بدھ , 24 اپریل 2024

ماہ رمضان، الہیٰ دسترخوان

(تحریر: م ع شریفی)

اگرچہ تمام مہینے اور دن اس ذات لم یزل ولا یزال کی ہی مخلوق ہیں، لیکن خالق کائنات نے اپنے بندوں کو مختلف بہانوں سے بخشنے کے لیے مواقع فراہم کئے اور اپنی مخلوقات میں سے مختلف ایام و مقامات اور انسانوں کو مقدس قرار دیا،

تاکہ اس کے بندے ان ایام، مقدس مقامات اور ان مقدس ہستیوں کے واسطے سے اپنے رب تک رسائی حاصل کریں اور اپنی نجات کا سامان فراہم کریں۔ انہی مقدسات میں سے ایک جس سے ان شاء اللہ ہمیں پھر سے ایک بار ملاقات ہونے کی امید ہے، وہ رمضان کا مقدس مہینہ ہے۔ اسی مقدس مہینے میں خالق نے اپنی لاریب کتاب کو بھی نازل فرمایا اور شب قدر جیسی تقدیریں لکھی جانے والی رات کو بھی اسی مہینے میں قرار دیا۔

رمضان کے معنی
رمضان کا لفظ رمضاء سے ماخوذ ہے، جس کے معنی شدت اور حرارت کے ہیں،
چونکہ اس مہینے میں انسانوں کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، اس لئے رمضان کہا گیا ہے۔(1) پیامبر اکرم (ص) فرماتے ہیں: «اِنَّمَا سُمِّیَ الرَمَضَان لانَّه یرمض الذّنوب؛(2)
"ماه رمضان کو اس لئے رمضان کا نام رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔” رمضان اسلامی ہجری قمری مہینوں میں سے نواں اور وہ واحد مہینہ ہے، جس کا نام قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ آیا ہے اور ان چار مہینوں میں سے ہے، جن میں جنگ و جدال کرنے کو خداوند متعال نے حرام قرار دیا ہے۔ (مگر یہ کہ دفاعی پہلو ہو۔۔۔) اور اسی مہینے میں ہی دوسری آسمانی کتابیں(صحف ابراہیم، تورات، انجیل، زبور) نازل ہوئیں۔ "قَالَ النَّبِيُّ ص نَزَلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَ الْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَ الزَّبُورُ لِثَمَانِيَةَ عَشَرَ خَلَوْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي ثَلَاثٍ وَ عِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ”(3)

"امام صادق فرماتے ہیں، رسول خدا نے فرمایا، صحف ابراہیم رمضان کی پہلی رات کو نازل ہوئی،تورات رمضان کی چھے راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوئی، انجیل رمضان کی تیرہ راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوئی۔ زبور اٹھارہ راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوئی اور قرآن مجید رمضان کی تیئسویں کو نازل ہوا۔ روایات میں اس مہینے کو خدا کامہینہ اور بندوں کو اپنے رب کا مہمان کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں انتہائی کریمانہ اور مہربان بن کر اپنے بندوں کی ضیافت کا انتظام کرتا ہے۔ اس مہینے کے تقدس کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ اس کے استقبال میں اللہ کے حبیب نے ایک طولانی خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں اس مہینے کے تمام فضایل بیان ہوئے ہیں۔ شروع کے چند فقرات میں کچھ یوں فرماتے ہیں کہ یہ خدا کا مہینہ تمہاری طرف برکت و رحمت اور مغفرت لیکر آرہا ہے۔

خدا کے اس دسترخوان پر آنے والے مہمانوں کی اس طرح خاطر تواضع کی جا رہی ہے کہ جو بھی معرفت کے ساتھ اس مقدس مہینے کو درک کرے، اس کی نیند کو عبادت، اس کی سانسیں تسبیح، اس کے تمام نیک اعمال مقبول اور اس کی دعائوں کو مستجاب ہونے کی ضمانت دی جا رہی ہے۔۔۔۔(4) پس حبیب خدا کے کلام کو سننے کےب عد پھر بھی کوئی اس مہینے میں اپنے آپ کو پاک کرنے کی کوشش نہ کرے تو اس سے زیادہ بدقسمت کوئی نہیں ہوسکتا۔ آیت اللہ جوادی عاملی فرماتے ہیں کہ یہ مہینہ خدا سے منسوب ہے، جس طرح کعبہ بھی خدا سے منسوب ہے۔ کعبے کی سرزمین ضیافت و مہمانی کی سرزمین ہے، یہ مہینہ بھی خدا کا مہینہ ہے اور یہ ایام مہمانی اور ضیافت کے ایام ہیں۔ جو حج و عمرہ کی توفیق رکھتے ہیں، وہ خداوند متعال کے مہمان ہیں، وہاں حاجیوں اور معتمرین کو ضیوف الرحمن (خدا کے مہمان) کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

رمضان المبارک بھی ضیافت کے مہینہ کے عنوان سے معروف ہے۔ روزہ داروں کو بھی ضیوف الرحمن کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ (آقای جواد عاملی) سنائی سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کعبہ ابریشم کے پردوں کا محتاج نہیں ہے کہ جس سے تم سجاتے ہو، جس سے تم کعبے کو زینت دیتے ہو۔ کعبے کا جمال ایک چیز سے ہے، وہ (بَیتِیْ) کی یاء ہے۔ کعبہ ایک یاء کی طرف اضافہ ہے، اس کی عظمت اور جمال کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام سے فرمایا (اَن طَهِّرَا بَيتِيْ) "میرے گھر کو پاک کرو۔”یہی یاء رمضان المبارک کے لئے بھی ہے ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ شعبانیہ میں پڑھتے ہیں "قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْکُمْ شَهْرُ اللَّهِ۔۔۔” اور یہ "یاء” انسان کے لئے بھی ہے (وَنَفَختُ فِيهِ مِن رُوحِي) اگر انسان اس تشریفی اضافے کا خیال رکھے اور اس یاء کی قدر کو جانے تو کعبے کی حرمت انسان کو بھی حاصل ہوگی۔(5) بلکہ روایت ہے کہ "الْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنَ الْكَعْبَةِ؛”، "مؤمن کی حرمت کعبے کی حرمت سے زیادہ ہے۔”(6)

لقاء اللہ (خدا سے ملاقات) انسانی روح کے لئے ہے، یہی سِر اور روزے کا باطن ہے، مگر۔ انسان یہ نہیں چاہتا کہ اُس عالم آخرت میں معطر اور سربلند ہو؟ وہاں مادیات کی اقسام جیسے آھو، اونٹ اور دیگر زندگی کی سہولیات کوئی معنی نہیں رکھتیں، وہاں روزہ ہے، جو انسان کو معطر کرتا ہے۔ روزے کا باطن عطر اور خوشبو کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔۔ امام صادق (‌ع) سے مروی ہے: "اگر کوئی گرمیوں میں روزه رکھے اور پیاس لگے، خداوند متعال ہزار فرشتوں کو موکل کرتا ہے، تاکہ اس کے چہرے کو مسح کریں اور افطار کے وقت تک اسے بشارت دیتے رہیں اور افطار کے وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ما أطیَبُ ریحُکَ ورُوحُکَ! یا ملائکتی أشهدوا أنّی غفرت له: "کتنا معطر ہوچکے ہو، کتنی اچھی خوشبو آرہی ہے! اے میرے فرشتوا، گواہ رہنا کہ میں نے اس کو بخش دیا۔۔۔”

فضلیت ماہ رمضان
گرچہ ماہ رمضان کی تمام فضلیتوں کو زیرقلم لانا اس مختصر تحریر میں امکان پذیر نہیں، صرف بعض آیات و روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ خداوند عالم نے قرآن میں کسی بھی مہینے کا نام نہیں لیا، لیکن ماہ مقدس رمضان کا نام لیکر جس میں قرآن نازل ہونے اور اس میں لوگوں کے لئے ہدایت ہونے کی ضمانت دی۔۔ "شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ”(7)

روزے کے بعض فضائل آیات و روایات کی روشنی میں
1) روزہ تقویٰ، اخلاص اور پرہیزگاری کی تقویت کا سبب بنتا ہے۔
2)یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡن۔۔۔۔ "صاحبان ايمان تمہارے اوپر روزے اس طرح لکھ دیئے گئے ہیں، جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے، شاید تم اسی طرح متقی بن جاؤ”(8) امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ خدا کا فرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَقُولُ الصَّوْمُ لِي وَ أَنَا أَجْزِي عَلَيْهِ»، "روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دونگا۔” الکافی کے نسخے میں "علیہ’ کا لفظ آیا ہے اور تہذیب اور من لایحضرہ الفقیہ میں یہ حدیث (بِہِ) کے ساتھ آئی ہے۔۔ بعض دیگر کتابوں میں اس کے صدر اور ذیل میں کچھ دیگر الفاظ بھی ملتے ہیں «جعلت حسنات ابن آدم بِعَشرٍ أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلا الصوم فإنه لى و أنا أجزى به»(9)

ایک اور روایت ابن عباس نقل کرتے ہیں(ع) «سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ص يَقُولُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ هُوَ لَهُ غَيْرَ الصِّيَامِ هُوَ لِي وَ أَنَا أَجْزِي بِهِ»[10]. "میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے، خدا نے فرمایا، ابن آدم کے تمام اعمال اپنے لئے ہیں، روزہ کے علاوہ، روزہ میرے لئے ہے، میں ہی اس کی جزاء دونگا۔” آیت اللہ مظاہری فرماتے ہیں، یہ حدیث شیعہ منابع کے علاوہ اہل سنت کے منابع میں بھی آئی ہے۔ اس کے تین طرح سے معنی کئے ہیں، پہلا معنی وہی عام معنی ہے، جو معمولاً کرتے ہیں۔ ان کی نظر یہ ہے کہ خداوند عالم نے روزے کی اہمیت اور تاکید کو بیان کرنے لیے کہا ہے کہ میں خود اس کی جزا دونگا۔ بعض علماء نے اس طرح سے بھی معنی کیا ہے کہ "میں ہی اس کی جزاء ہوں۔”

بعض علماء کا کہنا ہے، چونکہ روزہ صرف اور صرف بندے اور خدا کا معاملہ ہے، اس میں ریا کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ البتہ اس پہلے معنی پر اشکال بھی ہوا ہے کہ باقی عبادات کی جزاء بھی تو خدا ہی نے دینی ہے۔۔۔۔ ✳️دوسرا معنی! جس نے بھی حقیقی روزہ رکھا، وہ مقام عنداللہی تک پہنچ جائے گا، معمولی بہشت اور مقام عدن اور رضوان طے کرکے مقام عنداللہی تک پہنچ جاتا ہے۔ جیسا کہ سورہ فجر میں فرماتا ہے "اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف پلٹ آ…” روزہ بھی انسان کو خدا تک پہنچا دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ دوسرا معنی پہلے سے زیادہ بہتر ہے۔ روزے کے مراتب ہیں، پہلا مرتبہ عوام کا روزہ، جس میں فقہی دستورات کی رعایت کی جاتی ہے، یہ روزہ صرف انسان کو گمراہی اور سقوط سے نجات دیتا ہے۔

☀️دوسرا مرتبہ خواص کا روزہ کہ جسے روزہ اخلاقی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ افراد مبطلات روزہ سے بچنے کے ساتھ ساتھ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کی آنکھیں، کان، زبان اور تمام اعضاء و جوارح روزہ رکھتے ہیں۔ یہ مرتبہ سبب بنتا ہے کہ آدمی خدا کی بارگاہ میں بخشا جائے۔ تیسرا مرتبہ جس میں عرفانی پہلو ہے، وہ اخص الخواص کا روزہ ہے، اس کو دل اور باطن کا روزہ بھی کہا جاتا ہے، اس مرتبے پر روزہ دار مبطلات اور گناہوں سے اجتناب کرنے کے ساتھ اعضاء و جواح اور دل و باطن کی بھی حفاظت کرتا ہے اور خدا کی طرف متوجہ کراتا ہے۔ علی علیہ السلام فرماتے: «صَومُ القَلب خَيرٌ مِن صِيامِ اللِّسان وَ صِيامُ اللّسَان خَيرٌ مِن صيِامِ البَطن»‏ (قلب و دل کا روزہ زبان کے روزے سے بہتر ہے اور زبان کا روزہ شکم (پیٹ) کے روزے سے بہتر ہے(11)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1) مفردات الفاظ القرآن، راغب اصفہانی ص 209، دارالکتاب العربی بیروت
2) بحارالانوار، علامه مجلسی، ج 55، ص 341،
3) الكافي؛ ج‏2؛ ص629
4) خطبہ؛ شعبابیہ..
5) درس آیت اللہ جوادی عاملی۔۔
6) خصال صدوق، ج1، ص27
7) القرآن، بقره آیت 185
8) بقرہ 183۔ ترجمہ علام۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …