بدھ , 24 اپریل 2024

ایران اور سعودی عرب سے ہم نے کیا سیکھا!؟

(تحریر: نذر حافی)

7 دسمبر 2022ء کی بات ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچے۔ میڈیا میں ایک ہی چیخ و پکار تھی کہ چین اب سعودی عرب کی گود سے نہیں نکلے گا۔ ایسے میں 11 دسمبر 2022ء کو راقم نے بھی ایک کالم بعنوان "چینی صدر کا دورہِ سعودی عرب۔۔۔ روشنی ہی روشنی” لکھا۔ کالم میں درج تھا کہ "ہمیں ذرائع ابلاغ صرف ایک ہی تصویر دکھا رہے ہیں کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے، پس سعودی عرب کی دوستی کی وجہ سے اب آئندہ چین بھی ایران کے مخالف ہوگا۔ حالانکہ اس دورے کی ایک دوسری تصویر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے۔ اگر چین اور سعودی عرب آپس میں قریب ہوتے ہیں تو اس سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی قربت بڑھے گی۔” توقع کے عین مطابق قربت بڑھتی گئی۔ 14 فروری 2023ء کو ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے چین کا دورہ کیا۔ کئی اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

دوسری طرف 2021ء سے عراق اور عمان کے تعاون سے بھی ایران و سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار بیت چکے تھے۔ بالآخر 10 مارچ 2023ء کو بروز جمعہ بیجنگ میں چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان صلح اور نئے تعلقات کا ایک معاہدہ طے پاگیا۔ ہمارا اس معاہدے میں کوئی کردار ہی نہیں۔ ہم بحیثیت قوم نہ تین میں شمار ہوتے ہیں اور نہ تیرہ میں۔ ملک میں اس وقت جو دنگل کا سماں ہے، اسے ایک طرف رکھئے۔ مقتدر اداروں کو اندرونی جوڑ توڑ سے کچھ وقت نکال کر اپنی خارجہ پالیسی پر توجہ دینی چاہیئے۔ ہمارے منطقے میں چین کے اندر ایران و سعودی عرب کے درمیان پایا جانے والا معاہدہ، آگے چل کر اس خطّے کی تقدیر بدلنے میں انتہائی کارگر ہوگا۔ اس کے سیاسی، سفارتی، اقتصادی، تعلیمی، سائنسی، جغرافیائی اور تجارتی ثمرات سے کسی کو انکار نہیں۔ جدید سفارتکاری کی دنیا میں یہ ایک انتہائی پیچیدہ معاہدہ ہے، لہذا اسے "اندھیرا اجالا ” نامی ڈرامے کے ڈائریکٹ حوالدار کی طرح سے نہ دیکھا جائے۔

بات اتنی سادہ نہیں ہے، جتنی نظر آرہی ہے۔ کیا چین واقعی امریکہ و یورپ کو نظر انداز کرکے ثالثی کرنے میدان میں اُترا ہے؟ کیا چین کے امریکہ و یورپ کے ساتھ مفادات وابستہ نہیں ہیں؟ اسی طرح کیا سعودی عرب بھی امریکہ و یورپ کی مکمل آگاہی اور اجازت کے بغیر ایران کے ساتھ صلح کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔؟ کیا چین اور سعودی عرب کے نزدیک امریکہ و یورپ کی وہی اہمیت ہے، جو پاکستان کی ہے۔؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ 2021ء سے 2023ء تک مذاکرات کے پانچ دوروں کے باوجود عراق اور عمان تو ان مذاکرات کو کامیاب نہیں کرسکے، پھر چین کے پاس وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے، جس کی وجہ سے چھ سے دس مارچ کے صرف چار روزہ مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ عمل میں آگیا۔؟ ان سوالات کے متعدد جوابات اور احتمالات ہوسکتے ہیں۔ البتہ دو مسئلے انتہائی اہم ہیں، جن کی وجہ سے ایران اور سعودی عرب دونوں مل بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ سعودی عرب کیلئے یمن کا مسئلہ اور ایران کیلئے اقتصادی مشکلات۔

یمن کے مسئلے میں سعودی عرب کوئی تنہا تو نہیں۔ درحقیقت امریکہ اور ساری خلیجی ریاستیں اس جنگ کیلئے ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔ حوثی مجاہدین کو اصلاً شکست نہیں دی جا سکی۔ یمن سے باعزّت جان چھڑوانے کیلئے اب ایران کے ساتھ مذاکرات صرف سعودی عرب کی ہی مجبوری نہیں بلکہ امریکہ اور ساری خلیجی ریاستوں کی بھی مجبوری ہے۔لہذا واضح ہے کہ چین کو ان مذاکرات کیلئے امریکہ و سعودی عرب اور اس کے سارے حلیفوں کا تعاون حاصل رہا ہے۔ دوسری طرف معاشی استحکام کیلئے چین کی ایماء پر سعودی عرب کے ساتھ صلح صفائی کرلینا ایران کے بھی منافع میں ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم نزاکت یہ بھی ہے کہ طرفین ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے اور ایسے گروہوں کی آئندہ مدد بھی نہیں کریں گے۔

یہ گروہوں والی بات پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اگر مذکورہ دونوں ممالک اپنے معاہدے پر عمل کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس سے داعش، طالبان، لشکر جھنگوی، فلانی سپاہ و فلانی سپاہ۔۔۔۔۔۔ جیسے گروہ یتیم ہو جائیں گے۔ پاکستان میں ان درندہ صفت لوگوں نے پہلے ہی ہزاروں بے گناہوں کو شہید کیا ہے۔ اب جیسے ہی ان کا بجٹ کم ہوگا تو ملک میں مزید وارداتوں و جرائم کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔ آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کا خون ہمیں بیدار کرنے کیلئے کافی ہونا چاہیئے۔ اسلامی ممالک اور خصوصاً ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران تعلقات بنانے میں یدِطولیٰ رکھتا ہے۔ سعودی عرب بھی ایران کے ساتھ بگاڑ کر اپنے 2030ء کے وژن کو نہیں پاسکتا۔ شام اور عراق میں ایران نے ڈٹ کر داعش کا صفایا کر دیا۔ داعش تو برائے نام ایک نام ہے، اصل میں تو امریکہ و سعودی عرب نیز اُن کے اتحادیوں کی ٹھکائی ہوئی۔

خلیجی ریاستیں اور امریکہ جان چکے ہیں کہ اب یمنی انہیں نکیل ڈالے رکھیں گے۔نہتے حوثیوں نے تو گویا سعودی عرب و امریکہ کی ناک ہی کاٹ دی ہے۔ اب یمن کے میدانِ جنگ سے سعودی عرب اینڈ کمپنی کو باعزّت فرار چاہیئے۔ ایران کا موقف یہی ہے کہ آپ نے خود یمنیوں سے تعلقات منقطع کرکے جنگ مسلط کی ہے، لہذا اب خود ہی تعلقات بحال کرنے میں پہل کرکے براہِ راست مذاکرات کیجئے۔ بہرحال استعماری طاقتیں ایران اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات کو مثالی تو نہیں بننے دیں گی، تاہم پھر بھی اگلے دو ماہ میں بہت کچھ متوقع ہے۔ ان دو مہینوں میں ہم بھی لاقانونیت، فسادات، مار کٹائی، گدائی اور کشکول کے بجائے اپنے ہمسایہ ممالک سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ کاش دیکھنے والی آنکھیں اور سُننے والے کان موجود ہوں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …