بدھ , 24 اپریل 2024

فرانس میں حکمران اور عوام آمنے سامنے، کون جیتے گا؟

(تحریر: علی احمدی)

کچھ دنوں سے فرانس میں عوامی احتجاج کی شدت مختلف عالمی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں شامل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فرانس گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی بحرانی صورتحال سے روبرو رہے گا۔ اس سال فرانس دیگر کئی بحرانوں سے بھی روبرو ہے جن میں 37 سالہ مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹ جانا، انرجی کا بحران اور کرونا وبا کی نئی لہر شامل ہے۔ گذشتہ دس دنوں میں فرانس کی سڑکیں ایک بار پھر دسیوں لاکھ مظاہرین سے بھری رہی ہیں جو ایمونوئیل میکرون کی سربراہی میں موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق صرف منگل 28 مارچ کے دن ملک بھر میں 10 لاکھ سے زیادہ مظاہرین سڑکوں پر نکلے جبکہ دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی تعداد 1 لاکھ 19 ہزار تھی۔ ساتھ ہی تعلیمی مراکز اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں عام ہڑتال نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق، لیبر یونینز کی جانب سے منعقد کئے جانے والے مظاہروں میں کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی شرکت کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ہڑتال بھی جاری ہے جن میں ملک بھر میں ریل گاڑیوں کی ہڑتال شامل ہے۔ توقع کے مطابق اس بار بھی میکرون حکومت نے مظاہرین کے مقابلے میں طاقت کا کھلا استعمال کیا ہے۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق مختلف شہروں میں 10 ہزار پولیس اہلکاروں کو مظاہرے کنٹرول کرنے کیلئے تعینات کیا گیا۔ مظاہروں کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور پانی پھینکنے والی گنوں کا استعمال کیا۔ بعض جگہ مظاہرین اور پولیس میں شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جبکہ کچھ مقامات پر مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔ مثال کے طور پر گذشتہ ہفتے جمعرات کے دن فرانس کے جنوب مغربی شہر بوردو میں میٹروپولٹن کی عمارت کو نذر آتش کر دیا گیا۔

فرانس میں جاری اس عوامی احتجاج کی بنیادی وجہ میکرون حکومت کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے قوانین میں تبدیلیاں ہیں۔ میکرون حکومت نے پارلیمنٹ سے رجوع کئے بغیر ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال سے بڑھا کر 64 سال کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ لیبر یونینز اور عوام کے وسیع احتجاج کا باعث بن گیا ہے۔ فرانس میں ملک کے سب سے بڑی لیبر یونینز کے اتحاد نے ایمونوئیل میکرون سے اس قانون میں تبدیلی روک دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اتحاد کا موقف ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کی عمر 64 سال تک بڑھا دینے کا مخالف ہے۔ دوسری طرف میکرون حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں اقتصادی توازن برقرار رکھنے کیلئے یہ تبدیلی ضروری ہے لہذا اس پر کسی قسم کی سودا بازی نہیں ہو سکتی۔ یوں ملک بھی میں شدید احتجاج کے باوجود حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فرانس سمیت یورپی ممالک جن بحرانوں کا شکار ہیں ان کی بنیادی وجہ یوکرین جنگ ہے۔ یوکرین جنگ کا ایک نتیجہ یورپی ممالک کی معیشت متاثر ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جس کی وجہ سے فرانس حکومت نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں دو سال کا اضافہ کر دیا ہے جبکہ گذشتہ 37 برس میں مہنگائی کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ فرانسیسی مجلہ لو فیگارو اس بارے میں لکھتا ہے: "اگر ہم تفصیلات کا جائزہ لیں تو بہت سے شعبوں میں قیمتیں بڑھی ہیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ خاص طور پر انرجی محصولات میں انتہائی شدید ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں جبکہ گیس کی قیمت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔” اس رپورٹ کی روشنی میں گھر، انشورنس، سماجی سروسز، کرایہ، پانی اور گاڑیوں کی تعمیر وغیرہ کی قیمتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔

عوام کی جانب سے موجودہ حکومت کی مخالفت کی ایک وجہ فرانس کے صدر ایمونوئیل میکرون کی شخصیت ہے۔ ابھی کچھ ہفتے پہلے سوشل میڈیا پر فرانسیسی صدر کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہیں شراب نوشی کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان کی نظر میں عوام اور عوام کو درپیش مسائل کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ایک طرف عوام چند ماہ سے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ شراب نوشی میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا کے علاوہ فرانس کی کئی ٹی وی چینلز نے بھی ایمونوئیل میکرون کی اس ویڈیو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹویٹر پر ہش ٹیگ "شیم آن میکرون” پر مبنی کمپین چل پڑی۔ مزید برآں، میکرون کی 80 ہزار یورو قیمت والی گھڑی نے ان کے خلاف عوامی نفرت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ایمونوئیل میکرون کی عوام میں محبوبیت 30 فیصد گر گئی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ریٹائرمنٹ کے نئے قانون کو باقی رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ ملک بھر میں عوامی احتجاج اور مظاہروں کی شدت میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فرانس میں سیاسی اور سماجی دراڑ گہری ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں فرانس سقوط کے دہانے پر آ کھڑا ہوا ہے۔ اسی طرح عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ بھی روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ ملکی سطح پر جاری احتجاج گذشتہ دس روز سے جاری ہے جبکہ پولیس نے عوامی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کیلئے شدت پسندی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یوں فرانس شدت پسندانہ ہنگاموں کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس ٹکراو میں اپنی معیشت اور اقتصاد سے پریشان عوام کامیاب ہوتے ہیں یا فرانسیسی صدر کی ضد غالب آتی ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بائیڈن کے حماس سے اپنی شکست تسلیم کرنے کے چار اہم نتائج

ایک علاقائی اخبار نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کو مختلف جہتوں سے حماس کے خلاف امریکہ …