اتوار , 26 مارچ 2023

روس کا یوکرین کیخلاف آواز سے 5 گنا تیز ہائپر سونک میزائلز کااستعمال

ماسکو :روس یوکرین کیخلاف ہائپر سونک میزائلز کااستعمال کررہا ہے، یہ میزائل آواز سے 5 گنا تیز رفتاراورانہیں کسی بھی زمینی میزائل سسٹم سے مارگرانا ناممکن ہے۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نےیوکرین کیخلاف جنگ میں پہلی مرتبہ کنزال میزائل داغا ہے اور تاریخ میں پہلی بار ہی کسی جنگ میں ہائپر سونک ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے، یہ ہائپر سونک میزائل، تمام روایتی بیلسٹک میزائلوں کی طرح آواز سے کم ازکم پانچ گنا زیادہ رفتار سے سفرکر سکتے ہیں ،تاہم یہ انتہائی حرکت پذیر ہیں اور انہیں فضا میں کم راستے کی ضرورت ہوتی ہے ، کیونکہ وہ ریڈارکا پتا لگانے والے سسٹمز کے ذریعہ شناخت نہ ہونے اورپرواز کی اونچائی کو ایڈجسٹ کرتے ہیں، اسی وجہ سے انھیں کسی ملک کے میزائل دفاع کے ذریعے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس حوالے سے ماسکو کا کہنا ہے کہ کنزال روسی ساختہ جدید ترین فضائی نظام ہے جس میں ہائپرسونک ایر بیلسٹک میزائل نصب ہیں۔روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق روسی مِگ 31 کے اور مگ 31 آئی لڑاکا طیاروں میں کنزال ہائپرسونک میزائل موجود تھے۔یہ ریڈار سٹیلتھ اور اعلیٰ ٹیکٹیکل صلاحیت کے حامل ہیں اور یہ زمینی اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کنزال آواز کی رفتار سے دس گنا زیادہ رفتارحاصل کرسکتا ہے اور 2000 کلومیٹر سے زیادہ کی رینج پر اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے،یہ میزائل خود ہی پرواز کے پورے راستے پر چلنے اور کسی بھی فضائی اور اینٹی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کی خلاف ورزی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسے 500 کلوگرام وزنی روایتی اور جوہری وار ہیڈز سے لیس کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب یوکرینی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے 34 کروز میزائل اور چار ایرانی ساختہ شاہد ڈرون مار گرائے ہیں۔روسی فضائی حملے کے بعد تنصیبات کو لگی بجھائی جا رہی ہےیوکرین کی فوج آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں بھی کافی ماہر ہو گئی ہے،ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آج استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ مار گرایا گیا جس میں 70 فیصد سے زیادہ کروز میزائل گرائے گئے اور آدھے ڈرونز کو گرا لیا گیا۔یوکرین کی فوج کے کمانڈر انچیف والیری زلوزنی کے مطابق، مزید آٹھ میزائلوں کو ناکام بنا دیا گیا جسے انھوں نے ’منظم جوابی اقدامات‘ قرار دیا۔

خیال رہےگزشتہ سال 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے بعد سے روسی افواج کئی بار یہ میزائل داغ چکی ہیں ،اس وقت امریکی جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل مارک میلی نے اس کی اہمیت کونظرانداز کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ میں اس کے کھیل کی تبدیلی(گیم چینجنگ) کے اثرات نہیں ہیں۔یاد رہےروسی وزیردفاع سرگئی شوئیگو نے گزشتہ سال اگست میں یوکرین میں ان میزائلوں کے استعمال کی متعدد بار تصدیق کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ کنزال میزائل کا نہ تو پتالگایا جاسکتا ہے اوراسے روکنا بھی ناممکن ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے عراق پر حملے کے دوران کم از کم 300 ٹن یورینیم استعمال کیا:رپورٹ

بغداد:روسی فوج کے حیاتیاتی، کیمیائی اور ریڈیولاجیکل ڈیفنس یونٹ کے کمانڈر نے یاد دلایا کہ …