پیر , 20 مارچ 2023

انڈیا کے لیے مصر کی اہمیت کیوں بڑھ رہی ہے؟

(شکیل اختر)

مصر کے عبدالفتح السیسی 26 جنوری کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیے گئے ہیں۔وہ پہلے مصری صدر ہیں جنھیں انڈیا کی اس قومی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔انڈیا کے یوم جمہوریہ کی اس پریڈ میں مصر کی فوج کا ایک دستہ بھی حصہ لے رہا ہے۔

صدر السیسی کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جانا انڈیا کی سفارت کاری میں مصر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا عکاس ہے۔

انڈیا مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ اور تجارتی رشتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور دنیا کی بدلتی ہوئی علاقائی سیاسی اور اقتصادی پس منظر میں انڈیا کے لیے مصر کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔

صدر السیسی کے انڈیا کے دورے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے جس میں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے طویل مذاکرات کیے، انڈیا کے وزیر خارجہ سےکئی اہم معاملات پر بات چیت کی اور توانائی، زراعت، سیاحت، ثقافت اور تجارت کے معاہدوں پر دستخط کیے۔دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبے میں تعاون پر بھی کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔

مصر نے انڈیا کے لڑاکا طیارے تیجس کے علاوہ میزائلوں اور انڈیا کے دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ ہتھیاروں اور ریڈار کی خریداری میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ مصر میں روس-یوکرین جنگ کے بعد سے اجناس کی قلت کا بحران ہے۔

انڈیا نے اگرچہ گندم کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن گزشتہ مئی میں پابندی کے باوجود 61 ہزار ٹن گندم مصر برآمد کی گئی۔

مصر کے صدر نے انڈین اہلکاروں سے اپنی بات چیت میں مزید گندم کی فراہمی کی بات بھی کی ہے۔ دوسری جانب انڈیا نے مصر سے مزید کھاد خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب مصر اقتصادی بحران کا شکار ہے، یہ واضح نہیں ہے کہ انڈیا مصر کو مالی امداد فراہم کرے گا یا نہیں۔تاہم انڈیا نے سوئز نہر کے اطراف میں خصوصی اقتصادی زون کی شکل میں بڑے پراجیکٹ تعمیر کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔

سوئز نہر انڈیا کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انڈیا کے سابق سفارتکار تلمیظ احمد نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’سوئز نہر سے تقریبا 5 ملین بیرل خام تیل روزانہ گزرتا ہے۔ ان میں سے اوسطا 5 لاکھ بیرل تیل روزاںہ لاطینی امریکہ، امریکہ اور الجیریا سے انڈیا پہنچتا ہے۔‘

’اس لحاظ سے انڈیا سوئز نہر سے تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہی نہیں، انڈیا اس نہر کے راستے کیمیکل، مشینری، کپڑے، قالین اور دستکاری کی مصنوعات دوسرے ملکوں کو بھیجتا ہے جس کی مالیت تقریبا 200 ارب ڈالر ہے۔‘انڈیا اور مصر کے درمیان باہمی تجارت کا حجم پچھلے کچھ سالوں میں بہت تیزی سے بڑھا ہے۔

2020-21 میں باہمی تجارت کی مالیت 4 اعشاریہ 15 ارب ڈالر تھی جس میں 2021 -22 میں 75 فیصد کا اضافہ ہوا اور اس کا حجم 7 اعشاریہ 26 ارب ڈالر پر پہنچ گیا۔

انڈیا کے سابق سفارتکار تلمیظ احمد کے مطابق انڈیا مصر کی برآمدات کی تیسری سب سے بڑی مارکٹ اور چھٹا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے۔ ساتھ ہی انڈین کمپنیوں نے پورٹ سعید میں کئی بڑی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔

فری پریس جنرل کے مطابق انڈیا کی 50 سے زیادہ کمپنیوں نے مصر میں آٹو موبائل،کیمیکل، توانائی، ملبوسات، زرعی اور ریٹیل شعبے میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔

اہرام آن لائن نے مصر میں انڈیا کے سفیر اجیت گپتے کے حوالے سے لکھا ہے کہ مصر میں انڈین کمپنیوں میں کم از کم 38000 مصری شہری کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے کئی کمپنیاں اجتماعی طور پر تقریبا ایک ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری سے توسیع کرنے والی ہیں۔انڈیا مصر کو مذہبی اعتبار سے ایک اعتدال پسند ملک تصور کرتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل جب پیغمبر اسلام کے بارے میں بی جے پی کی ایک رہنما کے نازیبا بیان پر کئی عرب ملکوں کی جانب سے شدید ردعمل ہوا تھا اس وقت بھی مصر نے حکومتی سطح پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔ تاہم جامعہ الاظہر کے گرینڈ مفتی کی جانب سے اس متنازع بیان کی مزمت کی گئی تھی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان نے سفارتکاری کے ذریعے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی میں کشمیر کے سوال پر کئی اہم رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے اجلاسوں میں اکثر کشمیر کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔ تاہم مصر عموما غیر جانب دار رہا ہے۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

بشار الاسد کی سفارتکاری

(تحریر: سید رضی عمادی) روس کے دورے کے بعد بشار الاسد غیر متوقع طور پر …