پیر , 22 اپریل 2024

دوسری سرد جنگ اور تیسری عالمی جنگ کا بگل

(تحریر: اتوسا دیناریان)

امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں امریکہ کے سابق وزیر خارجہ "ہنری کسنجر” نے دوسری سرد جنگ کے رونما ہونے کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جنگ پہلی سرد جنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگی۔ اتوار کو ہسپانوی اخبار منڈو کو انٹرویو دیتے ہوئے کسنجر نے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کے امکان کے بارے میں بات کی۔ ان کے مطابق، دونوں ممالک کے پاس پہلی سرد جنگ (جو 1940ء کی دہائی کے وسط سے 1990ء کی دہائی کے اوائل تک امریکہ اور سوویت یونین اور ان کے اتحادیوں کے درمیان لڑی گئی تھی) کے برعکس اب ایک جیسے معاشی وسائل ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا: "یہ دو عظیم اقتصادی طاقتیں اب دو مخالف حریف بن چکی ہیں اور ہمیں چین کے مغرب کی طرف رخ کرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیئے۔”

امریکہ اور چین کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کے ظہور کے بارے میں سب سے بڑے اور اہم امریکی سیاست دانوں اور حکمت عملی سازوں میں سے ایک کے طور پر کسنجر کا انتباہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور دشمنی کی تصدیق کرتا ہے، خاص طور پرچین کے خلاف امریکہ کے نقطہ نظر اور اقدامات سے یہ بات عیاں ہو رہی ہے۔ یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے، جو کسنجر کی نظروں سے اوجھل ہو۔ انہوں نے اس سے قبل بھی چین اور امریکہ کے درمیان تصادم کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ تنازعہ "انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج” بن سکتا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دونوں ممالک دنیا کو تباہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، سابق امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے درمیان کوئی بھی فوجی تصادم دنیا کو اس سے بھی بدتر صورتحال کی طرف لے جائے گا، جو پہلی جنگ عظیم کے بعد تھی۔” چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ ان کے ملک اور امریکہ کے درمیان "نئی سرد جنگ” کا آغاز پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے میدان
کسنجر کے موجودہ موقف کا اظہار اس وقت کیا گیا ہے، جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان خاص طور پر تائیوان کے جزیرے پر کشیدگی، غباروں کے ذریعے جاسوسی کا معاملہ، "ٹک ٹاک” ایپلی کیشن کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے اتحاد پر امریکا کی تشویش سامنے آچکی ہے۔ درحقیقت، امریکہ نے ایک طویل عرصے سے اپنی نیشنل سکیورٹی پالیسی جیسی اعلیٰ دستاویزات میں چین کو اپنے اور مغربی دنیا کے خلاف سب سے اہم خطرہ قرار دیا ہے اور بیجنگ کے عزائم کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اکتوبر 2022ء کے آخر میں پینٹاگون میں قومی دفاعی حکمت عملی کی نقاب کشائی کے دوران، امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا تھا کہ یوکرین پر روس کے حملے کے باوجود، چین امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

نئی امریکی قومی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ چین اپنے مفادات اور آمرانہ ترجیحات کے مطابق انڈو پیسیفک خطے اور بین الاقوامی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے متن میں تائیوان کے خلاف چین کی مخالفانہ سرگرمیوں کو عدم استحکام اور خطے میں امن کے لیے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ فوجی اور سکیورٹی حکام نے بارہا چین کو امریکہ کے لیے سب سے اہم جیو پولیٹیکل چیلنج قرار دیا ہے اور لبرل آرڈر کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام کو تبدیل کرنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بہت سے علاقائی اور عالمی اقدامات عالمی میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی خبر دے رہے ہیں۔

جو بائیڈن کے حکومتی عہدیداروں کے چین کے ساتھ مساوی مقابلے اور دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کے دعووں کے باوجود، بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے چین کے تئیں امریکہ کے موقف اور اقدامات سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ واشنگٹن کی کوشش یہ ہے کہ اقتصادی، تجارتی، فوجی ،سکیورٹی، سیاسی اور سائبر میدانوں میں بیجنگ کا جامع طور پر مقابلہ کیا جائے اور اس کے سمندری دعوؤں کا بھی جواب دیا جائے۔ درحقیقت، واشنگٹن کو خوف ہے کہ چین روس کے ساتھ مل کر لبرل ڈیموکریسی بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرے گا، جسے مغربی دنیا اپنی بقاء کی جنگ سمجھتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے بین الاقوامی نظام پر مغرب کا صدیوں پرانا اختیار کمزور ہو جائیگا۔

امریکہ کے نقطہ نظر سے، جس نے عالمی میدان میں ہمیشہ یکطرفہ روش اختیار کی ہے اور دوسرے ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچا کر صرف اپنے مفادات اور اہداف کی پیروی کی ہے، یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور اس لیے وہ کوشش کر رہا ہے کہ نئے عالمی کھلاڑیوں کو روکے، یعنی چین اور روس کو محدود کرکے انہیں زیادہ سے زیادہ کمزور کرے۔ امریکہ یہ کام چین کے ساتھ تجارتی جنگ اور اس ملک کو روکنے کے لیے ایشیا پیسیفک کے خطے میں مختلف اتحادوں کی تشکیل کے حوالے سے کر رہا ہے اور روس کے حوالے سے یوکرین میں جنگ جاری رکھ کر روس کی فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں کو ہر ممکن حد تک کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ البتہ عالمی رجحانات کا جائزہ مشرقی اور یوریشین طاقتوں کی طاقت میں واضح اضافہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے زوال کو ظاہر کرتا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بائیڈن کے حماس سے اپنی شکست تسلیم کرنے کے چار اہم نتائج

ایک علاقائی اخبار نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کو مختلف جہتوں سے حماس کے خلاف امریکہ …