جمعرات , 30 مارچ 2023

بلوچستان: ہرنائی میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکا، 6 کان کن جاں بحق

کوئٹہ:بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان کے اندر گیس کے دھماکے میں کم از کم 6 کان کن جاں بحق ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ کان کن تقریباً 1500 فٹ کی گہرائی میں کھدائی کر رہے تھے، کان کے اندر میتھین گیس جمع ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا۔

دھماکے کی شدت کی وجہ سے کان کا ایک حصہ منہدم ہونے سے مزدور اندر پھنس گئے اور اس کا داخلی راستہ بند ہوگیا۔

ریسکیو اور لیویز اہلکاروں نے کان کنوں کی ٹیم کے ساتھ مل کر سرچ آپریشن شروع کیا تاہم ریسکیو ٹیم میں شامل 5 افراد میتھین گیس کی موجودگی کے باعث بے ہوش ہو کر کان میں پھنس گئے۔

بعدازاں ایک اور ٹیم کان میں داخل ہوئی اور بے ہوش ریسکیو ورکرز کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئی اور انہیں قریبی مرکز صحت منتقل کر دیا گیا۔

بلوچستان کے چیف انسپکٹر آف مائنز عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں دھماکے کی جگہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں تاہم اس وقت تک تمام 6 کان کن جاں بحق ہوچکے تھے، انہوں نے بتایا کہ تمام 6 لاشیں کان سے نکال لی گئی ہیں۔

لاشوں کو طبی کارروائی کے لیے شاہرگ کے رورل ہیلتھ سینٹر منتقل کر دیا گیا، محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 3 دیگر کان کنوں کی حالت تشویشناک ہے، انہیں کوئٹہ سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے 3 کان کنوں کا تعلق افغانستان سے تھا، 2 کا تعلق قلعہ سیف اللہ اور ایک کا ہرنائی سے تھا، عبدالغنی بلوچ نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کان کنوں کی ہلاکت پر دکھ اور اموات کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر جامع رپورٹ پیش کریں۔

انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ کوئلے کی کانوں میں اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔

بلوچستان بھر کی کانوں میں کان کن ناقص حفاظتی پروٹوکول کی وجہ سے انتہائی خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں، صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے سبب یہ کان کن اکثر عسکریت پسندوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

27 فروری کو نامعلوم حملہ آوروں نے ضلع ہرنائی میں 4 کان کنوں کو گولی مار کر قتل اور 3 کو زخمی کر دیا تھا، حملہ آوروں نے جائے وقوع سے فرار ہونے سے پہلے کوئلے کی 11 کانوں کو آگ لگا دی تھی۔

گزشتہ برس مارچ میں ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان سے 3 مزدوروں کو 100 گھنٹے سے زیادہ پھنسے رہنے کے بعد بحفاظت ریسکیو کیا گیا، میتھین گیس کی وجہ سے ہونے والے دھماکے کی وجہ سے کُل 6 کان کن پھنس گئے تھے، ریسکیو اہلکار 24 گھنٹوں کے اندر 3 کان کنوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ دیگر 3 کان کنوں کو کان کے ملبے کے اندر گہرائی میں پھنسے ہونے کے سبب ریسکیو نہ کیا جاسکا۔

یہ بھی دیکھیں

آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہوگئے، اسحاق ڈار

اسلام آباد :سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی …