اتوار , 21 اپریل 2024

امام علی علیہ السلام کی الہٰی انقلابی زندگی پر ایک مختصر نظر

شیعہ اور سُنی روایات میں نقل کیا گیا ہے کہ امام علی علیہ السلام کو پیغمبرِ اکرم ؐنے حق کا معیار و میزان قرار دیا ہے آپؐ نے فرمایا عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ يَدُورُ حَيْثُمَا دَارَ۔ ’’علیؑ حق کے ساتھ ہے اور حق علیؑ کے ساتھ ہے، حق علیؑ کے اردگرد گھومتا ہے‘‘۔ یعنی اگر آپ حق کی تلاش میں ہیں تویہ دیکھیں کہ علیؑ کہاں کھڑے ہیں، علیؑ کی انگلی کا اشارہ کس طرف ہے، علیؑ کا کیا مؤقف ہے۔

ابولآئمہ امام علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا دِن درحقیقت انسانیت کی تاریخ میں ایک بے مثال شخصیت کی ولادت کا دِن ہے۔ کوئی دوسری شخصیت، عظمت کے لحاظ سے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے برابر نہیں ہے۔ آپؑ کی ولادت کا دِن تمام مسلمانوں بلکہ تمام مظلوموں، عدالت پسندوں اور حریت پسندوں کے لئے عید کا دِن ہے۔ اور عظیم الشان عید کا دِن ہونے کے ساتھ ساتھ درس کا دِن بھی ہے۔ ہمیں امام المتقین امام علی علیہ السلام کی مبارک، پاکیزہ و نورانی زندگی سے درس لینا چاہیئے، اگر ہم آپ کی زندگی طیبہ سے درس لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ہمارے لئے اِس عید کی سب سے بڑی عیدی ہوگی۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی عظیم الشان شخصیت آپؑ کی ولادت سے لے کر شہادت تک کے تمام مراحل میں ایک غیر معمولی شخصیت ہے۔ امام علی علیہ السلام کی ولادت کعبے میں ہوتی ہے جس کا اعزاز نہ آپ سے پہلے کسی کو حاصل تھا اور نا ہی بعد میں کسی کو حاصل ہوا۔ آپ علیہ السلام کی شہادت بھی مسجد میں، محرابِ عبادت میں ہوتی ہے۔

ولادت اور شہادت کے درمیان آپ کی تمام زندگی جہاد فی سبیل اللہ، خدا کی رضا کی خاطر، صبر و استقامت، بصیرت اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے مسلسل حرکت و جدوجہد پر مشتمل ہے۔ بچپن کے آغاز سے ہی حکمت و تدبیرِ الہٰی سے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام، حبیبِ خدا حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر سایہ آجاتے ہیں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام جب چھ سال کے تھے تو پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم آپؑ کو جنابِ ابوطالبؑ کے گھر سے اپنے گھر لے آتے ہیں اور پھر زندگی کے تمام مراحل میں اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور آپ علیہ السلام بھی ہمیشہ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس وجود سے کسبِ فیض کرتے ہیں۔ غارِ حرا میں پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کے نزول کے دوران امام علی علیہ السلام ہی تھے جو اِن اہم ترین اورحساس لمحات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ امام علی علیہ السلام اِس بارے میں فرماتے ہیں وَلَقَدْ کُنْتُ أَتَّبِعُهُ اتِّباعَ الْفَصِیلِ أَثَرَ أُمِّهِ، یَرْفَعُ لِی فِی کُلِّ یَوْمٍ مِنْ أَخْلاقِهِ عَلَماً، وَ یَأْمُرُنِی بِالاقْتِداءِ بِهِ ’’میں ہمیشہ اونٹ کے بچے کی طرح جو اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے آپؐ کے پیچھے پیچھے چلا کرتا تھا اور آپؐ ہر روز پسندیدہ و محبوب صفات میں سے ایک صفت میرے لئے نمایاں فرماتے تھے اور مجھ سے فرماتے تھے کہ آپؐ کی پیروی کروں۔ [1]

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام ہمیشہ پیغمبر خداؐ سے پیوستہ اور آپؐ کے الہی و نورانی مقدس وجود سے کسب ِفیض فرماتے تھے۔ ایک جگہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّیْطانِ حِینَ نَزَلَ الْوَحْیُ عَلَیْهِ صَلّی اللّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ، ’’میں نے پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتے وقت شیطان کی چیخ و پکار سُنی اور پیغمبرِ اکرمؐ سے دریافت فرمایا فَقُلْتُ یا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الرَّنَّةُ؟ ’’یا رسول اللہ یہ کیسی آواز تھی جو میں نے سُنی؟ پیغمبرِ اکرمؐ فرمانے لگے هذَا الشَّیْطانُ قَدْ أَیسَ مِنْ عِبادَتِهِ، خَیْرٍ۔ یہ شیطان کی فریاد ہے کیونکہ وہ اپنی عبادت کئے جانے سے مایوس ہوچکا ہے۔ اِس کے بعد آپؐ فرماتے ہیں إِنَّکَ تَسْمَعُ ما أَسْمَعُ، وَ تَری ما أَری إِلاَّ أَنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیِّ وَ لکِنَّکَ لَوَزِیرٌ، وَ إِنَّکَ لَعَلی خَیْرٍ۔ “ جو کچھ میں سُنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو مگریہ کہ تم پیغمبر نہیں ہو لیکن میرے وزیر ہو اور تم خیر (نیکی) کے راستے پر چلو گے۔ [2]

امام علی علیہ السلام کے روحانی مقامات، امیرالمؤمنین کی توحیدی معرفت، آپؑ کی عبادت کا مقام، خدا کی بارگاہ میں تقرب کا مقام اور آپؑ کے اخلاص کا مقام، امام علیہ السلام کے اِن مقامات کی گہرائی تک پہنچنا ہماری پہنچ اور طاقت سے باہر ہے۔ تمام شیعہ و سنی مسلمان علماء نے حتیٰ غیر مسلم مفکریں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شخصیت کو مکمل طور پر سمجھنے سے اپنی عاجزی اور ناتوانی کا اظہار کیا ہے۔ ابن ابی الحدید سنی معتزلی عالِم جب توحید سے متعلق امام علیہ السلام کے خطبوں کا مطالعہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کے لئے حضرت علیؑ جیسے فرزند کے ہونے پر فخر کا مقام ہے۔ حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کی نسل سے اتنے سارے انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں لیکن ابن ابی الحدید فقط امام علی علیہ السلام کے بارے میں یہ جملے کہتا ہے۔

مولائے متقیان امام علی علیہ السلام کی زندگی کا دوسرا پہلو آپؑ کی مجاہدت اور انسانی طاقت سے بالاتر جہاد ہے۔ آپ علیہ السلام کی یہ فداکاریاں اور قربانیاں اپنی بلندی اور عروج پر نظر آتی ہیں۔ امیرالمؤمنین نے اسلام کی حفاظت کے لئے، پیغمبرِ اکرمؐ کی جان کی حفاظت کے لئے اور اسلامی امت کے شرف اور عظمت کے لئے بے انتہا قربانیاں دیں، ایسی قربانیاں جو انسانی طاقت سے بالا تھیں۔ ہجرت سے پہلے کے واقعات ہو یا شب ہجرت کا واقعہ ہو یا ہجرت کے بعد مدینے میں آپ کی قربانیاں ہوں یا پیغمبرِ خداؐ کی رحلت کے بعد کے واقعات، مولائے متقیانؑ کا صبر و استقامت ہو یا آپؑ کے اسلام کی بقاء کی خاطر اپنے زمانے کے خلفاء سے تعاون کا معاملہ ہو جو خود ایک بہت بڑی قربانی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے، اِسی طرح لوگوں کے شدید اصرار پر خلافت کا قبول کرنا بھی ایک بہت بڑی قربانی تھی اور اِسی طرح خلافت کے دوران جو کام انجام دیئے اور جو اقدامات آپؑ نے اُٹھائے یہ سب یکے بعد دیگرے آپ علیہ السلام کی مسلسل فداکاریاں تھیں۔

مولا علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ نماز پڑھی، پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ جہاد کیا، پیغمبر اکرمؐ کے لئے قربانیاں دیں۔ اپنی زندگی کے تمام لمحات میں خواہ پیغمبر اکرمؐ کی زندگی میں ہوں، خواہ اُن کی رحلت کے بعد ہو مختلف زمانوں میں حق کو قائم کرنے کے لئے، دین خدا کو نافذ کرنے کے لئے، اسلام محمدیؐ کی حفاظت کے لئے اپنی تمام تر کوششوں اور توانائیوں کو بروئے کار لائیں۔ شیعہ اور سُنی روایات میں نقل کیا گیا ہے کہ امام علی علیہ السلام کو پیغمبرِ اکرم ؐنے حق کا معیار و میزان قرار دیا ہے آپؐ نے فرمایا عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ يَدُورُ حَيْثُمَا دَارَ۔ ’’علیؑ حق کے ساتھ ہے اور حق علیؑ کے ساتھ ہے، حق علیؑ کے اردگرد گھومتا ہے‘‘۔ یعنی اگر آپ حق کی تلاش میں ہیں تویہ دیکھیں کہ علیؑ کہاں کھڑے ہیں، علیؑ کی انگلی کا اشارہ کس طرف ہے، علیؑ کا کیا مؤقف ہے۔ [3]

ہمیں نہج البلاغہ کامطالعہ کرنا چاہیئے، عصرِ حاضر میں بہت سارے غیر مسلمان مفکریں اور دانشور حضرات، نہج البلاغہ سے آشنا ہیں اور امیرالمؤمنینؑ کے حکیمانہ کلمات سے استفادہ کرتے ہیں اور اِن کلمات کی عظمت اور بلندی دیکھ کر ششدر و حیران رہ جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ نہج البلاغہ کے مطالعے کا خصوصی اہتمام کریں اور اُسے اپنے معاشرے میں رائج کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ امیرالمؤمنین صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہیں، اہل سنت علماء نے امام علی علیہ السلام کے حوالے سے ایسی اصطلاحات اور الفاظ کا استعمال کیا ہے کہ جو انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ جو کوئی بھی مسلمانوں میں سے اسلام کا حقیقی عاشق ہے وہ علمی لحاظ سے، روحانی اورمعنوی لحاظ سے اور اخلاقی اور انسانی لحاظ سے امیرالمؤمنین علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کی نورانی شخصیت کو عظمت کی بلند ترین چوٹی پر دیکھ سکتا ہے۔ [4] [1]۔ (نہج البلاغہ،خطبہ قاصعہ)
[ 2]۔ (نہج البلاغہ،خطبہ قاصعہ)
[3]۔ (لأمالي (للصدوق)، ص 89؛ الجمل، ص 81؛ الأمالي (للطوسي، المستدرک علی الصحيحين، ج 3، ص 135)

بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بائیڈن کے حماس سے اپنی شکست تسلیم کرنے کے چار اہم نتائج

ایک علاقائی اخبار نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کو مختلف جہتوں سے حماس کے خلاف امریکہ …