پیر , 20 مارچ 2023

واہ رے تجربہ کارو!

 

(ذکیہ نیئر زکی) 

اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی کی شُرلی چھوڑ دی گئی جس کی چنگاریوں سے عام آدمی جل بھن کر رہ گیا ہے۔ حالات اس قدر بے قابو ہیں کہ سفید پوشی کا بھرم بھی شرمندہ ہے۔

سسکتی معیشت کی بہتری کےلیے نہ مفتاح کام آیا نہ اسے ڈاکٹر ڈار کی تجربہ کاری سے کوئی افاقہ ہوا۔ نسوں میں آئی ایم ایف کا نشہ اس قدر سرائیت کر چکا ہے کہ آس پاس کے یار دوستوں سے ادھار مانگ کر بھی قدم لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے وہیں جا پہنچے جہاں سے وقتی طور پر جان میں جان آہی جاتی ہے۔ مگر یہ ولایتی پڑیاں بھی شرطوں پر ہی مِلا کرتی ہیں۔ وجود لہولہان کرو گے تو ایک پُڑی ملے گی، سو بالآخر بائیس کروڑ عوام کی بَلی چڑھا دی گئی۔

جب اسٹیٹ بینک سے ’’خالی ہے خالی ہے‘‘ کہ آوازیں آنے لگیں تو دس ماہ سے آئی ایم ایف سے منہ موڑ کر بیٹھنے والی مخلوط حکومت کو ہوش آیا مگر اس ہوش نے عوام کے ہوش اڑا ڈالے۔ پٹرول پمپس پر روتے بلکتے عوام مہنگائی کی دہائیاں دیتے رہے۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ بچوں کو تعلیم دیں، آٹا خریدیں یا پٹرول ڈلوائیں؟ یوں لگتا ہے ہاتھ پیر باندھ کر عوام کو سمندر برد کردیا گیا ہے۔
پچھلی حکومت پر ناتجربہ کاری کا ٹیگ لگایا گیا، مہنگائی کو وجہ بنا کر عدم اعتماد کی قرارداد لائی گئی، بدانتظامی پر لانگ مارچ کیے گئے۔ گیارہ جماعتوں پر مشتمل حکومت کو رات کے اندھیرے میں بغیر ووٹوں کے اقتدار کے ایوانوں تک لایا گیا۔ ویلکم ٹو پرانا پاکستان کا نعرہ لگا۔ عوام سمجھے کہ تجربہ کار ٹیم آئی ہے، اب سکھ کا سانس نصیب ہوگا، مگر دس ماہ سے ہر گزرتی سانس عوام پر بھاری ہے۔

ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، روپیہ ٹکے کا نہیں رہا۔ ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ گئے۔ دوست ممالک نے غیر یقینی کی صورتحال دیکھ کر ہاتھ کھینچ لیے اور کچھ نہ سوجھی تو سیلاب زدگان کے زخم دکھا کر دنیا سے بھیک تک مانگی گئی، مگر وعدے وعید سے آگے بات نہ بڑھ سکی۔ حقائق چھپا کر ہر ملبہ پچھلی حکومت پر ڈالنے والوں نے تجربہ کاری کی تعریف ہی بدل ڈالی۔ تین تین بار حکومتوں میں رہنے والوں نے معاشی پالیسی کا تیاپانچہ کر ڈالا۔ وہ سیاستدان جن پر پچھلی حکومت میں کرپشن کے کیس بنائے گئے، جو ملک سے فرار رہے، انہیں پاکستان میں لاکر وزیری مشیری کے عہدوں سے نوازا گیا، کیسز ختم کیے گئے لیکن عوام کی بہتری کےلیے کیے گئے دعوے، دعوے ہی رہے۔

اس وقت بدترین حالات نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، آمدنی اٹھنی ہے اور خرچہ ہزار۔ اب ایسے میں گزارا کیونکر ممکن ہو۔ بجلی کے بل دیں تو گھر کا کرایہ ادا کرنے کو پیسے نہیں اور اگر کرایہ بھی مانگ تانگ کر دے دیا جائے تو دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل تر ہوچکا ہے۔ لیکن سیاسی محاذ آرائی جاری ہے۔ دونوں محاذوں سے عوام کے نام پر کھیلا جانے والا کھیل جاری ہے۔ کسی کو پروا نہیں کہ عوام جیتے جی درگور ہیں۔ ذاتی انا کی تسکین کےلیے ملک کو تماشا بنانے والوں نے ہر روز نیا ڈرامہ تیار کر رکھا ہوتا ہے۔ خبروں کی سرخیوں میں رہنے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کےلیے ملک کے اداروں سے لے کر ریاست کے وقار تک کو ڈھٹائی سے مجروح کیا جارہا ہے۔ ایک طرف خزانہ خالی ہے، دوسری طرف اسمبلیوں میں انتخابات کرانے کےلیے بڑی رقم حاضر ہے جبکہ سیاسی انتقام کےلیے پکڑ دھکڑ اور عجیب وغریب قسم کے مقدمات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شکل بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی۔

سوال کرو کہ یہ سب کیا ہے؟ تو جواب ملتا ہے پچھلی حکومت نے بھی ہمارے ساتھ ایسا کیا تھا۔ تو جناب پھر آپ میں اور ان میں فرق کہاں ٹھہرا؟ کیا ملک ایسے حالات میں اس رسہ کشی کا متحمل ہوسکتا ہے؟ لیکن نہیں! سیاسی استحکام قائم کرنے کے بجائے ملک کو افراتفری اور انتشار کی طرف لے جانے والوں نے حالات سنگین تر بنا ڈالے ہیں۔ اب ایسے حالات میں بھلا کون اس ملک میں سرمایہ کاری کرے گا اور کون امداد کےلیے حامی بھرے گا، جہاں سیاسی تنازعات ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔

عوام چاہے مٹی پھانک کر گزارا کریں مگر اشرافیہ کی شاہ خرچیاں کم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ جب معاشی بدحالی سے عوام کی زندگی اجیرن ہے تو جج، جرنیل، بیوروکریسی اور سیاستدان کیوں مزے میں ہیں؟ انہیں مہنگائی کے اس طوفان سے فرق کیوں نہیں پڑتا؟ نہ تو ان کے خرچے کم ہورہے، نہ عیاشیوں کو بریک لگ رہی ہے۔ بیرون ملک کے دورے جاری ہیں۔ شاہانہ گھروں میں مفت بجلی، گیس کی سہولت میسر ہے۔ لمبے چوڑے پروٹوکول حاصل ہیں۔ ٹی اے ڈی اے الگ ملتا ہے۔ کروڑوں کی گاڑیوں میں موسم کی تپش سے بے نیاز اس مخلوق کو وینٹی لیٹر پر سسکتی معیشت کی ڈوبتی سانسیں نہ سنائی دیتی ہیں، نہ دکھائی۔

ضرورت اب اس امر کی ہے کہ اس بار اشرافیہ احساس کرے۔ پچھہتر سال سے عوام کا خون چوسنے والے اب اپنا فرض بھی ادا کریں۔ شناخت پاکستانی ہے تو پاکستان کےلیے قربانی سبھی کو دینی ہوگی۔ مرتی معیشت کی سانسیں بحال کرنے کےلیے اپنے اخراجات میں کمی لائیں۔ وفاقی کابینہ کے جہاز جیسے سائز کو گھٹائیں۔ مفت کی بجلی، پٹرول اور سیر سپاٹوں کا پیسہ خزانے میں جمع کرائیں۔ گھروں میں جو سونے کے انبار جمع کر رکھے ہیں بطور قرض ریاست کو سونپیں۔ مہنگے کپڑوں، جوتوں اور کاسمیٹکس سرجیوں پر لاکھوں روپے لگانے کے بجائے اسی پیسے سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ بیرون ملک جو اربوں کھربوں کی جائیدادیں بنا رکھی ہیں بیچ کر پاکستان کو سنواریں۔ اپنے اہل و عیال کو وطن واپس لائیں۔ جب غریب اور متوسط طبقات کے بچے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو اپنے بچوں کو بھی یہاں لائیں۔ فیسوں کی مد میں بیرونی بینکوں میں ڈالر بھیجنا بند کریں۔

اگر واقعی پاکستان سے محبت ہے اور اس مٹی کےلیے کچھ کر گزر جانے کا رتی برابر جذبہ بھی ہے تو یہاں کے عوام کے درد کو اپنا درد سمجھیں۔ مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کو سمیٹنے کی کوشش کریں۔ جگہ جگہ کشکول لے کر گھومنے کے بجائے اپنے گھر سے پیسہ نکال کر معیشت بچائیں۔ صرف ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے اب کی بار آپ کا چورن نہیں بکنے والا۔ اقتدار جس کے ہاتھ ہوگا وہی عوام کےلیے سہل حالات کا ضامن ٹھہرے گا۔ ورنہ استعفے دیں، یہی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔ کرسی پر بیٹھ کر اگر عوام کےلیے کچھ کر نہیں سکتے تو کرسی چھوڑ دیں، نہ کہ ہر بار ملبہ ایک دوسرے پر ڈال کر ملک کو مزید اندھیروں کی جانب دھکیلنے پر لگے رہیں۔

اپوزیشن ہو یا حکومت یا پھر ہر بار اتحاد کے نام پر مزے لوٹنے والے سیاسی مفاد پرست ٹولے، اب کی بار اگر نوالہ عوام کے ساتھ مل بانٹ کر نہیں کھاؤ گے تو اگلی بار عوام کے کندھوں پر سوار ہوکر بادشاہ بننے کی ہمت نہ کرنا۔ اپنے پیٹ نہیں کاٹ سکتے تو حب الوطنی، قومیت اور مذہب کے کھوکھلے نعروں کا چورن بیچنے ہماری گلی نہ آنا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بشار الاسد کی سفارتکاری

(تحریر: سید رضی عمادی) روس کے دورے کے بعد بشار الاسد غیر متوقع طور پر …