بدھ , 29 مارچ 2023

پنجاب پولیس کے تشدد سے ایک کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب پولیس کے مبینہ تشدد اور شیلنگ سے پی ٹی آئی کا ایک کارکن جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، پولیس نے پیش قدمی کرنے والے متعدد کارکنان کو گرفتار بھی کرلیا۔

پی ٹی آئی کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کے تشدد اور شیلنگ سے متعدد کارکنان زخمی ہوئے جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ایک کارکن بلال اسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا۔ ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق بلال کے سر پر پولیس نے ڈنڈے مارے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مقتول کارکن کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ دیر قبل بلال زمان پارک کے باہر موجود تھا۔پی ٹی آئی کارکنوں کے تشدد سے 2 ڈی ایس پیز، ایس ایچ او اور گیارہ اہلکار زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

دوسری جانب پنجاب پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہر میں پی ٹی آئی اے کے پر تشدد ہنگاموں کے دوران لا اینڈ آرڈر کنٹرول کرتے ہوئے پولیس کی کئی جوان شدید زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد سے دو ڈی ایس پیز سمیت گیارہ اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں ڈی ایس پی سبزہ زار، ڈی ایس پی ٹاؤن شپ شامل ہیں جبکہ ایس ایچ او ہنجروال بھی پتھراؤ سے زخمی ہوئے۔

علاوہ ازیں کانسٹیبل عرفان،ندیم، بلال،وقار،عبدالستار، علی عصمت، سکندر، علی حمزہ بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

بلال کو قتل کیا گیا، آئی جی اور سی سی پی اور کیخلاف مقدمہ درج کروائیں گے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کارکن کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نہتے ، جانثار اور پرجوش کارکن علی بلال کو پنجاب پولیس نےشہید کردیا، انتخابی ریلی میں شرکت کیلئےآنے والےنہتے کارکنان کیساتھ ایسا وحشیانہ سلوک نہایت شرمناک ہے۔

انہوں نے لکھا کہ پاکستان اس وقت خون کے پیاسےمجرموں کےچنگل میں ہے، ہم کارکن کے قتل کا مقدمہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی اور میں درج کرائیں گے۔ بلال کو پولیس حراست میں قتل کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرنے کا حکم

دریں اثنا وزیر اعلی پنجاب سید محسن نقوی نے ہنگامہ آرائی میں مبینہ طور پر شہری کے جاں بحق ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا اور مکمل غیرجانبدارانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعے میں جو بھی ملوث پایا جائے، قانون کے تحت انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں، پی ٹی آئی کی طرف سے دکھائی جانے والی ویڈوز آج کی نہیں بلکہ پرانی اور جیل بھرو تحریک کی ہیں، اس ویڈیو کی دانستہ جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے کہ یہ شخص پولیس حراست میں تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکشاف ہوا کہ جاں بحق شخص کو ایک پرائیویٹ گاڑی سروسز اسپتال چھوڑ کر گئی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ’سیف سٹی کیمروں کے ذریعے اس گاڑی اور اس کے سواروں کی تلاش جاری ہے تاکہ سچائی سامنے آئے، پوسٹ مارٹم، سیف سٹی رپورٹ کے بعد درست حقائق کا تعین ممکن ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ زمان پارک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے تشدد سے آج 11 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، زخمیوں میں سبزہ زار اور ٹاؤن شپ کے ڈی ایس پیز، ایس ایچ او ہنجروال بھی شامل ہیں، 8 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جن میں عرفان، ندیم، بلال، وقار، عبدالستار، علی عاصمد، سکندر اور علی حمزہ شامل ہیں۔

ترجمان ایم ایس سروسز اسپتال

ایم ایس سروسز اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ شہری کو جب اسپتال لایا گیا تو اُس کی موت ہوچکی تھی، مقتول کے سر پر گہری چھوٹ دی، سروسز اسپتال میں پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا کیونکہ ضابطے کی کارروائی لاہور جنرل اسپتال یا میاں منشی اسپتال میں ہوتی ہے۔ترجمان نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد موت سے متعلق مزید میڈیکل رائے دی جاسکتی ہے۔

پولیس ایکشن

قبل ازیں پنجاب حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی ریلی روکنے کےلیے مال روڈ پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔ کینال روڈ سے زمان پارک کی طرف جانے والے تمام راستے بند کیے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرکے جلسہ ، جلوس ، ریلی پر پابندی عائد کر دی۔ لاہور میں ٹریفک اور سکیورٹی کی خراب صورتحال کے پیش نظر پابندی لگائی گئی، جس کا نفاذ آج سے شروع ہو گا جو آئندہ 7 روز تک جاری رہے گی۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار: فوجی حکومت نے آنگ سان سوچی کی پارٹی کو تحلیل کر دیا

نیپیداو : میانمار کی فوج کے زیر کنٹرول الیکشن کمیشن نے معزول رہنما آنگ سان …