جمعرات , 8 جون 2023

ایران-سعودی سمجھوتے میں شہید قاسم سلیمانی کا نقش پا

نیویارک ٹائمز مذکورہ سمجھوتے میں جنرل شہید سلیمانی کے بالواسطہ کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سفارت کاری میں میدان جنگ کے کردار نے آل سعود کی عقل ٹھکانے لگا دی۔

سمجھوتے کے بارے میں دنیا بھر سے تبصرے آ رہے ہیں اور امریکہ اور صہیونی ریاست کے ذرائع میں بلا استثنیٰ، اس سمجھوتے میں "میدان جنگ” کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے صراحت کے ساتھ اشارہ کیا ہے کہ آرامکو پر حملے جیسے واقعات نے سعودی عرب کو دانشمندی سے سوچنے اور یہ سمجھنے پر آمادہ کیا کہ خطے میں اپنے مسائل حل کرنے کے لئے [جنگ پر نہیں] سفارتکاری پر اپنی توجہ مرکوز کر دے۔

واشنگٹن اور تل ابیب میں میں سعودی رویے کی تبدیلی کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ایران نے ایک ترکیبی کاروائی کرکے میدان جنگ کو سفارتکاری کا بنیادی جزو بنا کر بڑی سمجھداری سے سعودیہ کو اس ادراک تک پہنچایا ہے کہ ایران کے مقابلے میں بھی اور خطے کے مسائل کے حل کے لئے بھی، اس کے پاس گفتگو اور سفارتکاری کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اسی اثناء میں سابق عراقی وزیر اعظم ڈاکٹر عادل عبدالمہدی نے بھی ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران-سعودی سمجھوتے کی بنیاد جنرل شہید الحاج قاسم سلیمانی ہیں۔

گویا جنرل شہید کو حالیہ برسوں میں اس سوال کا سامنا تھا کہ "میدان کو ایران اور علاقے کی سلامتی کے لئے وسیع تر عوامل کی فراہمی میں کیونکر بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟ کیا کیا جائے کہ میدان جنگ کو امن و سلامتی اور استحکام اور اثر و رسوخ اقتصاد اور سیاست کی ترقی کے لئے بھی بروئے کار لایا جا سکے؟” ہنوز یہ معلوم نہیں ہے کہ شہید جنرل نے میدان اور سفارتکاری کو کیونکر مرتبط کر دیا لیکن یہ معلوم ہؤا ہے کہ آپ نے پابندیوں کی شدت کے دوران ایک نیٹ ورک قائم کیا تھا جو پابندیوں کو بائی پاس کرنے میں حکومت کی مدد کرتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ شہید کمانڈر نے – دوست کی تصدیق اور دشمن کے اقرار کے مطابق – اپنے ملک کی سفارتکاری میں بھی خوب خوب مدد کی ہے۔

سلیمانی نے ادراکی جنگ اور پانچویں نسل کی جنگ جیسے مضامین میں تعلیم حاصل کئے بغیر، اور نہ صرف اس جنگ کی روشوں پر عبور رکھتے تھے بلکہ انھوں نے دشمن کے ادراک کی تبدیلی کی روشوں کو بھی کامیابی سے استعمال کیا ہے۔

آرامکو سے جیزان تک کے واقعات نے سعودی ولی عہد وحشیانہ رویوں سے دور ہونے اور مہذبانہ گفتگو کی راہ اپنانے کا راستہ دکھایا۔ نیویارک ٹائمز نے کوئی ثبوت دیئے بغیر دعویٰ کیا ہے کہ آرامکو پر حملہ ایران نے کیا تھا!

دنیا جانتی ہے کہ وہ حملہ ایران کی طرف سے نہیں تھا مگر اگر نیویارک ٹائمز کے دعوے کے مطابق اس حملے نے سعودی ادراک بدلنے میں کردار ادا کیا ہو تو درست یہ ہے کہ اس حملے نے سعودیوں کی مدد کی ہے کہ وہ "ہٹ دھرمی” چھوڑ کر "عقل” کا دامن تھام لیں؛ اور اس صورت میں اگر یہ حملہ ایران نے بھی کیا ہوتا تو سعودیوں کو ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا کیونکہ ایران نے انہیں عقلیت کی بنیاد پر سوچنے پر آمادہ کیا ہے۔

گویا کہ کبھی صاحبان عقل پر لازم آتا ہے کہ جو دشمن عقل کو مانتا ہے مگر اپنی وجوہات کی بنا پر، عقل سے گریزاں ہوتا ہے، اسے عقل کی طرف لوٹا دیں اور عقل سے اصولی طور پر گریزاں ہے اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے تو اس کو عقل کے تابع بنا دیں۔

کبھی مقاومت اور کبھی حملہ، کبھی گولی، کبھی ڈرون اور کبھی میزائل، دشمن اور دشمن کہلوانے پر اصرار کرنے والوں کو سوچنے پر مجبور کرے تو یہ سفارتکاری کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے۔ شہید سلیمانی نے ان برسوں میں اس قسم کی "میدانی سفارتکاری” (Battlefield Diplomacy) کی مشاقی کی تھی اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب بھی اسی سفارتکاری کے نتیجے میں مذاکرات کی میز پر بیٹھا نظر آ رہا ہے۔

انقلاب اسلامی کے بعد کے ایران کی سفارتکاری کے اسرار و رموز دوسروں کے ساتھ "شیئر کرنے” میں یقینا وقت لگے گا۔بشکریہ ابنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

عمران کی ’سیاسی تنہائی‘

(مظہر عباس) سابق وزیراعظم عمران خان 2002ءمیں الیکشن میں اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی …