پیر , 22 اپریل 2024

ہیلی کاپٹر کی پنکھڑیاں اوپر اور جہاز کے پر سائیڈ پر کیوں ہوتے ہیں؟

اسلام آباد:آپ میں سے تقریباً سب لوگوں کو یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ ہیلی کاپٹر کی پنکھڑیاں ( پر) اوپر کی جانب ہوتے ہیں جبکہ ہوائی جہاز کے پر سائیڈ پر لگے ہوتے ہیں۔

ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز دونوں کا کام فضائی سفر ہے لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے کہ جب دونوں کا کام ایک جیسا ہی ہے تو پھر ایک کے پر اوپر اور دوسرے کے سائیڈ پر کیوں ہیں؟

اگر آپ نے کبھی ایسا نہیں سوچا یا آپ کو یہ معلوم نہیں ہے تو آج ہم آپ کو اس بارے میں بتائیں گے کہ ایسا کیوں ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟

ہیلی کاپٹر کیسے اڑتا ہے؟
ہیلی کاپٹر کے درمیانی حصے میں اوپر کی جانب روٹر لگا ہوتا ہے، جب روٹر تیزی سے گھومنا شروع ہوتا ہے تو اس پر لگی پنکھڑیاں بھی گھومتی ہیں جس سے ہوا کا شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے اور ہیلی کاپٹر ہوا میں اڑنا شروع کر دیتا ہے، روٹر کو کنٹرول کرنے کے تمام اختیارات پائلٹ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، روٹر کے اینگل تبدیل کر کے ہیلی کاپٹر کو آگے پیچھے یا اوپر نیچے حرکت دی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ہیلی کاپٹر کے پچھلے حصے پر بھی ایک پنکھا لگا ہوتا ہے جو ہیلی کاپٹر کو اینگل تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہوائی جہاز کیسے اڑتا ہے؟
ہوائی جہاز ہیلی کاپٹر کے مقابلے میں سائز میں بڑے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے پر بھی سائز میں بڑے ہوتے ہیں جو جہاز کے درمیان میں دائیں اور بائیں جانب جڑے ہوتے ہیں۔

ہوائی جہاز کے پروں کے نیچے طاقتور انجن لگے ہوتے ہیں جو جہاز کو اڑنے اور اسے دائیں بائیں موڑ کاٹنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، انجنز کو کنٹرول کرنے کا سارا نظام کاک پٹ میں موجود ہوتا ہے۔

ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز میں فرق
ہیلی کاپٹر فضا میں آگے پیچھے اور اوپر نیچے حرکت کر سکتا ہے اور یہ فضا میں بھی ساکت رہ سکتا ہے جبکہ ہوائی جہاز صرف آگے کی جانب حرکت کر سکتا ہے اور دائیں یا بائیں حرکت کرنے کے لیے ہوائی جہاز کو گول چکر گھومنا پڑتا ہے۔

ہوائی جہاز کے اگلے حصے میں لگے بلیڈز اسے آگے کی جانب دھکیلنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ پروں کے نیچے لگے طاقتور انجنز اسے اڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، انجنز چلنے سے پروں پر بہت زیادہ پریشر پیدا ہوتا ہے اور جہاز اوپر کی جانب اڑنے لگتا ہے اور فضا میں تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

لکڑی سے بنا دنیا کا پہلا سیٹلائیٹ آئندہ برس لانچ کیا جائے گا

کیوٹو: امریکی خلائی ادارہ ناسا اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے ای ایکس اے) …