جمعرات , 8 جون 2023

ایران پاکستان گیس پائپ لائن کیا کبھی مکمل ہوگی؟

(رپورٹ: ایم سید)

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے گزشتہ ماہ ہونے والے اجلاس میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق بتایا گیا کہ ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن مکمل کی ہوئی ہے، اگر منصوبہ 2024 ء تک مکمل نہ ہوا تو ایران پاکستان کے خلاف 18 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین محسن داوڑ کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کے حکام نے شرکت کی۔ خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کو پاک ایران تعلقات کے تناظر میں تجارت اور درپیش مسائل سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس شروع ہوا تو کمیٹی نے پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق سوال کیا کہ گیس پائپ لائن کب تک مکمل ہوگی؟ جواب میں وزارتِ خارجہ کے حکام نے بتایا کہ ایران پر اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ نے بھی اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو کافی مشکلات درپیش ہیں۔

2009ء میں پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا گیا تھا تاہم اس وقت بھی ایران پر اقتصادی پابندیاں تھیں، جس پر کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر اقتصادی پابندیاں موجود تھیں تو معاہدہ کیوں کیا گیا جس پر حکام نے بتایا کہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران 80 ارب ڈالر کی اشیاء دیگر ممالک کو برآمد کر رہا ہے، خاص طور پر انڈیا اور چین ایران سے سستا تیل خرید رہے ہیں، ادویات، بجلی اور کھانے پینے کی اشیا پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بھی ایران سے 104 میگا واٹ سستی بجلی خرید رہا ہے، مزید 100 میگا واٹ بجلی خریدنے کے لئے بھی بات چیت چل رہی ہے جبکہ چاول، پھل اور ادویات سمیت دیگر اشیاء کی باہمی تجارت بھی ہو رہی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے رپورٹ پیش کریں اور بتائیں کہ اگر ایران پر اقتصادی پابندیاں نہ ہوں تو پاکستان اور ایران کی تجارت کا حجم کتنا ہوگا؟ پاکستان ایران سے تیل درآمد کرے تو اِس کے پاکستانی معیشت اور ادائیگیوں کے توازن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

چیئرمین کمیٹی محسن داوڑ نے سوالات اُٹھائے کہ اگر انڈیا، چین اور جاپان ایران سے تیل لے رہے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں لے سکتا؟ انڈیا نے کلکتہ میں ایران سے تیل خریداری کے لئے ایک الگ بینک کھولا، اِس معاملے کو کئی بار اعلیٰ سطح اجلاس میں اٹھایا گیا کہ پاکستان ایسا بینک کیوں نہیں بنا سکتا جو ریال اور تومان میں ڈیل کرے؟ وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا کہ پاکستان چونکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض لیتا ہے، اِس لئے ایران سے تیل نہیں لے سکتے جبکہ انڈیا، چین اور جاپان آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیتے ہیں جبکہ پاکستانی تجارت کا سب سے بڑا مسئلہ بینکنگ چینل کا نہ ہونا ہے۔ حکام وزارتِ خارجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ایرانی اس منصوبے میں تاخیر سے ناخوش ہیں جس پر کمیٹی نے گیس پائپ لائن سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وزارت خارجہ اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو چاہیئے کہ وہ جلد از جلد اِس کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کر کے رپورٹ پیش کریں۔

خبروں کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی اِسی مسئلے پر بحث کی گئی تھی جس کے بعد کمیٹی نے وزارت خارجہ کو اِس مسئلے کے حل کے لئے امریکی سفیر سے دوبارہ رابطے کی ہدایت بھی کی تھی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس میں اراکین نے سوال کیا تھا کہ بروقت پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل نہ کرنے پر پاکستان کو کتنا جرمانہ ہو سکتا ہے جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل نہ ہوا تو پاکستان کو 18 ارب ڈالر کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا تھا کہ امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران سے گیس کے حصول پر پابندی پر نظرثانی کرے، پاکستان کو اجازت دیں یا پھر جرمانے کی رقم امریکہ دے تاکہ جرمانہ ادا کیا جا سکے۔ سیکرٹری نے اجلاس کو مزید بتایا تھا کہ 325 ارب روپے گیس انفرانسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مد میں وصول کئے گئے تاہم قریباً تین ارب روپے خرچ کئے جا سکے ہیں، 322 ارب روپے پڑے ہیں مگر پراجیکٹ نہیں چل رہے۔

واضح رہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر 1994ء میں بات چیت شروع ہوئی تھی جبکہ ابتدائی معاہدے پر دستخط 1995ء میں ہوئے۔ 1999ء میں ایران نے اِس معاہدے میں بھارت کو بھی شامل کرنے کو کہا۔ 2008ء میں ایران نے چین اور 2010ء میں بنگلہ دیش کو اِس معاہدے میں شامل کرنے کی تجویز دی، تاہم 2009ء میں بھارت اِس معاہدے سے نکل گیا جس کے بعد ایران اور پاکستان نے 2010ء میں اِس معاہدے پر دستخط کئے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو 2014ء تک اپنے اپنے حصے کی پائپ لائن بچھانا تھی۔ 2011ء میں ایران نے اعلان کیا تھا کہ اْس نے اپنے حصے کی پائپ لائن مکمل کرلی ہے، تاہم 781 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن مختلف وجوہات کی بنا پر تاحال مکمل نہیں ہو سکی، باوجود اِس کے کہ 2013ء میں حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر اِس پراجیکٹ کی منظوری دی تھی۔

ایران کی طرف سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی عدم تکمیل پر 18 ارب ڈالرز کے جرمانے کی خبر نے پورے ملک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ایران اگر اِس معاملے پر بین الاقوامی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اِس سے نہ صرف پاکستان کی معاشی مشکلات بڑھ سکتی ہیں بلکہ تہران اسلام آباد تعلقات میں بھی تناؤ آسکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے، اِس کی تمام تر توجہ اور نظریں آئی ایم ایف کی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط پر ٹکی ہیں اور پاکستان اِس پروگرام کو ہر حال میں مکمل کرنا چاہتا ہے، فوری طور پر اِس کے پاس کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہے کیونکہ فی الوقت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ ماسوائے چین دوست ممالک بھی آئی ایم ایف سے معاملات طے ہو جانے پر ہی مالی تعاون کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں۔ چین 70 کروڑ ڈالر پاکستان کو دے چکا ہے جس سے زرمبادلہ کے زخائر میں کچھ بہتری تو آئی لیکن معیشت کی بحالی کے لئے ابھی کئی امتحانوں سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی 50 سالہ ریکارڈ توڑ چکی ہے، ڈالر کی قیمت بھی تاریخی سطح پر ہے جبکہ اِس کی کمی سے کئی اشیاء کی درآمد میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اِن معاشی حالات میں ایک اور مسئلہ سر اُٹھا رہا ہے کہ اگر ایران نے واقعی پاکستان پر جرمانہ عائد کرنے کے لئے بین الاقوامی اداروں سے رابطہ کیا تو پاکستان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں یہ معاملہ زیر بحث آیا تو ہے تاہم کمیٹیوں میں ہونے والی بات چیت سے ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں کمیٹیوں کے ممبران کو اِس مسئلے سے مکمل طور پرآگاہ نہیں کیا گیا۔ حکومت کو چاہیئے کہ اِس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لے کر اِس کی وضاحت کرے، قوم کو اعتماد میں لے، اِس معاہدے کی تمام تر تفصیلات پارلیمان کے سامنے رکھے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عمران کی ’سیاسی تنہائی‘

(مظہر عباس) سابق وزیراعظم عمران خان 2002ءمیں الیکشن میں اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی …