جمعہ , 19 اپریل 2024

وزیر اعظم اور چیف جسٹس تصادم سے گریز کریں!

(سید مجاہد علی)

قومی اسمبلی نے سیاسی معاملات میں عدلیہ کی مداخلت کے خلاف قرار داد منظور کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ نہ تو الیکشن کمیشن کے آئینی اختیارات میں مداخلت کرے اور نہ سیاسی و انتظامی معاملات میں دخل اندازی کی جائے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی طرف سے ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے جس میں سوموٹو نوٹس اور بنچ بنانے کے بارے میں چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز سامنے لائی گئی ہے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے دو ارکان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ کو ’امید کی کرن‘ قرار دیا تھا اور سوال کیا کہ کہ سیاست دانوں کو تو ہاتھ باندھ کر عدالت میں حاضر کر دیا جاتا ہے لیکن کرپشن کے الزام میں کتنے ججوں کو سزا دی گئی ہے۔ انہوں نے عدالتی نظام میں عدم توازن ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’جب عدل نظر آئے گا تو تمام خطروں کے بادل ختم ہو جائیں گے۔ ترازو کا توازن ہی جنگل کے قانون کو بدلے گا۔ ججوں کے نام گلی محلے کے بچوں کی زبان پر ہیں۔ اسے بدلنے کے لیے انصاف کا بول بالا کرنا ہو گا۔ اگر ہم نے قانون سازی نہ کی تو ملک اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی‘ ۔

وزیر اعظم کی تقریر کے فوری بعد کابینہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے کے لئے قانون کا مسودہ منظور کر لیا جسے بعد میں قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ تحریک انصاف کے فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ ’حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مجوزہ ترامیم کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ حق صرف منتخب پارلیمان کو ہے کہ وہ ایک تفصیلی بحث کے بعد کوئی بھی ترمیم کرے۔ عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی سخت مذمت کرتے ہیں‘ ۔

ان حالات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ پنجاب میں انتخابات ملتوی کرنے کی درخواستوں پر غور کے دوران ملک میں جس افراتفری اور تصادم کا ذکر کر رہی ہے، اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ گزشتہ روز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکومتی پارٹیوں اور تحریک انصاف سے انتخابات کے حوالے سے امن و امان قائم کرنے کے لئے تجاویز طلب کی تھیں اور کہا تھا کہ جمہوریت کے لئے انتخابات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری تمام سیاسی پارٹیوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ شفاف اور قابل اعتبار انتخابات کے لئے سازگار حالات پیدا کریں۔

البتہ آج کی سماعت میں بھی کوئی خاص بات سامنے نہیں آ سکی بلکہ ججوں کے متضاد ریمارکس سے صورت حال بدستور غیر واضح اور عدالت عظمی کی حکمت عملی غیر موثر دکھائی دیتی ہے۔ چیف جسٹس نے پانچ رکنی بنچ میں ایک بار پھر ایسے ججوں کی اکثریت کو شامل کیا ہے جو بظاہر ان کے گروپ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے ایک بار پھر چیف جسٹس سے فل کورٹ بنچ بنا کر اس معاملہ کے تمام پہلوؤں کو حل کرنے کی تجویز دی لیکن چیف جسٹس نے اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کا یہ موقف سننے سے بھی انکار کر دیا کہ یکم مارچ کو انتخابات کروانے کا فیصلہ تین دو کی اکثریت سے نہیں ہوا تھا بلکہ دو ججوں کے اختلافی نوٹ کے مطابق چار تین کی اکثریت سے اس معاملہ پر سو موٹو لینے اور ہائی کورٹس کے اختیار کو نظر انداز کرنے کے طریقہ کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کی تجویز کو تکنیکی بنیاد پر اصل مسئلہ نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ یکم مارچ کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے اس لیے اب زیر غور معاملہ پر ہی دلائل دیے جائیں۔ اس وقت عدالت کے پیش نظر یہ نکتہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ میں توسیع کر سکتا ہے اور کیا صوبائی اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد انتخابات 90 دن کے اندر منعقد نہیں ہونے چاہئیں۔ ایک موقع پر چیف جسٹس نے فنڈز کی فراہمی کے لئے یہ پیش کش بھی کی ان سمیت تمام ججوں کی تنخواہوں میں سے پانچ فیصد کمی کردی جائے جس سے ان کے خیال میں انتخابات کے انعقاد کے لیے درکار 20 ارب روپے فراہم ہوسکتے ہیں۔ نہ جانے چیف جسٹس نے کس بنیاد پر یہ تخمینہ لگایا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی تنخواہوں میں معمولی کمی سے انتخابات کے مصارف پورے ہوسکتے ہیں۔ البتہ بنچ میں شامل دوسرے ججوں کا خیال تھا کہ جب حکومت نے منی بجٹ میں 170 ارب روپے کے محاصل عائد کیے تھے تو انتخابات کے لئے مزید 20 ارب روپے کے ٹیکس بھی جمع کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ ایک دوسرے فاضل جج کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے فروری تک 500 ارب روپے کے ٹیکس جمع کیے ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ ان میں سے 20 ارب روپے انتخابات کے لیے فراہم نہیں ہوسکتے؟ ایک تیسرے جج کا خیال تھا کہ حکومت اگر لیپ ٹاپ اسکیم پر 10 ارب روپے صرف کر سکتی ہے تو انتخابات کے لیے بیس ارب روپے دینے میں کیا مشکل ہے؟

ریمارکس کی صورت میں سامنے آنے والے ان خیالات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کا جو بنچ ملک میں سیاسی تنازعہ ختم کروا کے انتخابات کے ذریعے نظام حکومت کو قابل اعتبار بنانے کا فیصلہ کرنے لیے دلائل سن رہا ہے، اس میں شامل جج کس طرح سوچتے ہیں اور انتخاب کے انعقاد کے بارے میں سامنے آنے والے بنیادی سوالوں کو کیسے مسلسل نظر انداز کرنے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی اور مالی وسائل کی عدم دستیابی کی بنیاد پر پنجاب میں اعلان شدہ انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس تنازعہ کی اصل بنیاد یہ ہے کہ تحریک انصاف کسی بھی صورت فوری انتخابات چاہتی ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں قومی اور صوبائی انتخابات مختلف اوقات میں منعقد نہیں ہوسکتے۔ اگر اب صوبائی انتخابات ہو گئے تو قومی انتخابات کے وقت دو صوبوں میں نگران حکومتیں نہیں ہوں گی جنہیں غیر جانبدار نہیں کہا جا سکے گا۔ اس طرح انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ نہیں ہو سکیں گے۔ اس حوالے سے دوسرا اہم سوال یہی ہے کہ یکم مارچ کو سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کا جو حکم جاری کیا تھا، کیا وہ واقعی اکثریتی فیصلہ تھا یا جیسا کہ دو ججوں نے اختلافی نوٹ میں واضح کیا ہے کہ چار ججوں نے سوموٹو کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور چیف جسٹس ان دو ججوں کی رائے کو نظر انداز کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جنہوں نے سوموٹو کے خلاف فیصلہ دے کر بنچ میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ اب چیف جسٹس کیسے اس رائے کو غیر متعلقہ اور زیر بحث معاملہ سے علیحدہ مسئلہ قرار دے سکتے ہیں؟

چیف جسٹس اس کے برعکس یہ کہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ جو فیصلہ نافذ ہو چکا، اس کے بارے میں بات نہ کی جائے بلکہ صرف یہ دیکھا جائے کہ کیا الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار تھا۔ اور بنچ میں شامل فاضل جج اس معاملہ پر موشگافیاں کر رہے ہیں کہ انتخابات منعقد کروانے کے لیے فنڈز کیسے فراہم ہوں۔ حالانکہ بنیادی نکتہ تو تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں کروانے کا ہے۔ ان حالات میں جب چیف جسٹس بدستور سرکاری موقف کو نظر انداز کریں گے اور سپریم کورٹ کے ججوں میں پائے جانے والے اختلافات سامنے آنے کے باوجود فل کورٹ بنچ بنا کر انتخابات کے بارے میں کوئی حتمی، قابل قبول اور قابل عمل فیصلہ کرنے کا طریقہ اختیار کرنے سے گریز کریں گے تو وہ کیسے اس بات کی ضمانت دے سکیں گے کہ مستقبل میں عجلت میں کیے گئے کسی نئے یک طرفہ فیصلہ کا حشر بھی یکم مارچ کو دیے گئے حکم جیسا نہیں ہو گا؟

دوسری طرف پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی پرجوش تقریر اور دو ججوں کے اختلافی نوٹ کو اپنے سیاسی پیغام کی بنیاد بنا کر عدالت عظمی کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی افسوسناک ہے۔ یہ تصادم نہ تو ادارہ جاتی خود مختاری کے لئے مناسب ہے اور نہ ہی اس سے ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے سازگار حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کی لڑائی میں اہم اداروں کے بعض عناصر فریق کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ بدنصیبی سے ملک کی اعلیٰ عدلیہ بھی اس تقسیم کی عملی تصویر پیش کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں وزیر اعظم کو عدالتوں کے بارے میں گفتگو کے علاوہ قانون سازی کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ نا چاہیے۔ لیکن تمام اداروں میں بیٹھے ہوئے ذمہ دار عناصر کو بھی معاملات کو گروہی تصادم سے نکال کر اصولی نقطہ نظر سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر فوج یا عدلیہ کے بعض اہم ارکان کو سیاسی امور پر رائے دینے یا بعض سیاسی عناصر کو دوسرے پر فوقیت دینے کا بہت زیادہ شوق ہو تو انہیں اپنے عہدے چھوڑ کر سیاسی میدان میں طبع آزمائی کرنی چاہیے لیکن آئین کے تحت اٹھائے گئے حلف سے روگردانی کا رجحان ختم ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف کے فواد چوہدری اک یہ موقف درست ہے کہ حکومت سیاسی مقاصد کے لیے عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے کی کوشش کر رہی ہے۔ چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کا بل بھی درحقیقت اسی کوشش کا عملی اظہار ہے۔ لیکن ان کی اس بات سے اتفاق ممکن نہیں ہے کہ منتخب پارلیمنٹ ہی عدالتی اصلاحات کے لئے اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔ فواد چوہدری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اسی پارلیمنٹ کے بل بوتے پر تحریک انصاف نے پونے چار سال تک ملک میں حکمرانی کی ہے۔ اس پارٹی نے اب اگر پارلیمانی عمل کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے تو اس سے پارلیمنٹ کی اہمیت و ضرورت ختم نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح عمران خان سائفر کے نام پر بیرونی مداخلت کی جھوٹی سازشی کہانیاں سنانے کے بعد اپنے زیر اختیار دو صوبائی اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ اب اگر اس کے منفی اثرات سے تحریک انصاف کی سیاست متاثر ہو رہی ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود عمران خان ہی ہیں۔

البتہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو سمجھنا چاہیے کہ وہ دونوں اہم آئینی عہدوں پر فائز ہیں۔ ملک و قوم کی بھلائی اسی میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے باہمی احترام کا اہتمام کریں۔ اسی طرح یہ نظام کام کرے گا اور ملک کو موجودہ مشکل آئینی و سیاسی بحران سے نکالا جا سکے گا۔ وزیر اعظم یا چیف جسٹس کی ہٹ دھرمی معاملات کو مزید پیچیدہ اور ناقابل اصلاح بنا سکتی ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …