جمعہ , 19 اپریل 2024

نوروز کیا ہے؟

(تحریر: احسان خزاعی)

بادِ صفا کے جھونکے مثلِ کستوری پھٹ جائیں گے اور پرانی دنیا پھر جوان ہو جائے گی۔ نوروز فطرت کے جسم میں نئی زندگی کی چمک ہے۔ نوروز لوگوں کیلئے اپنی زندگی اور حالات پر غور کرنے اور بہتر سے بہترین تک پہنچنے کیلئے خدا سے مدد طلب کرنے کا ایک نیا موقع ہے۔ نوروز قدرت کی نشانیوں سے حضور اکرم ؔﷺ کے مقدس راستے پر چلنے کی انسانی ضرورت کی تجدید اور تشریح کا موقع ہے۔ یہ تبدیلی اور تنزیل کی الہیٰ روایت ہے، جسے نوروز کی شکل میں ایک اہم موڑ سمجھا جا سکتا ہے۔ نوروز کے موقع پر اقوام کی ہم آہنگی نئے سال کی آمد کے شاندار اور خوبصورت لمحات میں ان کے دل و دماغ کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ صبا کا سانس فارسی بولنے والی قوموں اور حتیٰ کہ فارسی نہ بولنے والی اقوام کو بھی تجدید کا احساس دلاتا ہے، جو نوروز کو اپنے آباؤ اجداد کا قدیم ورثہ سمجھتی ہیں۔

ثقافتی اہمیت کے علاوہ، نوروز ہمارے وطن عزیز اور پڑوسیوں کیساتھ ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کا ایک موقع ہے۔ نوروز کا روحانی اور تہذیبی جائزہ خطے کی قوموں کے درمیان گہرے تعلق کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔ نوروز کو ایک قدیم رسم اور روایت کے طور پر دیکھنا پوری کہانی نہیں! نوروز کی ابتدا ایک قسم کی اصل تہذیب سے ہوئی ہے اور یہ مختلف ممالک میں ثقافتی اور تہذیبی طور پر اتحاد پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ وسطی ایشیاء، قفقاز اور مغربی ایشیاء کے خطے میں، نوروز ایک "مشترکہ روایت” سے آگے بڑھ کر "متحد ثقافتی نظام” تک پہنچنے کیلئے ایک "مشترکہ ثقافتی مرکز” بن سکتا ہے۔ یہ ثقافتی نظام کسی خاص وقت (موسم سرما کے اختتام اور بہار کے آغاز) تک محدود نہیں اور اس کے اندر سال کے تمام دن شامل ہیں۔

جہاں نوروز منایا جاتا ہے، ان ممالک کو اس ثقافتی و تہذیبی صلاحیت کو اہمیت دینا اور مزید فروغ دینا چاہیئے۔ دوسری طرف مذہبی تعلیمات اور بزرگانِ اسلام کی زندگی میں نوروز کو جدیدیت، خوبصورتی اور انسانی زندگی میں ایک نئے دور کی طرف منتقلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نئے سال اور نوروز کی آمد پر یہ شاندار نظر، یہ ظاہر کرتی ہے کہ بزرگانِ دین بھی اس پر کسی تقریب یا روایت سے ہٹ کر نظر رکھتے ہیں اور اسے انسانی اقدار کے فروغ میں ایک اہم موڑ سمجھتے ہیں۔ جو چیز اب قدیم نوروز کے جشن کو دیکھنے کی ضرورت کو مزید واضح کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اقوام کے بہترین بقائے باہمی، ہم آہنگی، قوموں کی ترقی، استحکام اور اپنے باہمی تعاون کیلئے اس مشترکہ موقع کو استعمال کیا جائے۔

نوروز خطے کی اقوام اور حکومتوں کے اتحاد کا ضامن ہے اور اس موقع کو علاقائی اقوام میں ایک خاص مقام ہے اور خطے کی اقوام اور حکومتوں کے درمیان باہمی ربط کی راہ میں ایک مثالی اور مسلسل اتحاد کی ضمانت دیتا ہے۔ قدیم نوروز فیسٹیول میں چھپی جدیدیت کو قوموں کے انفرادی، سماجی اور بین الاقوامی تعلقات میں "مؤثر تبدیلی” کی بنیاد پر ایک مخصوص طرز زندگی کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی اور ماورائے علاقائی سطح پر صلاحیت کے مطابق قدیم نوروز منانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ یہ امر اس خوبصورت روایت کا اہتمام کرنیوالے ممالک میں متعلقہ اداروں کو کردار ادا کرنے کی ضرورت کو دگنا کر دیتا ہے۔

اس فریم ورک میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارتکاری کے محافظ کے طور پر "اسلامی کلچر اینڈ کمیونیکیشن آرگنائزیشن نوروز کی روایت کے معاملے میں موجودہ صلاحیتوں کی شناخت اور اسے مضبوط کرنے، تہذیبی اور مذہبی یکجہتی کیلئے ایک بہترین ذریعہ سمجھتی ہے، اس طرح ہم مستقبل قریب میں اس شاندار روایت کے گرد مزید ممالک کے اتحاد کو دیکھ سکیں گے۔ اس عزم کی تکمیل نوروز میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے روشن مستقبل کی نشاندہی کرے گی۔ ملک کے اندر اور باہر ہمارے ہم وطن، ماضی کی طرح، نوروز کی ثقافت، یعنی ہمدردی کی ثقافت میں بہتری میں نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ میں قدیم نوروز کی آمد اور سال 1402 کے آغاز پر عزیز ایرانیوں، خاص طور پر بیرون ملک مقیم ایرانیوں اور ثقافتی اور مذہبی شعبے سے وابستہ سیاستدانوں اور شہریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کیلئے کامیابیوں، بھلائیوں اور برکتوں سے بھرپور سال کی دعا کرتا ہوں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …