اتوار , 21 اپریل 2024

امریکہ سمیت مغربی اتحادی یوکرین کو ایف 16 طیارے کیوں نہیں دینا چاہتے؟

(اٹاہوالپا امیرس)

امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی جانب سے روس کے خلاف فضائی جنگ میں مدد کی درخواست کے باوجود ایف سولہ طیارے بھجوانے سے واضح انکار کر دیا ہے۔

پیر کو جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ امریکی ایف سولہ لڑاکا طیارے یوکرین کو دے سکتے ہیں تو جو بائیڈن کا مختصر اور دو ٹوک جواب تھا کہ نہیں۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے دنیا میں سب سے کارگر سمجھا جانے والا ٹینک ابرام یوکرین کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

تنازع بڑھ جانے کا خدشہ
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی اور روس کے خلاف جنگ لڑنے والے یورپی ملک کے عسکری حکام کا خیال ہے کہ لڑاکا طیاروں کی امداد پر پابندی کا خاتمہ ضروری ہو چکا ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی سمجھتے ہیں کہ ایسی صورت میں روس کے ساتھ تنازع بڑھ سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

مائیکل ڈیش امریکہ میں یونیورسٹی آف نوٹرڈیم کے سینٹر برائے انٹرنیشنل سکیورٹی میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر ہیں۔

انھوں نے بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے آغاز سے یہ خدشہ رہا ہے کہ تنازع بڑھ سکتا ہے اور روس کی ریڈ لائن عبور ہوئی تو ماسکو کوئی ڈرامائی قدم اٹھا سکتا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن متعدد بار نیٹو پر پراکسی جنگ کا الزام لگا چکے ہیں اور خبردار کر چکے ہیں کہ تنازع میں اضافہ ہوا تو جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے۔

یوکرین کی ائر فورس کے ترجمان یوری ایہنات نے ایک مقامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ یوکرین کو ایف سولہ جیسے دو سو لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کو لڑاکا طیاروں کی صورت میں یوکرین پر چھ گنا کی برتری حاصل ہے۔

ایک خاص لڑاکا طیارہ
ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی ہچکچاہٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایف سولہ طیارہ چار ہزار کلومیٹر تک کام کر سکتا ہے اور اس کی موجودگی یوکرین کو اپنی فضائی حدود سے باہر تک جانے کی صلاحیت دے گی۔

مائیکل ڈیش کا کہنا ہے کہ اس پر کوئی بات نہیں کرتا لیکن یہ خدشہ موجود ہے کہ یوکرین امریکی امداد سے اپنی مرضی کا کام لے سکتا ہے اور اس لیے یہ ضروری ہے کہ ان کو فراہم کردہ اسلحے پر کنٹرول رکھا جائے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یوکرین کے پاس ایسی صلاحیت یا اسلحہ موجود ہو جس سے وہ روس کے اندر ہزاروں کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنا سکے تو جنگ خطرناک حد تک جا سکتی ہے۔

مائیکل ڈیش کا کہنا ہے کہ ایک مثال دور تک مار کرنے والے مارس ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹم کی ہے جو ان کو اس لیے نہیں دیے جا رہے کہ کہیں وہ روس کے اندر اہداف کو نشانہ نہ بنائیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایف سولہ ایسا لڑاکا طیارہ ہے جو روس کے اندر دور تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔واضح رہے کہ یوکرین کی فضائیہ سوویت یونین دور کے تیار کردہ مگ لڑاکا طیارے استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایف سولہ طیارے کو دنیا بھر میں فوقیت دی جاتی ہے اور اسے استعمال کرنے والوں میں پاکستان اور بیلجیئم بھی شامل ہیں۔ایف سولہ طیارے پر بم اور گائیڈ میزائل نصب کیے جا سکتے ہیں اور یہ پندرہ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے۔

ایف سولہ طیارہ ملنے کی صورت میں یوکرین کے پاس یہ صلاحیت ہو گی کہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور موسم اور روشنی کی قید سے بھی آزاد ہو جائے گا۔

کیا یوکرین کو ایف سولہ طیارے ملنے سے فرق پڑے گا؟
یوکرین کا دعویٰ ہے کہ جدید طیارے روسی حملوں سے اس کی فضائی حدود کا دفاع کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین سوال کرتے ہیں آیا یہ جنگ میں فیصلہ کن ہو سکتے ہیں۔

ڈیش کے مطابق ’زمینی آپریشنز میں دونوں جانب جنگجو کوئی اہم کردار ادا نہیں کر رہے۔ مثلاً روسی فوج کروز میزائل اور ہائپر سونک میزائلوں کے ساتھ بڑے بمبار طیارے استعمال کر رہی ہے۔ جبکہ یوکرین کی جانب بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ دونوں فریقین کا فضائی دفاعی نظام مؤثر ہے اور جنگجوؤں کے لیے اسے عبور کرنا مشکل۔‘

ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں ایف 16 ’دوسرے طیاروں کی نسبت زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے‘ اور اس لڑائی کے نتائج میں بڑا فرق ڈال سکتا ہے۔

تاہم صدر بائیڈن نے یوکرین کے طیاروں کے مطالبات بارہا مسترد کیے ہیں۔ انھوں نے فوجی اور دیگر شبعوں میں حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔مگر بعض مغربی اتحادیوں نے اس کا مختلف نظریہ اپنایا ہے۔

یورپ میں تقسیم
منگل کو فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے طیارے یوکرین بھیجنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے صورتحال میں اضافی کشیدگی پیدا ہوگی نہ ان کے ملک کا دفاع کمزور پڑے گا۔

یوکرینی وزیر دفاع الکسی رزنیکوف نے پیرس میں ہیں جہاں وہ صدر میخواں اور فرانسیسی فوجی کمانڈروں سے اس سے متعلق بات چیت کریں گے۔یوکرین کے ایک دوسرے اتحادی پولینڈ نے ایف 16 طیارے کیئو بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا۔

تاہم پولش وزیر اعظم میٹیوز موراویکی نے کہا ہے کہ یہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب دیگر نیٹو رکن ’مکمل تعاون کریں گے۔‘

یوکرین کے نائب وزیر خارجہ اندرے میلنک نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگی طیاروں پر اتحاد تشکیل دیں جن سے انھیں یورو فائٹرز، ٹارنیڈوز، فرانسیسی رفال اور سویڈش گریپن سپلائی کیے جاسکیں۔

برطانوی حکومت نے منگل کو بتایا تھا کہ وہ یوکرین سے طیاروں کے کسی باقاعدہ مطالبے سے واقف نہیں۔وزیر اعظم رشی سونک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’برطانوی تیفون اور ایف 35 طیارے بہت جدید ہیں اور انھیں اڑانے کے لیے مہینوں کی تربیت درکار ہوتی ہے۔‘

’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ طیارے یوکرین بھیجنا عملی طور پر درست نہیں۔‘تاہم انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ رشی سونک نے ’فوجی معاونین سے سنجیدہ بات چیت کی ہے‘ اور ’نتیجہ یہ نکلا ہے کہ روس کی عددی برتری کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کی مسلسل کشیدگی یوکرین کے فائدے میں نہیں۔‘ادھر جرمنی نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے جنگی طیارے یوکرین نہیں بھیجیں گے۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

بائیڈن کے حماس سے اپنی شکست تسلیم کرنے کے چار اہم نتائج

ایک علاقائی اخبار نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کو مختلف جہتوں سے حماس کے خلاف امریکہ …