پیر , 20 مارچ 2023

افغان طالبان اور ٹی ٹی پی جدائی کے راستے پر

(ترتیب و تنظیم: علی واحدی)

پاکستان کے شہر پشاور کی مسجد میں پیر کے روز ہونے والے دہشت گردانہ دھماکے میں سو کے نزدیک افراد جان بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے، ایک دہشت گردانہ کارروائی جس کا تجربہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں نہیں کیا تھا۔ اس آپریشن کی ذمہ داری "تحریک طالبان پاکستان” نے قبول کی۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر مذمت کی لہر دوڑ گئی اور ایک بار پھر طالبان سے وابستہ گروہوں کی طرف توجہ مبذول ہوئی، لیکن طالبان کی عبوری حکومت نے اس دہشت گردانہ حملے کے خلاف سخت موقف اپنایا، تاکہ ان پر لگا الزام مٹایا جا سکے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے پشاور کی مسجد پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مساجد میں نمازیوں پر حملہ اسلام کے احکام کے خلاف ہے۔

طالبان کی عبوری حکومت کی طرف سے اس دہشت گردانہ کارروائی کی مذمت، جو کہ چند مرتبہ کی گئی ہے، کا کئی زاویوں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ تحریک طالبان پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ پچھلی دو دہائیوں سے اچھے تعلقات تھے، لیکن ان دنوں یہ دونوں سابق اتحادی ایک دوسرے سے الگ ہو رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو توقع ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان، جس نے اقتدار سنبھالا ہے، اس گروپ کی حمایت کرے گی، تاکہ وہ پاکستان کے کچھ حصوں میں اپنے لیے جگہ بنا سکیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کابل میں حکام خطے کے حالات کے بارے میں فکر مند ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی دباؤ کو ہلکا کیا ہے اور سابق اتحادیوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظر میں تبدیلیاں کی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں، طالبان نے افغان سرحدوں کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان گروپ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں جون میں طالبان کی عبوری حکومت کے ایک وفد نے دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کے لیے اسلام آباد کا سفر کیا، لیکن ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور پاکستانی طالبان اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر دہشت گردی کی کارروائیاں تحریک طالبان کرتی ہے، جسے افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کی بڑی وجہ تحریک طالبان تھی، جو پاکستان کی سرحدوں پر عدم تحفظ کو ہوا دے رہی ہے۔

اگرچہ افغان طالبان کا پاکستانی طالبان سے تعلق کافی حد تک واضح ہے اور کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اس گروپ کے کئی رہنماؤں کو افغان جیلوں سے رہا کر دیا۔ پاکستان افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور توقع کرتا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گرد گروہوں کو لگام لگا دی جائے گی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا اور طالبان کی حمایت کی وجہ سے بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کا خدشہ بڑھا ہے۔ اس وقت تحریک طالبان نے دونوں ممالک کی سرحدوں میں مزید طاقت حاصل کر لی۔

کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے تحریک طالبان کو مزید حوصلہ ملا ہے، تاکہ وہ پاکستان میں ایک دن مطلوبہ اسلامی امارت کے قیام کے اپنے ہدف کو حاصل کرسکے۔ اگرچہ پچھلے بیس سالوں سے طالبان کے ساتھ مل کر لڑنے والے بہت سے گروپ اب حکومت کا حصہ ہیں، لیکن ان کے کچھ ارکان مغرب کے دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل ہیں اور انہیں عبوری حکومت سے خارج کرنے کے لیے بیرونی دباؤ کے باعث ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں افغان طالبان کو بہت سی خدمات فراہم کرنے والی تحریک طالبان ان دنوں کابل کے رہنماؤں سے ناراض ہے۔

امارت اسلامیہ افغانستان جو کہ ایک مشکل سیاسی اور اقتصادی صورت حال سے دوچار ہے، علاقائی حکومتوں کو خود کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی لیے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائی کی مذمت بھی کرتی ہے، تاکہ پاکستانی لیڈر شپ کا اطمینان حاصل کرلے۔ افغان طالبان کو یقین ہوگیا ہے کہ اگر وہ خطے میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔ اس لیے وہ تحریک طالبان جیسے گروپوں کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ طالبان حکام اندرونی بحرانوں کو کم کرنے کے لیے اپنے پڑوسیوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گذشتہ برس حکومت پاکستان نے طالبان پر تحریک طالبان کی حمایت اور اس گروپ کو افغانستان میں اڈے فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس حوالے سے پشاور میں تحریک طالبان کے دہشت گردانہ حملے کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر داخلہ نے افغان حکومت سے کہا کہ وہ ملک میں اس گروپ کی پناہ گاہوں کے معاملے کا جائزہ لے۔ حالیہ دہشت گردی کی کارروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد کے حکام افغانستان میں تحریک طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کرسکتے ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اسی وجہ سے امارت اسلامیہ افغانستان نے ان تعلقات کو روکنے کی کوشش کی۔ اس دہشت گردانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنا کہ وہ ایسے جرائم کی حمایت نہیں کرتا۔

طالبان کو معلوم ہے کہ اگر وہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے چاہئیں اور اس کے لیے تحریک طالبان اور اسلام آباد کی حکومت کے درمیان جنگ کو روکنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر تجارتی روابط ہیں اور طالبان کو مسائل پر قابو پانے کے لیے اپنے جنوبی پڑوسی کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 230 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان سے برآمد ہونے والی زیادہ تر اشیاء زرعی اور غذائی اشیاء کی تھیں، جن کی موجودہ صورتحال میں افغانستان کو اشد ضرورت ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے ساتھ تجارت کا حجم بھی بڑھے گا۔ اس لیے طالبان نے ثی ٹی پی سے الگ رہنے کا راستہ انتخاب کیا ہے۔ بہرحال اگر طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اسلام آباد دوسرے پڑوسیوں کو بھی کابل کی امداد بڑھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

دوسری جانب وسطی ایشیاء سے بحر ہند تک ریل کوریڈورز کے قیام کا معاملہ، جو افغانستان سے گزرتا ہے، طالبان کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے اور یہ لائنیں پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر سلامتی اور استحکام کے قیام کی متقاضی ہیں۔ تحریک طالبان جیسے گروپ کی موجودگی ان راستوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ پراجیکٹ طالبان کی عبوری حکومت کے لئے بہت زیادہ آمدنی لائے گا اور اس لیے وہ دہشت گرد گروپوں کی حمایت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں جتنی زیادہ محفوظ ہوں گی، اس خطے کے ممالک کے ساتھ کابل کی تجارت کا حجم بڑھے گا اور یہ طالبان کی عبوری حکومت کے لیے معاشی فائدہ ہوگا۔

مہاجر اور پشتون
ایک اور مسئلہ افغان تارکین وطن کا مسئلہ ہے، جو پاکستان میں موجود ہیں اور اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوں گے تو اس کا تارکین وطن کی حیثیت پر منفی اثر پڑے گا اور طالبان اس معاملے کے خلاف ہیں۔ اس وقت پاکستان میں لاکھوں افغان باشندے ہیں اور طالبان اندرونی حالات کو بہتر بنا کر ان سب کو افغانستان واپس بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس دوران اسے پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ پشتون عوام "ڈیورنڈ” لائن کے دونوں طرف رہتے ہیں، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی سرحد ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا طالبان کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ پشتون پاکستان کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہیں اور ان کی تعداد اس ملک میں افغانستان سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں پشتونوں کی حفاظت، جن کا تعلق افغان طالبان سے ہے، تحریک طالبان کی طرف اس گروپ کے موقف کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بشار الاسد کی سفارتکاری

(تحریر: سید رضی عمادی) روس کے دورے کے بعد بشار الاسد غیر متوقع طور پر …