جمعہ , 19 اپریل 2024

تہران- ریاض معاہدہ، نئے مشرق وسطی کی نوید:امریکی ویب سائٹ

واشنگٹن:ایک امریکی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ تہران-ریاض معاہدہ، امریکہ کے بعد کے مشرق وسطیٰ کی نوید سناتا ہے۔امریکی ویب سائٹ نے رپورٹ میں مغربی ایشیا میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ریاض اور تہران کے درمیان معاہدہ، امریکہ کے بعد کے مشرق وسطیٰ کی نمائندگی کرتا ہے۔

اس رپورٹ کا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے کہ امریکہ کے بعد کے مشرق وسطیٰ میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اس رپورٹ میں اسی طرح مغربی ایشیا میں امریکہ کے گھٹتے ہوئے اثر و رسوخ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 9/11 کے حملوں کے بعد کے برسوں کے تباہ کن اثر و رسوخ سے لے کر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی سفارت کاری تک کئی دہائیوں سے امریکی اثر و رسوخ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس امریکی ویب سائٹ نے ان مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اب چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان باضابطہ طور پر مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا ہے اور دونوں ممالک میں سفارت خانے دو ماہ کے اندر دوبارہ کھلنے جا رہے ہیں، اس معاملے کا سب سے دلچسپ اور متحرک نکتہ یہ ہے کہ چین نے اس عمل کی رہنمائی اور قیادت کی ہے۔

مغربی ایشیائی امور اور چین کے مسئلے کا وسیع تجربہ رکھنے والے ایک ریٹائرڈ سفارت کار چاس فریمین کہتے ہیں کہ اگر آپ سفارتی خلا پیدا کریں گے تو لوگ اسے پُر کریں گے اور بنیادی طور پر خلیج فارس میں امریکی پالیسی کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے، یہ تجربہ واقعی اہم اور عظیم ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

روس کے الیکشن میں مداخلت نہ کی جائے: پیوٹن نے امریکا کو خبردار کر دیا

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ …