اتوار , 21 اپریل 2024

چیئرمین نیب آفتاب سلطان عہدے سے مستعفی

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو ( نیب) کے چیئرمین آفتاب سلطان نے کام میں مداخلت پر تحفظات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ وزیراعظم نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے چیئرمین نیب کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چئیرمین نیب آفتاب سلطان کو مختلف معاملات پر تحفظات تھے، چئیرمین نیب نے کام میں مداخلت پر مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ وزیراعظم نے چیئرمین نیب کی خواہش پر استعفی منظور کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چیئرمین نیب نے وزیراعظم کو استعفے کی ذاتی وجوہات سے آگاہ کیا تھا۔

وزیراعظم آفس
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے آفتاب سلطان کی ایمانداری اور فرض شناسی کی تعریف کی، جب کہ آفتاب سلطان کے اصرار پر وزیراعظم نے ان کا استعفی منظور کیا تھا۔

واضح رہے کہ وفاقی کابیبہ کی جانب سے گزشتہ سال جولائی 2022 میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ اور ریٹائرڈ پولیس افسر آفتاب سلطان کو تین سال کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کا نیا چیئرمین بنانے کی منظوری دی تھی۔

آفتاب سلطان ایسے دوسرے سابق بیوروکریٹ تھے جنہیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ اِن سے قبل سابق بیوروکریٹ چوہدری قمر زمان کو چیئرمین نیب تعینات کیا گیا تھا۔ نیب کی تاریخ میں زیادہ تر چیئرمین ریٹائرڈ جرنیل بنے یا اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز، جنھوں نے سیاسی رہنماؤں کے علاوہ کاروباری شخصیات اور بیوروکریٹس کا بھی خوب احتساب کیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد یہ عہدہ چند ہفتوں تک خالی رہا تھا۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود جاوید اقبال کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے توسیع دی گئی تھی۔

جاوید اقبال کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد عمران خان بطور چیف ایگزیکٹیو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور موجود وزیراعظم شہباز شریف سے نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق مشاورت کرنے پر رضامند نہیں ہوئے تھے جس کے بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ملازمت میں توسیع کی گئی تھی۔

آفتاب سلطان کی تعیناتی پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ آفتاب سلطان کا پورا کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ انتہائی آزاد، دیانتدار اور شفاف افسر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ وہ نیب کو میرٹ پر بہترین انداز میں چلائیں گے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سینیر رہنما شفقت محمود نے شہباز شریف پر ’اپنے وفادار‘ کو نیب چیئرمین تعینات کرنے کا الزام لگایا تھا، جب کہ تحریک انصاف ہی کے رہنما ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے اعلان کیا تھا کہ آفتاب سلطان کی بطور چیئرمین نیب تعیناتی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

آفتاب سلطان کون؟
آفتاب سلطان سال 1954 میں پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک سیاسی اور صنعتی گھرانے میں پیدا ہوئے۔

پنجاب یونیورسٹی سے قانون میں گریجوئیشن کے بعد آفتاب سلطان نے سال 1977 میں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور پولیس سروس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

آفتاب سلطان اپنے کیریئر کے دوران مختلف تنازعات کا شکار بھی رہے۔ جب سابق صدر مرحوم سید پرویز مشرف نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کے بعد سال 2002 میں ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس وقت آفتاب سلطان سرگودھا میں ڈی آئی جی کے عہدے پر تعینات تھے۔

عام انتخابات کے بعد سال 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو اس وقت کے نئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آفتاب سلطان کو ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو (ڈی جی آئی بی) کے عہدے پر تعینات کیا۔ تاہم جب سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو آصف زرداری سے متعلق مقدمات میں سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کی پاداش میں نااہل قرار دیا تو ان کے بعد راجہ پرویز اشرف نے آفتاب سلطان کو ڈی جی آئی بی کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

آفتاب سلطان سنہ 2013 کے عام انتخابات کے وقت ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس تھے۔ ان انتخابات کے بعد جب مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو نواز شریف نے آفتاب سلطان کو ڈی جی آئی بی کے عہدے پر دوبارہ فائز کر دیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل دنیا کی ہمدردیاں کھو چکا ہے: امریکی عہدیدار

واشنگٹن:امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ یہ …