بدھ , 24 اپریل 2024

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اصفہان ڈرون حملے کے پیچھے اسرائیل ہے:ایران

نیویارک:اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اورمستقل مندوب نے کہا کہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصفہان میں وزارت دفاع کے ورکشاپ کمپلیکس پر حملے کی ذمہ دار صہیونی حکومت ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل اور عبوری چیئرمین کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے صہیونی حکام کے حالیہ بیانات کے جواب میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ وزارت دفاع کے ورکشاپ کمپلیکس پر ڈرون حملے کی ذمہ دار صہیونی حکومت ہے۔ مذکورہ کمپلیکس اصفہان شہر میں ہے اور صہیونی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور قابل مذمت ہے۔

ایروانی نے اپنے خط میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی قومی سلامتی کا دفاع کرنے کا اپنا جائز اور قانونی حق محفوظ رکھتا ہے اور صہیونی حکومت کی جانب سے لاحق کسی بھی خطرے یا غلط اقدام کا جہاں اور جس وقت بھی ضروی سمجھے بھرپور جواب دے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے لکھا کہ مزید برآں 31 جنوری 2023 کو سی این این کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت نے کھلے عام ان قابل مذمت جرائم میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس لیے اسے ایران کے خلاف ہونے والے تمام مجرمانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور بغیر کسی استثنا کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں اسرائیلی حکومت کی مسلسل بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے تباہ کن نتائج بالخصوص ایران کے اہم انفراسٹرکچر اور پرامن جوہری تنصیبات کے خلاف طاقت کے استعمال کے خطرے کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور اسرائیل کے اشتعال انگیز کے بیانات اور ریاستی دہشت گردی سمیت دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کرے جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ سلامتی کونسل کو یہ بھی مطالبہ کرنا چاہیے کہ اسرائیلی حکومت بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور خطے میں اپنے خطرناک منصوبے اور بدنیتی پر مبنی سرگرمیاں بند کرے۔

دوسری جگہ انہوں نے یوکرین کے موجودہ تنازعے کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی موقف کی بھی وضاحت کی جو کہ فعال غیر جانبداری اور یوکرین کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے یوکرین کے ایک سینئر اہلکار کے اشتعال انگیز اور بلاجواز بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا رویہ اور سوچے سمجھے بیان نہ صرف لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے جنگ پسندانہ رویے کی سختی سے مذمت کی جانی چاہیے اور اسے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

عمران خان نے تحریک انصاف کے کسی بڑے سیاسی رہنما کے بجائے ایک وکیل کو نگراں چیئرمین کیوں نامزد کیا؟

(ثنا ڈار) ’میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک …