جمعہ , 19 اپریل 2024

مکڑی کے جالے سے کمزور ملک میں ہنگامے

(تحریر: ارشاد حسین ناصر)

اسرائیل میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں، جن میں جلائو گھیرائو، توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور مختلف املاک پر حملے ہو رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کی فیملی بیرون ملک جا چکی ہے۔ اس فساد اور ہنگاموں کی بنیادی وجہ کچھ عدالتی اختیارات کو سلب کرنے کا نیتن یاہو پلان ہے، جس کے بعد وہ ایک آمر کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ بہرحال اس صورتحال کو عالمی سطح پر بڑی گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ایران و سعودی حکومت میں براہ راست مذاکرات اور سفارتی تعلقات کی بحالی اور خطے کے معاملات کو نئے زاویئے سے دیکھنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ایران و سعودیہ کے تعلقات کی بحالی کے بعد دیگر عرب ممالک جیسے بحرین و شام کے ایران و سعودیہ کیساتھ تعلقات کی بحالی بھی اہم ڈیویلپمنٹ سمجھے جا رہے ہیں۔ سعودیہ کا ایران کے بعد شام کیساتھ تعلقات بحالی کا اعلان بہت سے دیگر ممالک پر ایک بم کی مانند سمجھا جا رہا ہے کہ دس برس کے بعد یہ تعلقات بحال ہونے جا رہے ہیں، یوں خطے میں تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے۔

اسرائیل کے اندر پرتشدد احتجاج کے بعد نیتن یاہو ایک کمزور حکمران کے طور پر موجود ہے۔ اس وقت اسرائیل کی حالت بہت ہی کمزور دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ سید مقاومت سید حسن نصر اللہ پہلے ہی اسرائیل کو مکڑی کے جالے سے کمزور تر کہہ چکے ہیں، یہ تو یار لوگ ہیں، جنہوں نے 1967ء کے بعد سے اسرائیل کو سر پر سوار کر لیا تھا، وگرنہ اس کی طاقت اور گھمنڈ کو کئی بار حزب اللہ و مقاومتی گروہ جھکا چکے ہیں، البتہ عرب حکمرانوں کی بات الگ ہے۔ اب بھی نیتن یاہو اپنی ساکھ بچانے کیلئے ایران کے خلاف بک بک کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ہاں گیدڑ بھبھکیاں تو لگانے میں شیر ہیں، کئی برسوں سے ان کی زبان پر ایران پر حملے کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، مگر ایران پر حملہ جتنا مہنگا پڑنے کا اندیشہ ہے، اس کو سوچ کر ان کی راتوں کی نیند بھی اڑ جاتی ہے۔

اگرچہ اسرائیل کے داخلی حالات میں اپوزیشن سے مسلمانوں کو کسی قسم کی توقعات نہیں ہیں کہ اگر نیتن یاہو چلا گیا تو انہیں سکھ کا سانس نصیب ہوگا، ان کے حقوق کی پائمالی نہیں ہوگی اور متجاوز اقدامات رک جائیں گے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونے والا، مگر ایک بات تو طے ہے کہ جو اسرائیل دوسرے ممالک بالخصوص مسلمان ممالک اور ایران کے اندر فسادات، مظاہرے کروانے اور معمولی باتوں کو اچھالنے میں عالمی میڈیا کے سہارے یہ تاثر دینے کی بھونڈی کوشش کرتا ہے کہ ایران میں تبدیلی آرہی ہے، اسے ان مظاہروں سے، جن میں جلائو گھیرائو، توڑ پھوڑ اور تشدد کا عنصر نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے، کچھ پریشانی میں دیکھ کر ایک احساس مسرت ضرور ہوتا ہے۔ اس وقت تو مزاحمتی قوتیں اور مقاومتی محاذ اسرائیل کے اندر جا کر کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ جنین کے مقاومین نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس ساری صورتحال میں اس کے سرپرست فرانس و امریکہ کی حالت بھی اتنی اچھی نہیں۔

صدر بائیڈن امریکہ کا کمزور ترین صدر دکھائی دیتا ہے، جس کیساتھ کئی مسائل چل رہے ہیں، جبکہ فرانس کا میکرون بھی ملک میں پرتشدد مظاہروں کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس کا اثر دیگر یورپی ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے، جبکہ اسی دوران روس، چین، ایران نے اپنی سفارتی کوششوں سے اپنے بلاک میں سعودیہ کو جذب کیا ہے، جس کے اثرات مستقبل پر بہت گہرے پڑ یں گے، بالخصوص ٹرمپ کے دور میں اس کے یہودی داماد کشنر کے ذریعے جو ڈیولپمنٹ ہوئی تھی، وہ اب ضائع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سعودیہ و امارات اور بعض دیگر عرب ممالک نے جو تعلقات بحال کیے تھے، اب اسے شاید ریورس گیئر لگ جائے، اس لئے کہ شام کے صدر بشار الاسد نے امارات کا دورہ کیا ہے، جہاں اسے پرتپاک پروٹو کول دیا گیا ہے۔ سعودیہ کیساتھ سفارت خانے کھلنے کے بعد اس کا عرب لیگ میں واپسی کا راستہ بھی کھل جائے گا اور دیگر عرب ممالک بھی سعودی روش کو کاپی کریں گے۔ اگرچہ صیہونیسٹ و امریکہ کی عالمی اسٹیبلشمنٹ و کردار ان حالات میں اپنی تدبیر کر رہے ہوں گے، مگر بہ ظاہر نظر آنے والے حالات میں اسرائیل کی مشکلات بڑھتی دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خاتمے کے عنوان سے کہا تھا کہ اگلے پچیس برس میں اسرائیل دنیا کے نقشے پر دکھائی نہیں دیتا۔ اس صورتحال میں بہت سے لوگ دلچسپ تبصرے کرتے نظر آتے ہیں کہ رہبر معظم کا فرمانا جلد درست ثابت ہو رہا ہے، اسرائیل کے اندر تک مجاہدین کی کارروائیاں، اسرائیل کا داخلی بحران، سب سے تجربہ کار سیاستدان جو کم و بیش چھٹی بار مسند اقتدار پر بیٹھا ہے، اس کی کمزور پوزیشن اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی سفارتی سرگرمیاں اس کا بین ثبوت ہیں۔ اگرچہ اسرائیل کا کائونٹ ڈائون اس دن شروع ہوگیا تھا، جب امام خمینی نے اسرائیلی سفارت خانہ فلسطینیوں کے سپرد کرکے جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس کے طور پر منانے اور فلسطینی مسلمانوں کی حمایت و مدد کا اعلان کیا تھا۔ عالمی یوم القدس ہر سال جمعۃ الوداع کے دن منایا جاتا ہے اور اس روز اسرائیلی مظالم کو آشکار کیا جاتا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں نے اپنی مقدس سرزمین کو غاصب اسرائیلیوں سے واپس لینے کیلئے پچھتر برس سے جو قربانیاں دی ہیں، ان کا نتیجہ ان کی فتح اور اسرائیل کی فطری شکست کی صورت میں نکلنا ہے۔

اسرائیلی اگرچہ طاقت، اسلحہ، زور زبردستی اور بدمعاشی سے فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر رہے ہیں، ان کی بستیوں کو اجاڑ رہے ہیں، ان کو بے گناہ آگ و بارود کے ذریعے، گولیوں کی برسات میں زندگی کرنے پر مجبور کر رکھا ہے، اس کے باوجود اہل فلسطین کی مقاومت و مزاحمت نے اس ایشو کو دبنے نہیں دیا اور عالمی ضمیر کو بیدار رکھنے کیلئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ ظلم کی یہ سیاہ رات بالآخر ختم ہوگی اور فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جس کا خاتمہ ہو کر رہیگا، اس بار عالمی یوم القدس اس شعار کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ "بہت جلد افطار بیت المقدس میں۔” یہ ایک ایسا خواب ہے، جسے عملی تعبیر ہونا ہے، یہ خواب بہت جلد شرمندہ تعبیر ہونا ہے، ہم سب اس منظر کے انتظار میں ہیں۔ ہم اس دن کے انتظار میں ہیں، جب مظلوموں کو ان کا حق ملے گا، جب انصاف اور عدل کا بول بالا ہوگا، ہم بیت المقدس میں نماز وحدت پڑھیں گے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …