منگل , 23 اپریل 2024

عمران خان کی کہانی ختم نہیں ہوئی

(نسیم شاہد)

فرمایا ہے مریم نواز نے کہ عمران خان کے سلیکٹرز چلے گئے ان کی کہانی ختم ہو چکی ہے۔ مریم نواز کی تقریروں کا 90 فیصد حصہ عمران خان کے تذکرے و تنقید پر مبنی ہوتا ہے۔ عمران خان کی کہانی اگر ختم ہو گئی تو مریم نواز کی تقریروں کا کیا بنے گا؟ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو وہ پوری طرح پاکستان کی سیاسی کہانی میں موجود ہیں وہ کتنے موجود ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم ہوں یا وزراء مریم نواز ہوں یا مریم اورنگزیب، کوئی بھی ایسا نہیں جو عمران خان کا تذکرہ نہ کرتا ہو، میں تو ایک عرصے سے کسی ایسی تقریر کا منتظر ہوں جو آج کے ارباب اقتدار عمران خان کا نام لئے بغیر کریں صبح و شام ٹی وی چینلوں پر ایک ہی نام گونجتا ہے اور وہ عمران خان کا ہے، بھلا ایسے میں کوئی یہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ عمران خان کی کہانی ختم ہو گئی ہے۔ کہانی تو اب شروع ہوئی ہے اور اس نے بہت آگے تک چلنا ہے مریم نواز چونکہ پارٹی کو زندہ و متحرک کرنے کے لئے واپس آئی ہیں،اس لئے شہر شہر ورکرز کنونشن کر رہی ہیں ان ورکرز کنونشن میں کتنے لوگ آتے ہیں اس سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز کے پاس اپنے ورکرز کو امید دلانے کے لئے کچھ بھی نہیں اسی لئے وہ زیادہ تر خطاب عمران خان پر تنقید کر کے مکمل کرتی ہیں۔ مہنگائی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی اندھا بھی انکار نہیں کر سکتا، اس لئے مریم نواز کو بھی اس کا ذکر کرنا پڑتا ہے مگر جب وہ مہنگائی کا نزلہ بھی عمران خان پر گراتی ہیں تو ان کا مؤقف بہت کمزور ہو جاتاہے کیونکہ اپریل 2022ء میں جو مہنگائی تھی آج دو گنا سے بھی زیادہ ہے ڈیڑھ سو والا پٹرول اڑائی سو کا ہو چکا ہے ڈالر کی قیمت میں ایک سو روپے اضافہ ہو گیا ہے۔باقی روز مرہ اشیاء کی قیمتیں تو کئی سو گنا بڑھ گئی ہیں مرغی کا گوشت بھی چھ سو روپے کی ریکارڈ قیمت پر بک رہا ہے۔ گزرے ہوئے دس ماہ میں ایسا کیا جھاڑو پھرا ہے کہ جس نے ملک میں ہر چیز کو نایاب کر دیا ہے ایسے میں مریم نواز اگر یہ کہتی ہیں کہ مہنگائی عمران خان کی وجہ سے ہے تو اس پر یقین کون کرے گا؟ خود ان کے حامی بھی شاید یہ سن کر سوچتے ہوں کہ یہ عذاب تو پچھلے دس ماہ میں زیادہ نازل ہوا ہے، عمران خان کو اس کا الزام کیسے دیں؟

ویسے بھی اگر عمران خان کی کہانی ختم ہو گئی ہوتی تو پی ڈی ایم کی جماعتیں انتخابات سے اتنی خوفزدہ نہ ہوتیں، ڈنکے کی چوٹ پر میدان میں آتیں اور انتخابات کرانے کا اعلان کرواتیں اگرچہ مریم نواز یہ کہتی ہیں کہ ہم انتخابات کے لئے تیار ہیں مگر ان کی آواز نقار خانے میں طوطی جیسی ہے، پوری حکومت ایک طرف ہے اور مریم نواز دوسری طرف کی بات کر رہی ہیں۔ آوازیں تو یہاں تک اٹھ رہی ہیں کہ قومی اسمبلی کی جان نشستوں پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں بھی حصہ نہ لیا جائے یہ تو پیپلزپارٹی ہے جو اڑی ہوئی ہے کہ انتخابات میں حصہ لینا ہے عمران خان کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے اور وہ ڈنکے کی چوٹ پر انتخابات مانگ رہے ہیں کسی زمانے میں شاید عمران خان کو سلیکٹرز کی ضرورت پڑتی ہو گی، آج وہ اس مقام پر کھڑے ہیں کہ سلیکٹرز خود یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ان کا راستہ کیسے روکیں کوئی اس حقیقت کو نہیں مانتا تو اس کی مرضی ہے وگرنہ زمینی حقائق یہی ہیں کہ اس وقت عمران خان کی مقبولیت عروج پر ہے اور اگر انتخابات ہوئے تو وہ بڑی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ یہ بات ان کے سیاسی مخالفین کو بھی معلوم ہے اسی لئے وہ انتخابات سے دور بھاگ رہے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا حکم دیا ہے۔

یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ اس آئینی حد کو پس پشت ڈالنا ممکن نہیں گورنرز اگر اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تو اس کے پیچھے پی ڈی ایم کی جماعتوں کا خوف موجود ہے ان حالات میں انتخابات ہوئے تو دونوں اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی اکثریت یقینی ہے۔ دو صوبوں میں مخالف حکومتیں قائم ہو گئیں تو عام انتخابات میں پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ایک بڑی سخت صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں صوبوں میں انتخابات کرانے سے گریز کیا جا رہا ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں کیونکہ آئین کی بندش اپنی جگہ موجود ہے۔ خود پارٹی کے اندر سے ان کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں انہیں چیف آرگنائزر کا عہدہ دینے کے فیصلے کی مخالفت کی جا رہی ہے، ایسے میں اگر وہ پارٹی کو متحرک و منظم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو ان کی سیاست اور امیج کو بڑا نقصان پہنچے گا۔ صرف عمران مخالف بیانیہ بنا کر وہ کب تک چل سکتی ہیں عوام کو ریلیف چاہئے اور آئی ایم ایف کے معاہدے کی شرائط کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ اگلے مہینوں تو کیا کئی برسوں تک عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنا پڑے گا۔ نومبر تک 8 روپے فی یونٹ بجلی مہنگائی کرنے کا اعلان تو ہو ہی چکا ہے، ایسے میں صرف یہ کہہ دینے سے کہ یہ سب کچھ عمران خان کا کیا دھرا ہے بات نہیں بنے گی۔ عوام ہمیشہ زمانہ حال کے حکمرانوں سے امیدیں لگاتے ہیں اور انہی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اس بات کو مان لیا چاہئے کہ عمران خان نے اپنی کہانی کو بڑی خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی کارکردگی شاندار نہیں تھی وہ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے تھے انہوں نے معاشی میدان میں کامیابیاں حاصل نہیں کیں تھیں وہ ایک ناکام حکمران کے طور پر آگے بڑھ رہے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر انہیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جاتی تو ان کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ بھی نہ ہوتا مگر جب انہیں عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محروم کیا گیا تو گویا ان کے لئے غیبی امداد آ گئی، وہ معتوب سے معتبر بن گئے انہوں نے ایک ایسا بیانیہ اختیار کیا جو عوام کو متاثر کر گیا اور سائفر کی کہانی سپر ہٹ ہو گئی سونے پہ سہاگہ اتحادی حکومت کی بری کارکردگی ثابت ہوئی جس نے عوام کے سارے کس بل نکال دیئے وہ ساری باتیں جو عمران خان کے بارے میں کہی جاتی تھیں کہ وہ سلیکٹڈ ہیں اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ہیں، فوج کی بی ٹیم ہیں وغیرہ وغیرہ وہ سب باتیں اس رجیم چینج کے بعد یکدم بدل گئیں۔ آج قمر جاوید باجوہ کی بہت سی باتیں سامنے آ رہی ہیں جن میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ملک بچانے کے لئے عمران خان کو ہٹانا ضروری تھا، ایسی باتوں سے عمران خان کی اس کہانی کو جو انہوں نے اپنی حکومت کے بعد بنائی تھی مزید تقویت دے رہی ہیں گویا عمران خان کی کہانی پوری طرح زندہ ہے، ختم نہیں ہوئی اسے مزید زندہ ان معاشی حالات نے کیا ہے جو عوام کو درپیش ہیں اور ان کی زندگی کو اجیرن کئے ہوئے ہیں مریم نواز جو مرضی کہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ عمران خان کی کہانی نہ صرف موجود ہے بلکہ عوام میں مقبول بھی ہے۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …