جمعرات , 8 جون 2023

امریکی وزیر خزانہ کا اعتراف

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

امریکی وزیر خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی پابندیوں نے اس سے کہیں کم اپنا اثر دکھایا ہے، جتنا ہم چاہتے تھے۔ امریکی وزیر خزانہ جینیٹ یلین نے امریکی کانگریس کے ارکان کے اجلاس سے خطاب میں جو اس بات کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہوا تھا کہ آیا امریکی پابندیوں کا ایران پر اثرا ہوا ہے یا نہیں۔؟ اعتراف کیا کہ امریکی پابندیاں ایران کی پالیسی اور سیاست میں تبدیلی نہیں لاسکی ہیں۔ جوبائیڈن کی صدارت میں ڈیموکریٹس کی حکومت نے ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کے بعد ایٹمی معاہدے سے سابق صدر ٹرمپ کے یکطرفہ طور پر نکلنے کی مذمت کی تھی، لیکن اس نے ابھی تک ٹرمپ کے غلط اقدام کی تلافی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

جوبائیڈن دو ہزار اکیس میں ایسے عالم میں برسراقتدار آئے تھے، جب ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران 40 سال سے زائد عرصے سے امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کی زد میں ہے۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں ایران مخالف پابندیوں کے نفاذ نے JCPOA سے دستبرداری اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کی اور ایرانی قوم کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دیں۔ ایران کی جانب سے امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی امید پر غیر معقول اور غیر قانونی مطالبات عائد کیے گئے، لیکن یہ سب ہتھکنڈے ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔

ایٹمی معاہدہ جے سی پی او اے کو چھوڑنا امریکی خارجہ پالیسی کے گذشتہ 50 سالوں کا سب سے احمقانہ فیصلہ ہے۔ مختلف ٹویٹس اور تبصروں میں، ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے ٹرمپ کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ JCPOA سے دستبرداری کے بعد ایران کے ساتھ ایک مضبوط معاہدہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ کرس مرفی نے JCPOA سے دستبرداری کو گذشتہ 50 سالوں میں امریکی خارجہ پالیسی کا احمقانہ ترین فیصلہ قرار دیا۔ مرفی نے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پابندیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اور جے سی پی او اے سے دستبرداری سے ایران مضبوط ہوا ہے۔

دوسری طرف "جو بائیڈن” انتظامیہ نے اب تک ٹرامپ کا وہی ناکام راستہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اپنے سابقہ ​​نعروں کے باوجود موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے اور وقتاً فوقتاً مختلف حیلوں بہانوں سے ایران کے خلاف نئی نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ بائیڈن حکومت کے حکام اور متعدد امریکی سیاست دانوں نے بارہا ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ امریکی حکومت ایرانی عوام کی حمایت کا اعلان کرتی رہتی ہے، حالانکہ امریکہ کا ایرانی عوام سے ہمدردی اور ان کی حمایت کا دعویٰ حقائق کے منافی ہے۔

یہاں تک کہ کورونا وائرس کی وبا اور کوویڈ 19 کی بیماری اور اس مہلک بیماری سے نمٹنے کے لیے ایران کو دوا سازی اور طبی اشیاء کی اشد ضرورت کے دوران بھی امریکہ نے ایرانی عوام کی امداد روک دی تھی۔ ثانوی پابندیاں لگا کر کمپنیوں اور بینکوں کو ایران کے ساتھ بات چیت سے روک دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ہمیشہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیاں اٹھانے کی درخواست کا جواب دینے سے بھی انکار کیا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی انسانیت سوز پابندیوں کا اصل نشانہ خاص طور پر لائف سیونگ میڈیسن ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی عوام کے ساتھ واشنگٹن کی کتنی دشمنی ہے۔

اقوام متحدہ نے متعدد بار ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے یکطرفہ پابندیوں کے نفاذ پر تنقید کی ہے، خاص طور پر کورونا وائرس اور کوویڈ 19 بیماری کی وبا کے دوران، بنیادی، طبی اور دوا سازی کی اشیاء تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے پابندیوں کی منسوخی یا کمی کا مطالبہ کیا، لیکن امریکہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایلینا ڈوہان کہتی ہیں: "یکطرفہ پابندیاں اقوام متحدہ کی اتھارٹی کو کمزور کرتی ہیں، بین الاقوامی تعاون اور قانون کی حکمرانی کے میدان میں خوف پیدا کرتی ہیں۔” بنیادی طور پر، امریکہ کا نقطہ نظر، اس کے انسانی حقوق کے دعووں کے برعکس وسیع یکطرفہ پابندیوں اور اسکے تسلسل سے ایران کے خلاف دباؤ کے تمام ذرائع استعمال کرنا ہے۔

اگرچہ اس طرز عمل کا اطلاق نہ صرف ایران کے گھٹنے ٹیکنے کا باعث نہیں بنا، بلکہ تہران نے زیادہ سے زیادہ مزاحمت کی پالیسی کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے استکبار مخالف موقف اور امریکی تسلط کی مخالفت کو بھرپور طریقے سے جاری رکھا۔ ایران اپنی داخلی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اور بہت سے شعبوں اور میدانوں میں خود کفالت کو بڑھاتے ہوئے نیز پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، امریکی پابندیوں کے منفی اثرات کو بڑی حد تک بے اثر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ایک ایسا مسئلہ جسے اب امریکی وزیر خزانہ بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کچھ عرصہ پہلے دشمن کی اقتصادی پابندیوں کے فوائد کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا "ایران نے امریکی پابندیوں کو مواقع میں تبدیل کر دیا ہے اور ایران بہت سے شعبوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا ہے، ہمارے جوانوں نے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ہم بہت سے شعبوں میں غیر ملکی محصولات کی درآمد کے سلسلے میں خود کفیل ہوگئے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کے خلاف امریکہ کے اقتصادی محاصرے کو اقتصادی دہشت گردی اور ظالمانہ اقدام قراردیتے ہوئے فرمایا: "طبی اور غذائی اشیاء پر پابندی سنگين جرم ہے، امریکہ دنیا میں سنگین جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ہم نے امریکہ کی پابدنیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، لیکن بعض ممالک میں ایسا کرنے کی قدرت نہیں ہے۔” رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: "ایران کے خلاف امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی ناکام ہوگئی، ایران کو کمزور کرنے کے لئے یہ پالیسی امریکہ کے سابق احمق صدر نے وضع کی تھی۔ اس نے امریکہ کو بھی عالمی سطح پر رسوا کیا اور خود بھی صدارتی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوگیا، جبکہ ایران آج بھی استقامت اور اسلامی مقاومت کے ساتھ کھڑا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عمران کی ’سیاسی تنہائی‘

(مظہر عباس) سابق وزیراعظم عمران خان 2002ءمیں الیکشن میں اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی …