اتوار , 28 مئی 2023

پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کیسے سیاسی رہنماؤں کی اقتدار سے بے دخلی کا باعث بنتی رہی

(احمد اعجاز)

سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین تنازعے کی ابتدا تو اُن کی وزارت عظمیٰ کے دور کے آخری مہینوں سے ہی شروع ہو گئی تھی تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے رائے میں نو مئی کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بہتری کا مستقبل قریب میں کوئی خاص امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔

17 مئی کو ایک ویڈیو بیان میں چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف کا کہنا تھا ’اسٹیبلشمنٹ الیکشن کروائے اور ملک کو بچائے۔ میں کب سے انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی ہم سے بات کرے۔‘

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق معاملات جس نہج پر آگے بڑھ رہے ہیں اس کے پیش نظر عمران خان کی بات چیت کی پیشکش فی الوقت پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ماضی میں سیاستدانوں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی، دوطرفہ فاصلوں کی خلیج کو وسعت دے کر سیاسی حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کرنے کا باعث بنتی رہی ہے اور اس کی ابتدا پاکستان کے قیام کے کچھ عرصے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھی۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کا انجام کبھی نہ تو سیاست اور نہ ہی سیاستدانوں کے حق میں سامنے آیا۔

یہ اپریل 1953 کا واقعہ ہے جب اس وقت کے وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل غلام محمد نے ایوب خان کی معاونت سے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انھیں ایک ایسے وقت میں ہٹایا گیا تھا جب انھیں نہ صرف اسمبلی کا اعتماد حاصل تھا بلکہ کچھ ہی عرصہ قبل وہ اسمبلی سے بجٹ بھی پاس کروا چکے تھے۔

قیوم نظامی اپنی کتاب ’جرنیل اور سیاست دان، تاریخ کی عدالت میں‘ میں لکھتے ہیں کہ ’بعض مؤرخین کے مطابق خواجہ ناظم الدین جو دستور تیار کروا رہے تھے، اُس میں گورنر جنرل کے اختیارات کم کر دیے گئے تھے۔ ناظم الدین، ایوب خان کو توسیع دینے اور فوج کے حجم کو قومی وسائل سے زیادہ بڑھانے کے مخالف تھے۔‘

قیام پاکستان کے ٹھیک گیارہ برس بعد سنہ 1958 میں ملک میں پہلا مارشل لا لگا دیا گیا۔ قدرت اللہ شہاب، شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ ’اکتوبر 1958 میں آئین منسوخ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ اُس وقت پاکستان کسی غیر معمولی بیرونی خطرے سے دوچار نہیں تھا۔ اندرونی خطرہ صرف یہ تھا کہ اگر انتخابات ہو جاتے تو غالباً اسکندر مرزا کو کرسیِ صدارت سے ہاتھ دھونا پڑتے۔‘

اب ذرا دیکھیے کہ اسکندر مرزا کے ساتھ کیا ہوا؟ قیوم نظامی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ملٹری انٹیلیجنس نے سید امجد علی اور اسکندر مرزا کے درمیان ٹیلی فون بات چیت سُنی۔ سید امجد علی کے بیٹے کی شادی اسکندر مرزا کی بیٹی سے ہونا تھی۔

’سید امجد علی نے اُنھیں شادی کی تاریخ مقرر کرنے کو کہا تو اسکندر مرزا نے جواب دیا کہ وہ اگلے چند دن بہت مصروف ہیں۔ حالات معمول پر آئیں گے تو تاریخ مقرر ہو جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ امجد علی نے کہا حالات معمولات پر آنے میں کافی وقت لگے گا؟ تو اسکندر مرزا نے اس کا جواب دیا کہ چند دن میں، مَیں ایوب خان کو سیدھا کر دوں گا۔‘

وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان کو ٹیلی فون پر ہونے والی اس بات چیت سے آگاہ کر دیا گیا لیکن اس پر 27 اکتوبر تک کوئی کارروائی نہ کی گئی کیونکہ امریکی سیکریٹری دفاع نے پاکستان کی فوجی امداد کی ضروریات پر مذاکرات کے لیے پاکستان آنا تھا۔ 27 اکتوبر کو امریکی سیکریٹری کے دورے کے اختتام کے بعد یحییٰ خان اور ان کی ٹیم نے اپنے ایکشن پلان کے دوسرے حصے پر کارروائی شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایوب خان نے رات دس بجے اسکندر مرزا کو صدارت سے الگ کر دیا۔‘

مارشل لا کو دفن کرنے والا کیسے مارشل لا کا نشانہ بن گیا؟
ایم اے چودھری اپنی کتاب ’مارشل لا کا سیاسی انداز‘ میں لکھتے ہیں ’پاکستان کے منتخب وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئین کو تشکیل دینے کے سلسلے میں ایک دفعہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس ملک میں مارشل لا کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں گے۔ یہ وقت کی کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ مارشل لا ہی کی حکومت نے اُنھیں پھانسی دی اور دفن کیا۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکمرانوں کے مابین اختلاف کا نتیجہ کبھی سیاسی حکمرانوں کے لیے اچھا نہیں رہا: ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا جونیجو، میاں نوازشریف ہوں یا بے نظیر اور یوسف رضا گیلانی ہوں یا پھر عمران خان۔۔۔

ذوالفقار علی بھٹو فوج اور بیوروکریسی میں اصلاحات کے خواہاں تھے اور جمہوری بالادستی کو قائم کرنا چاہتے تھے۔اُنھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی کئی اعلیٰ درجے کے فوجی افسران کو ملازمتوں سے سبکدوش کر دیا، جن میں لیفٹیننٹ گل حسن خان بھی شامل تھے۔

اسی طرح افواج کے چیفس کے عہدے کی مدت بھی ایک سال کم کر دی، علاوہ ازیں 1972 میں فیڈرل سکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

ڈاکٹر محمد اعظم چودھری نے اپنی کتاب ’پاکستان کا آئین‘ میں لکھا ’ایف ایس ایف کے قیام سے فوجی افسران چوکنے ہو گئے۔ اُنھیں پیشہ ورانہ روایتی فوج کی جگہ عوامی فوج کا وہ نعرہ یاد آنے لگا جو بھٹو نے بہت پہلے اپنی سیاسی تحریک کے دوران لگایا تھا۔ جنرل ضیا نے برسرِاقتدار آ کر اپنے اولین اقدامات کے تحت ایف ایس ایف کو توڑ دیا۔‘

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس ایف ایس ایف کو فوج کے متوازی فوج نہیں مانتے۔ ان کے مطابق ’ایف ایس ایف فوج کے متوازی فوج نہ تھی بلکہ یہ صرف بھٹو کے سیاسی مخالفین کو قابو کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس فورس میں زیادہ تر پیپلز پارٹی کے اپنے ورکرز تھے، جن کا کام بھٹو کے مخالفین کو ڈرانا دھمکانا اور قابو میں رکھنا تھا۔‘

طاہر کامران، بھٹو کی جانب سے 43 فوجی افسروں کی سبکدوشی کے تناظر میں اپنی کتاب ’پاکستان میں جمہوریت اور گورننس‘ میں لکھتے ہیں ’یہ فوج پر سویلین بالادستی کے قیام کی جانب بہت واضح اشارہ تھا۔ آئین کے آرٹیکل 271 میں کسی بھی ممکنہ فوجی مداخلت یا فوج کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کے لیے موت کی سزا تجویز کی گئی۔‘

جنرل کے ایم عارف اپنی کتاب خاکی سائے میں لکھتے ہیں ’بھنڈارہ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ایک بار ضیا سے سوال کیا تھا کہ آپ نے بھٹو حکومت کو کیوں گرایا تھا؟ ضیا نے اس کا بالواسطہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا ’کسی روز میں آپ کو بھٹو کے بارے میں ایسی معلومات فراہم کروں گا کہ حیرت سے آپ کا رواں رواں ششدر رہ جائے گا۔‘ ضیا نے بھنڈارہ کو بتایا کہ مجھے پاکستان آرمی کی شکست و ریخت قبول نہیں تھی۔‘

جنرل ضیا نے 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے۔ الیکشن کے بعد وزیراعظم کے طور پر محمد خان جونیجو کا انتخاب عمل میں آیا اور بیشتر مؤرخین کے مطابق اس انتخاب کی بنیادی وجہ جونیجو کی سادہ لوحی قرار دی جاتی تھی کیونکہ ضیا کسی ایسے شخص کو وزیرِ اعظم نہیں بنانا چاہتے تھے جو بعد میں اِن کی حیثیت کو کسی طرح چیلنج کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو۔

مگر جونیجو اور ضیا کے مابین تعلقات کچھ ہی عرصے بعد خراب ہوتے چلے گئے۔ بالآخر مئی 1988 کو صدر ضیا نے جونیجو کو عہدے سے ہٹا دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔

طاہر کامران اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ضیا کی جانب سے جونیجو کو ہٹانے کی وجوہات کے پیچھے جونیجو کا جنرل ضیا کی خواہشات کے برعکس جنیوا معاہدہ پر دستخط کرنا ان کی معزولی کا بڑا سبب بن گیا۔‘

’علاوہ ازیں راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے واقعے کے ذمہ دار فوجی افسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی ضیا الحق اور جونیجو کے مابین اختلافات کا بڑا سبب تھا۔‘

قیوم نظامی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’فوج سندھ میں پنوں عاقل اور تین دوسری جگہوں پر چھاؤنیاں قائم کرنا چاہتی تھی، سندھ کے قوم پرست لیڈر اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ جونیجو نے ضیا کی خواہش کے برعکس چھاؤنیوں کے قیام کے لیے کھلے عام حمایت سے گریز کیا۔‘

بے نظیر کا دو بار اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار
بے نظیر بھٹو پہلی بار 1988 کے الیکشن میں وزیرِ اعظم بنیں مگر وہ اپنی مُدت اقتدار کو پورا نہ کر سکیں۔

طاہر کامران اپنی کتاب میں سعید شفقت کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں ’سب سے طاقتور ادارے کے ساتھ بے نظیر کے تعلقات کی خرابی کی چار وجوہات تھیں جو اُن کی حکومت کے خاتمے کا سبب بن گئیں۔

’اُس میں ایک وجہ یہ تھی کہ 1990 میں بے نظیر نے آرمی کے سلیکشن بورڈ کے معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ جس نے اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا دھرنے کا کام سرانجام دے دیا۔‘

اسٹیبلیشمنٹ سے اپنی محاذ آرائی کے باوجود سنہ 2013 میں نواز شریف عام انتخابات کے نتیجے میں تیسری بار وزیرِ اعظم بن گئے مگر تیسری بار بھی اپنی مدت پوری نہیں کر پائے

’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے ڈان لیکس تک، نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی محاذ آرائی
’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔‘ میاں نوازشریف کا یہ جملہ اگرچہ اُس وقت کے صدر اسحاق خان کے خلاف کی جانے والی تقریر کا حصہ ہے مگر اس کے پیچھے جو وجہ تھی وہ اقتدار سے ہٹانے کی تھی۔

میاں نواز شریف کے اقتدار کا پہلا دور اسی شورش اور محاذ آرائی کی نذر ہو جاتا ہے مگر جب یہ دوسری بار وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو عوام کی اکثریت کا اعتماد لے کر بنتے ہیں مگر پھر بھی اپنا دور مکمل کرنے سے قاصر ٹھہرتے ہیں اور جنرل مشرف انھیں ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

عائشہ صدیقہ نے اپنی کتاب ’پاکستانز آرمز پروکیورمنٹ اینڈ ملٹری بلڈ اپ‘ میں لکھا ہے کہ ’نواز شریف کی پالیسیوں کے برعکس فوج نے اپنے ادارے کو محفوظ رکھنے کے خدشات کے پیش نظر اقتدار پر قبضہ کیا۔ فوج کو خدشہ تھا کہ نواز شریف فوج کو اپنے کنٹرول میں لا کر ڈاؤن سائزنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فوج نے نواز شریف کی جانب سے عسکری اُمور میں مداخلت کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھا۔‘

جبکہ رسول بخش رئیس کا خیال ہے کہ ’جب نواز شریف کے پاس 1997 کے الیکشن کے بعد دوتہائی اکثریت آ گئی تو وہ فوج کے قابو میں نہ رہے اور انھوں نے بھٹو کی طرح سول سپریمیسی لاگو کرنے کی کوشش کی۔‘

اسٹیبلیشمنٹ سے اپنی محاذ آرائی کے باوجود سنہ 2013 میں نواز شریف عام انتخابات کے نتیجے میں تیسری بار وزیرِ اعظم بن گئے مگر تیسری بار بھی اپنی مدت پوری نہیں کر پائے۔

سنہ 2016 میں ایک خبر سامنے آئی جو آنے والی تاریخ میں ’ڈان لیکس‘ کے عنوان سے مشہور ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے پیچھے ایک بڑا محرک ڈان لیکس رہی۔

اس خبر کو رکوانے میں ناکامی کی بنیاد پر پرویز رشید، جو اس وقت وزیرِ اطلاعات تھے، کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس معاملے کی سنگینی کھل کر اُس وقت سامنے آئی جب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے ڈان لیکس سے متعلق جاری اعلامیے کی تردید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ ’یہ نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے‘ تاہم بعد میں حکومتی نوٹیفکیشن مسترد کرنے والی ٹویٹ واپس لے لی گئی تھی۔

22 دسمبر 2011 کو اُس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں چوہدری نثار علی خان کے نکتہ اعتراض کے جواب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر فوج اور متعلقہ ادارے وزارت دفاع کے ماتحت نہیں ہیں اور متحدہ ہندوستان سے علیحدگی کے بعد اگر یہاں محکوم ہی رہنا ہے تو اس پارلیمنٹ اور جمہوریت کی کوئی وقعت اور فائدہ نہیں۔‘

اُس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مہمند اور کرم ایجنسیوں کی چوکیوں کے دورے پر فوجی جوانوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا ’پاکستانی فوج جمہوریت کی حمایت کرتی ہے اور کرتی رہے گی، فوج اقتدار پر قبضہ نہیں کر رہی۔‘

ملکی تاریخ میں کئی وزرائے اعظم اپنی مدت پوری نہ کر سکے جس کی بڑی وجہ عسکری اور سول قیادت میں تنازعات قرار پاتی ہے۔

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید جعفر احمد کا کہنا تھا کہ ’ماضی کا اس طرح کا کوئی واقعہ معروضی پس منظر اور حقائق کا حامل ہوتا ہے۔ اگر کچھ ملتے جلتے نتائج نکل آئیں تو الگ معاملہ ہے۔‘

اس حوالے سے ضیغم خان کا کہنا تھا ’ہمیں اسٹیبلشمنٹ کو ایک پولیٹکل ایلیٹ گروپ کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔ پاکستان میں طاقتور اشرافیہ کے جو گروپس ہیں، اُس میں ایک پولیٹیکل سائیڈ ہے اور ایک ریاست کی سائیڈ ہے اور پاکستان میں جو طاقتور اشرافیہ کا بڑا گروپ ہے وہ پاکستان کی فوج ہے۔

’یہ دنیا کی تاریخ ہے کہ جب بھی پاور ایلیٹ کو کوئی چیلنج آتا ہے تو وہ اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔‘

موجودہ صورتحال کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ضیغم خان کا کہنا ہے کہ ’ْاس وقت ریڈلائن کراس ہو چکی ہے۔ ریڈلائن صرف فوج کی نہیں ہوتی بلکہ ریاست کی بھی ہوتی ہے اور فوج کی تنصیبات اور گھروں پر حملہ کسی بھی ملک کی فوج کے لیے قابلِ قبول نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ریاست اسے نظر انداز نہیں کرے گی۔‘

صحافی و اینکر فریحہ ادریس کے مطابق ’ْ9 مئی کے واقعات ریاست کی ریڈ لائن کراس کرنے جیسے ہیں۔ معاملہ کچھ پرانی عمارتوں کا نہیں بلکہ میرے نزدیک یہ بعض علاقوں کے تقدس کو پامال کرنے کا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سب کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نو مئی کے واقعات کا جواب دینا ناگزیر ہو چکا ہے لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ آپ خواتین کو گھروں سے اٹھا لیں؟

’ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کی یہ روایت قابل تائید نہیں اور لگ یوں رہا ہے کہ اداروں کو استعمال کر کے سیاسی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کاش ! عمران خان صبر کرسکتے

(تحریر : انجم فاروق) ہم بھی عجیب قوم ہیں! ہمارا سب سے اہم مسئلہ دم …