جمعہ , 19 اپریل 2024

ایران مصر تعلقات میں بہتری کی نئی امید

(تحریر: علی محمدی)

ایران اور مصر کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوئے چالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بحالی کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد خطے کے دیگر ممالک نے اسے سراہتے ہوئے تہران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ ان میں سے ایک مصر ہے۔ مصر خطے کا ایک موثر ملک ہے اور وہ دیگر ممالک سے بڑھ کر ایران سے تعلقات بحال کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ مصر کے وزیر سیاحت احمد عیسی نے چند روز قبل اعلان کیا ہے کہ قاہرہ اپنے ملک سفر کرنے والے سیاحوں کو کچھ نئی سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی شہریوں کو بھی مصر آنے کیلئے سیاحتی ویزا دیا جائے گا۔

مصر کے اس نئے موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصری حکام چالیس سال بعد اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ نہ صرف امریکہ کی جانب سے ایران کو گوشہ نشین کرنے کی کوششیں ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں بلکہ ایران روز بروز خطے اور دنیا میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ ایران کو دیوار سے لگانے کی آخری کوشش چند سال قبل اس وقت انجام پائی جب غاصب صیہونی رژیم نے خطے کے عرب ممالک سے مل کر ایران مخالف اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کی۔ لیکن یہ منصوبہ بھی مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ مصر کے سابق نائب وزیر خارجہ عبداللہ الاشعل نے کہا ہے کہ ایران اور مصر کے درمیان تعلقات منقطع ہونا نہ صرف دونوں کے فائدے میں نہیں بلکہ مصر کے اسٹریٹجک مفادات ایران سے تعلقات کی بحالی میں پوشیدہ ہیں۔

اگرچہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کے بعد مصر کی جانب سے ایران سے تعلقات کی بحالی کیلئے کوششوں میں تیزی آئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوششیں چند ماہ پہلے سے شروع ہو چکی ہیں۔ اگست 2021ء میں بغداد اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے مختصر ملاقات بھی کی تھی۔ اسی طرح ایران کے محکمہ ماحولیات کے سربراہ علی سلاجقہ نے بھی گذشتہ برس مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقد ہونے والے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سیمینار میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے اس موقع پر مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری سے ملاقات بھی کی۔ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ان کے ہاتھ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے نام اپنا پیغام بھی بھجوایا تھا۔

مصر کی جانب سے ایرانی شہریوں کو سیاحتی ویزا دینے پر مبنی حالیہ اقدام ایسے وقت انجام پایا ہے جب اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے مصر پر ایرانی شہریوں کو ویزا نہ دینے کیلئے شدید دباو ڈال رکھا ہے۔ گذشتہ سال جب ایران اور صیہونی رژیم کے درمیان تناو بڑھ گیا تھا تو صیہونی حکمرانوں نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ترکی اور مصر میں صیہونی شہریوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس موقع پر صیہونی حکام نے مصر اور ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایرانی شہریوں کو ویزا نہ دیں۔ لیکن یوں دکھائی دیتا ہے کہ قاہرہ نے اس مطالبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایران سے تعلقات کو فروغ دینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ مصری حکام ایران سے تعلقات اور باہمی تعاون کو خطے میں اپنے مفادات کیلئے سودمند تصور کرتے ہیں۔

مصر اور ایران خطے میں دو تہذیب ساز ممالک ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کیلئے وسیع مواقع پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں سکیورٹی برقرار کرنے میں دونوں ممالک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہذا اگر مصر اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو جاتے ہیں تو یہ امر خطے میں موجود مسائل اور بحرانوں کو حل کرنے میں بہت مددگار ثابت ہو گا۔ خطے کے دیگر ممالک کی طرح مصری حکام بھی اس حقیقت کو بھانپ چکے ہیں کہ امریکہ زوال کی جانب گامزن ہے اور خطے میں اس کا اثرورسوخ تقریباً ختم ہوتا جا رہا ہے۔ لہذا اب انہیں نئی صورتحال کے تناظر میں خطے کا ایک طاقتور ملک ہونے کے ناطے ایران سے تعلقات کو اہمیت دینا ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران سے ہم آہنگی کے بغیر خطے کے معاملات آگے بڑھانا تقریباً ناممکن ہے۔

ایران کی جانب مصر کے جھکاو کی ایک بڑی وجہ شام کے بحران میں دونوں ممالک کا باہمی تعاون ہے۔ مصر نے بھی 2011ء میں دیگر عرب ممالک کی طرح شام سے تعلقات منقطع کر لئے تھے جبکہ سابق صدر مرحوم محمد مرسی کے دور میں شام میں تکفیری دہشت گردوں کی مدد بھی کرتا رہا تھا۔ لیکن عبدالفتاح السیسی کے برسراقتدار آنے کے بعد اس پالیسی کو تبدیل کیا گیا۔ مصر خود بھی خاص طور پر صحرای سینا کے علاقے میں تکفیری دہشت گردی کا شکار ہے لہذا مصری حکومت نے شام میں دہشت گردی می مذمت کرتے ہوئے فوجی طاقت کی بجائے سفارتی ذرائع سے شام کا مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔ گذشتہ دو سال سے مصر نے شام سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ شام میں حالیہ زلزلے کے بعد مصر کے صدر نے شام کے صدر بشار اسد سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بائیڈن کے حماس سے اپنی شکست تسلیم کرنے کے چار اہم نتائج

ایک علاقائی اخبار نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کو مختلف جہتوں سے حماس کے خلاف امریکہ …