیں گی۔ جب کہ اصل صورت حال یہ ہے کہ ہماری غیر ملکی تجارت کا 85فیصد حصہ درآمدات کا ہے ۔ جب ہم 235روپے کی چیز درآمد کریں گے تو اسے دنیا میں سستا کیسے فروخت کریں گے ۔

ڈالر بحران کے حوالے سے چیئرمین فارن ایکسچینج کمپنیز اور فاریکس ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر ملک محمد بوستان نے خوفناک حقائق منکشف کیے ہیں جو پاکستانی عوام کی علم میں آنا اشد ضروری ہے ۔

ملک محمد بوستان اس کی تفصیل میں جاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس وقت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا ناسور بنا ہوا ہے جو پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔پاکستان سے افغانستان جانے والے ڈالر کا ایک بڑا حصہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے پاکستان سے باہر جارہا ہے اس ملک دشمن سرگرمی میں صرف افغانستان کے تاجر ہی نہیں پاکستانی تاجر بھی ملوث ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان ٹرانزٹ کا معاہدہ تو 2010سے نافذ العمل ہے تو اب کیوں مسئلہ بن گیا۔ دراصل ہوا یہ کہ وفاقی حکومت نے درآمدگی بل کم کرنے کے لیے بہت ساری پر تعیش اشیاء کی درآمد پر بھاری امپورٹ ڈیوٹیز عائد کردی ہیں تاکہ ان کی درآمد کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔

ہمارے تاجروں اور برآمد کنندگان نے سوچا کہ وہ حکومت پاکستان کو 200فیصد ڈیوٹی کیوں ادا کریں ، دوبئی ، لندن ، یورپ ، امریکا ، سعودی عرب دنیا میں ہر جگہ ان کا نیٹ ورک موجود ہے ۔

وہاں حوالہ ہنڈی کے ذریعے پے منٹ دیتے ہیں افغان ٹرانزٹ کے نام پر مال یہاں لاتے ہیں ہماری بندرگاہ سے وہ مال افغانستان جاتا اور وہاں سے چھوٹے ٹرکوں میں مال واپس پاکستان آجاتا ہے اس گھناؤنے عمل میں ملوث متعدد پاکستانی درآمد کنند گان نہ صرف درآمدگی ڈیوٹی ادا نہ کرکے قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچا رہے بلکہ اور تو اور ڈالر بھی ملک سے باہر روک کر رکھ رہے ہیں۔

ایک کینٹینر پر ان کا خرچہ 25لاکھ روپے اور بچت 75لاکھ روپے ۔اندازہ لگائیں ان کی منافع خوری کا۔ ٹائر اور دیگر اشیاء جن پر پاکستان میں ڈیوٹی زیادہ ہے افغانستان سے واپس پاکستان میں بغیر ڈیوٹی ادا کیے آرہی ہیں۔ اس عمل میں ملوث پاکستانی تاجر انڈر انوائسنگ کرکے ملک دشمنی کر رہے ہیں کیونکہ اس سے 225روپے کے بجائے حوالہ ہنڈی سے 250 مل رہے ہیں۔

ترسیلات زر 1ارب ڈالر کم ہونے کی بڑی وجہ حوالہ ہنڈی ہے۔ دوسری چیزوں کے علاوہ افغانستان سے پاکستان روزانہ 10سے 15ملین ڈالر مالیت کا کوئلہ منگواتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ 27برسوں سے عوام دشمن اشرافیہ نے پاکستانی بینکوں سے 180ارب ڈالر غیر ملکی بینکوں اور غیر ممالک میں ٹرانسفر کیے ہیں جب کہ پاکستان کے کل قرضے 130ارب ڈالر ہیں ۔ اس وقت بھی روزانہ کئی ملین ڈالر پاکستانی بینکوں کے ذریعے منٹوں میں بغیر کسی رکاؤٹ بیرون ملک ٹرانسفر ہو جاتے ہیں ۔

ملک محمد بوستان کہتے ہیں کہ ہمیں افغانستان سے گرم نہیں تیزابی ہوائیں آرہی ہیں وہ کہتے ہیں اس وقت پاکستان کی ریاست ہمارے ایٹمی پروگرام ہماری خود مختاری داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔ ہماری چوکیوں ہمارے شہروں پر حملے ہورہے ہیں۔

پولیس اسٹیشن کو امریکی اسلحے کے ذریعے ڈیڑھ کلو میٹر دور سے نشانہ بنایا گیا ہے ایک پاک فوج ہے جس نے اپنی قربانیوں سے پاکستان کو بچایا ہوا ہے ہمارے 150فوجی جوان دہشت گردوں کے ناپاک ہاتھوں سے شہید ہو چکے ہیں ۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پارلیمنٹ آف حجاز

(تحریر: سید رضی عمادی) سعودی عرب کے سیاسی کارکنوں (ایکٹیوسٹ) نے حجاز کی سرزمین میں …