جمعہ , 31 مارچ 2023

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

(غریدہ فاروقی)

پاکستان اس وقت شدید سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کرانے کے حکم نے سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔

اسی سلسلے میں الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے صدر مملکت کو الیکشن کے لیے تاریخ تجویز کردی جس کو صدر علوی نے فوراً منظوری دے کر 30اپریل کو پنجاب میں الیکشن کا اعلان کردیا۔

صدر کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور انتخابات کی تیاریوں پر مشاورت ہوئی ۔

انتخابات کے قریب آتے ہی عمران خان مکمل طور پر فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں اور ان کی دھواں دار اننگز کے سامنے ن لیگ بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

عمران خان کی جارحانہ سیاست کے سامنے جہاں مسلم لیگ ن کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا، وہیں مسلسل خراب معاشی حالات اور مہنگائی کا طوفان ان کے الیکشن میں جیتنے کے امکانات کو مکمل ختم کر رہا ہے۔

عمران خان نے اس وقت جس طرح کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے، اس سے واضح ہے کہ وہ انتخابات کے لیے مکمل طور تیار ہیں ۔

انہوں نے اپنی جماعت کو بھی الیکشن مہم شروع کرنے کی ہدایات دے دی ہیں۔

عمران خان جہاں ایک طرف اپنے مخالفین کو لتھاڑرہے ہیں وہیں دوسری طرف وہ عسکری قیادت سے اچھے تعلقات کے خواہاں بھی نظر آرہے ہیں ۔ اسی سلسلے میں انہوں نےدبے ہاتھوں موجودہ آرمی چیف سے ملک کی خاطر بات چیت کرنے کے لیے آمادگی بھی ظاہر کردی۔

عمران خان کے لیے حالات اس وقت نہایت سازگار ہیں اور انتخابات کے لیے انہیں عوام کے پاس جانے میں کوئی خاس مسئلہ نہیں ہوگا کیوں کہ ان حکومت کی جتنی بھی ناکامیاں تھیں وہ نا چاہتے ہوئے بھی پی ڈی ایم کے گلے پڑ رہی ہیں۔

ایسے میں الیکشن کا ہونا ان کے لیے بڑی کامیابی کا باعث ہے کیونکہ وہ جب سے حکومت سے نکلے ہیں ، ان کی یہی کوشش رہی ہے کہ کسی طور انتخابات ہوجائیں اور اب بالآخر صوبائی انتخابات کی صورت میں ان کے خواہش کی تکمیل ہوتی نظر آرہی ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن اور اتحادی حکومت کی باقی جماعتوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے تو انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

اب مقرر ہ تاریخ پر صوبائی الیکشن ہوتا ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس وقت کی صورت حال سے جو لگ رہا ہے وہ یہی ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم جوئی کا آغاز کردیا ہے۔

اس سلسلے میں پارٹی کی سینیئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز آگے آگے ہیں۔

مریم نواز اس وقت ملک بھر میں پارٹی کی تنظیم سازی میں مصروف ہیں اور ان کے مسلسل بیانات بھی آرہے ہیں ۔ کچھ دنوں پہلے انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی تو حکومت نہیں ہے ، جس پر کئی سوالوں نے جنم لیا ۔

اس کے علاوہ مریم نواز مسلسل عمران خان اور ان کی جماعت پر تنقید کررہی ہیں لیکن وہ کوششوں کے باوجود اپنی جماعت کے لیے کوئی بیانیہ نہیں بنا رہی ہیں۔

حالیہ تنظیمی دوروں کے دوران انہوں نے مسلسل عدلیہ کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا ، اور بظاہر ایسے لگ رہا تھا وہ اسی کے گرد اپنا نیا انتخابی بیانیہ بنائیں گی ۔

لیکن عمران خان کی مقبولیت اور سیاسی حکمت عملی شاید ان کے بیانیے کے بننے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے اس وقت انتخابی مہم بہت بڑا چیلنج بن کے سامنے آرہا ہے کیوں وہ عوام کے پاس ووٹ کیا بول کر مانگیں گے۔

جب گذشتہ سال اپریل میں وہ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد حکومت میں آئے تو ان کا یہی بیانیہ تھا کہ ہم پاکستان کو بچانے کی خاطر اپنا سب کچھ لگادیں گے ۔

آج تقریباً ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن جن چیزوں کا وعدہ کرکے 13جماعتوں کا اتحاد حکومت میں آیا تھا اس پر کامیابی تو درکنار اس وقت حالات پہلے سے کہیں زیادہ بدتر ہیں ۔

اس ایک سال سے بھی کم عرصے میں وہ ایک وزیر خزانہ بدل کر بھی معاشی استحکام لانے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں ۔

پاکستان اس وقت دیوالیے کے نہج پر کھڑا ہے لیکن امید کی کوئی کرن سامنے نہیں ۔ ایک آئی ایم ایف معاہدے کا آسرہ تھا لیکن وہاں سے بھی کوئی مثبت جواب نہیں مل رہا حالانکہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی خاطر سخت سے سخت فیصلے کرنے کے باوجود اس وقت کوئی پیش رفت نہیں ہوپارہی ہے ۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ، منی بجٹ کی صورت میں ٹیکسز کا نیا طوفان بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کے لیے ناکافی ہے ۔

ان سارے حالات میں ن لیگ کے اندرونی اختلافات بھی حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آرہے ہیں ۔

سابق وزیر خزانہ اور ن لیگ کے سینیئر رہنما مفتاح اسماعیل کی مسلسل اپنے ہی جماعت پر تنقید ہم سب کے سامنے ہے۔اس کے علاوہ سینیئر لیڈر شپ کی ناراضگی کو مریم نواز کیسے دور کریں گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن موجودہ صورت حال سے واضح ہے کہ حالات مسلم لیگ ن کا بالکل بھی ساتھ نہیں دے رہے۔ ایسی صورت حال میں انتخابات کا ہونا ان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گی۔

اس وقت پاکستان میں ایک اہم موضوع مبینہ آڈیو لیکس کا بھی چل رہا ہے ۔ گذشتہ کچھ عرصے سے خاص طور پر عمران خان کی حکومت کے بعد ملک میں اہم شخصیات کی مبینہ آڈیوز مسلسل لیک ہورہی ہیں۔

اسی سلسلے میں گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما فواد چوہدری کی اپنے بھائی سے ہونی والی مبینہ گفتگو لیک ہوئی جس میں وہ مبینہ طور سپریم کورٹ کے ججز سے متعلق گفتگو کررہے ہیں ۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے ایک جج اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی بھی مبینہ گفتگو لیک ہوئی تھی ۔

اب ساری صورت حال میں یہ دیکھنا ہوگا آیا یہ مبینہ گفتگو سب سے پہلی بات لیک کون کررہا ہے اور کس مقصد سے کررہا ہے۔

دوسری بات اس کی سنجیدہ تحقیقات کرائی جائے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں اس وقت شخصی آزادی کو استحصال کیا جارہا ہے ۔

ان ساری چیزوں پر گفتگو سے ایک بات بہت واضح ہے کہ اس وقت ساری سیاسی جماعتیں اپنی سوچ و فکر میں مبتلا ہیں اور کسی طرح الیکشن جیتنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن اس وقت سب یہ بھول رہی ہیں کہ عوام کس نازک حالات سے گزررہی ہے ، مہنگائی نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔

غریب تو چھوڑیں اس وقت متوسط طبقے کو بھی کھانے کے لالے پر گئے ہیں ایسے میں وہ کس منہ سے ان سے ووٹ مانگیں گے ۔

حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی آپسی رنجشیں اور اختلافات بھلا کر ملک اور اس بھوکی ننگی عوام کی خاطر کوئی عملی کام کر کے دکھائیں کیونکہ اگر اسی طرح کے حالات رہے تو خدانخواستہ جب ملک ہی نہ بچے گا تو سیاست کس کے لیے کریں گے۔

سیاسی جماعتیں اس مشکل کی گھڑی میں ایک پیج پر ہوکر اور سنجیدہ طریقے سے عوام اور پاکستان کی فلاح کے لیے قدم اٹھائیں تاکہ ملک میں استحکام آسکے ۔بشکریہ دی انڈیپنڈنٹ

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

بائیڈن کی جمہوریت کانفرنس اور پاکستان کا شرکت سے انکار

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) امریکہ جمہوریت کے فروغ کے نظریہ کے ساتھ دوسری بین الاقوامی …