پیر , 20 مارچ 2023

عالمی سیاست پر انقلاب اسلامی ایران کے اثرات

(تحریر: علامہ ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری)

(حصہ دوم )

انقلاب کی تعریف

لفظ انقلاب پہلی نظر میں ایک ملک کی سیاسی حکومت میں بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ انقلاب ایک دیرینہ عادت میں اچانک تبدیلی کا نام ہے۔ حکومت قانون وضع کرتی ہے، اسے نافذ کرتی ہے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو سزادیتی ہے۔ اچانک ایک حکومت سے یہ سب اختیارات سلب ہو جائیں اور اس نظام سے تعلق رکھنے والے دور و نزدیک کے تمام افراد سیاسی اور سماجی اختیارات سلب ہوجائیں اور ایک حکومت جو تمام سیاسی اقتدار، سماجی اور ثقافتی مراکز کو کنٹرول کر کے معاشرے کے اتار چڑھاؤ کو جو اپنے قابو میں رکھتی تھی، اچانک سرنگون ہوجاۓ اور اسکی جگہ پر ایک نئی حکومت بر سر اقتدار آجا‎ۓ۔

شورش اور مارشل لا

بغاوت، شورش اور ناراضگی کے بحران کے نتیجہ میں سیاسی نظام کے ایڈمنسڑیشن میں تبدیلی آتی ہیں، لیکن اس کی بنیادوں کو اکھاڑ کر ان کو بالکل تبدیل کرنے کا سبب نہیں بنتے۔ بغاوت میں صرف خود تبدیلی کی اہمیت ہے نہ اس کی جگہ پر جانشین نظام کی۔

جو معاشرہ حکمران طبقہ سے مکمل طور پر ناامید نہ ہوا ہو، وہ امید رکھتا ہے کہ بعض اصلاحات کے ذریعہ معاشرہ پر حکمراں طبقہ کے حالات میں کسی طرح تبدیلی ایجاد کرکے کم سے کم نقصان پر اپنے مطالبات کو معمول کے مطابق نظام کے اندر ہی پورا کرے۔ اس تحریک اور تبدیلی کو اصلاحات کہتے ہیں۔

لفظ "انقلاب” کی تعریف میں پاۓ جانے والے تمام اختلافات کے باوجود، ایک نکتہ جو یقینی طور پر ہر ایک کے نزدیک مطلوب ہے وہ یہ کہ انقلاب کا معنی:” ایک معاشرہ کے اندر مختلف جہتوں سے تحول یعنی تحمیلی اقتدار و اعتقاد، سیاسی اداروں، اجتماعی ڈھانچوں، قیادت کے آئین و اصول اور سرگرمیوں میں فوری اور بنیادی تبدیلی لانے کی ایک تحریک ہے جو تشدد کے ساتھ ہو۔”

صدور انقلاب کے بارے میں امام خمینی (س ح) کا فرمان

امام خمینی(رہ) ایک ایسے عظیم انقلاب کے موجد و بانی تھے جس نے شہنشاہوں کے2500سالہ اقتدار کا یکسر خاتمہ کیا ۔ انہوں نے اپنی بے لوث و پرخلوص قیادت کے بل بوتے پر امریکہ، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرکے ایک خالص اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کیا (اور دنیا بھرمیں اسکے فروغ کیلیے آخری دم تک اپنی کوششیں جاری رکھی) دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین ایران کے پاکیزہ دل نوجوان، اور خواتین جن کے سینوں میں اسلامی جوش وخروش اور انقلابی لہر موجزن تھی ‘ عیش وآرام چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ انہوں نے شاہی نظام کے مقابلے میں، امام خمینی(رہ) کے فرمان پر لبیک کہتے ہوے،سلطنتی نظام کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام کا نعرہ بلند کیا ۔ الغرض پرخلوص اور دیانتدارانہ قیادت کے زیر اثرپسی ہو‏ئی قوم کواسلامی انقلاب کے طلوع کی خوش خبری سننے کو ملی ۔ امام خمینی (ر ح) کا مقصد صرف ایرانی قوم کی بیداری نہیں تھا بلکہ آپ دنیا کے سوۓ ہوۓ اقوام کو اپنے حقوق کے دفاع اور ظالم ،استعماری اور انکی حمایت سے قائم ہونے والی استبدادی حکومتوں کے خلاف قیام کیلیے بیدار کرنا تھا اس لیے آپ نے فرمایا:” اس انقلاب کوصادر (اس انقلابی فکر کو دوسری قوموں تک پہچانے) کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تمام سپر طاقتیں اور دیگر حکومتیں ہمیں نابود کرنا چاہتی ہیں، اگر ہم ایک بند ماحول میں رہیں تو اس کا نتیجہ نا کامی اور شکست ہوگا۔” امام کے اس پیغام میں ایک مظبوط پبلک ڈیپلومیسی کی طرف راہنما‏ئی تھی جو امام کی عالمی سوچ کی غماصی کرتی ہے۔

الحمد للہ امام کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور مختصر مدت میں اس کا اثر پوری دنیا پر پڑھا اور اسکے اثرات دنیا پر نمایان ہوے۔ جن کو ہم اختصار کے ساتھ ذیل میں بیان کررہے ہیں۔ (جاری ہے)۔بشکریہ حوزہ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قیادت کا امتحان

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان آج پولرائزڈ اور منقسم ہے جیسا کہ ماضی …