جمعرات , 18 اپریل 2024

ایپل بھارت میں بنے نئے پلانٹ میں آئی فون تیار کرے گا

نئی دہلی:موبائل فون بنانے والی دنیا کی مشہور و معروف کمپنی ایپل نے کہا ہے کہ وہ بھارت میں بننے والے اپنے نئے پلانٹ میں آئی فونز تیار کرے گی۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے یہ فیصلہ بھارت میں اپنی پیداوار میں اضافے اور چین سے ہٹ کر دیگر ممالک میں پیداوار کو فروغ دینے کے لیے کیا ہے۔

فلیگ شپ موبائل کی عالمی سپلائی چین بنیادی طور پر چین میں قائم ہے جہاں گزشتہ سال کوویڈ کی سخت پالیسیوں اور امریکا کے ساتھ جاری سفارتی تناؤ نے پیداوار کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔

ریاست کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج ایس بومائی نے جمعے کو ٹوئٹ کیا کہ ریاست میں جلد ہی ایپل فون بنائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام کرناٹک کے لیے تقریباً ایک لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کے علاوہ دیگر بہت سارے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

بھارت کے وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ مجوزہ فیکٹری ریاست میں 300 ایکڑ پر محیط ہوگی۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب فاکس کون کے چیئرمین ینگ لیو نے اس ہفتے کے اوائل میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد جمعے کو اس شہر کا دورہ کیا۔

مودی نے بدھ کو ٹوئٹ کیا تھا کہ ہماری بات چیت میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا، جس کا مقصد ہندوستان کے ٹیکنالوجی اور جدید ایکو سسٹم کو فروغ دینا ہے۔

لیو نے جمعرات کو الیکٹرونکس مینوفیکچرنگ کی سہولیات قائم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس سے پڑوسی ریاست تلنگانہ میں ایک لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔

فاکس کون آئی فون اسمبل کرنے والی دنیا کی سرفہرست کمپنی ہے اور 2019 سے جنوبی ریاست تامل ناڈو میں اپنے پلانٹ میں بھارت میں ایپل کے ہینڈ سیٹس تیار کر رہی ہے۔

تائیوان کے دو دیگر سپلائرز ویسٹرون اور پیگاٹرون بھی بھارت میں ایپل کے فون اور دیگر آلات تیار اور اسمبل کرتے ہیں۔

ایپل نے گزشتہ ستمبر فلیگ شپ ماڈل لانچ کرنے کے چند ہفتوں بعد کہا تھا کہ وہ اپنا تازہ ترین آئی فون 14 بھارت میں تیار کرے گا۔

لیکن بھارت میں ایپل کی عالمی پیداوار کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ تیار کیا جاتا ہے اور بلومبرگ کے مطابق بھارت اس فہرست میں امریکا، چین، جاپان اور پانچ دیگر ممالک سے پیچھے ہے۔

یہ بھی دیکھیں

لکڑی سے بنا دنیا کا پہلا سیٹلائیٹ آئندہ برس لانچ کیا جائے گا

کیوٹو: امریکی خلائی ادارہ ناسا اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے ای ایکس اے) …