منگل , 3 اکتوبر 2023

’ ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگانے کا یہی وقت ہے

(سید مجاہد علی)

وزیر اعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر سانحہ 9 مئی میں ملوث تمام عناصر کو سزا دلوانے کا عہد کیا ہے۔ گو کہ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے ہی سیاست دان مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالتے ہیں لیکن قومی نشانیوں پر حملے کرنے والے دہشت گرد اور انتشار پسند ہیں۔ ان لفظوں میں ملک کی اہم سیاسی جماعت کو مسترد کر کے وزیر اعظم نے سیاسی بحران جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ کیوں کہ اسی میں انہیں اپنا فائدہ دکھائی دیتا ہے۔

تحریک انصاف کے خلاف کارروائی کرنے میں حکومت تنہا نہیں ہے بلکہ ملکی اسٹبلشمنٹ بھی پوری طرح اس کے ساتھ ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ 9 مئی کے واقعات پر تحریک انصاف اور عمران خان کو سزا دینا چاہتی ہے اور حکومت پوری تندہی سے اس مقصد میں اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ملک میں یہ کھیل پہلے بھی کھیلا جا چکا ہے۔ اس وقت مخلوط حکومت میں شامل اہم سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اس صورت حال کا سامنا کرچکی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے تو اپنے بانی قائد کی قربانی دی ہے اور مسلم لیگ (ن) کے بانی نواز شریف طویل مدت تک جلاوطن رہ چکے ہیں۔ اب بھی وہ ایک طرح سے جلا وطن ہی ہیں کیوں کہ بھائی کی حکومت ہونے کے باوجود ابھی تک انہیں عدالتوں سے ریلیف ملنے کا امکان پیدا نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ تاحال لندن میں مقیم ہیں۔ سیاسی لحاظ سے اس رویہ کو نعرہ ضرور بنایا جاتا ہے لیکن انسانی سطح پر دیکھا جائے یا پاکستان کے وسیع تر سیاسی پس منظر نامہ کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو نواز شریف کا ملک سے باہر رہنے کا فیصلہ مناسب اور دانشمندانہ ہے۔ کوئی سیاسی کھیل اتنا اہم نہیں کہ اس کے لئے کوئی شخص اپنی جان قربان کردے۔

البتہ یہ اصول عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اس کا اطلاق ان صحافیوں پر بھی ہونا چاہیے جو اپنی کمٹمنٹ، سیاسی پسند یا کسی فائدے کے لئے تحریک انصاف اور عمران خان کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن تبدیل شدہ حالات میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں نام عمران ریاض کا ہے جو ایک مقبول یو ٹیوبر ہیں اور 9 مئی کے بعد سیالکوٹ ائرپورٹ سے بیرون ملک سفر کی کوشش میں گرفتار ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ غائب ہیں۔ آئی جی پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ میں جو بیان جمع کروایا ہے، اس کے مطابق وہ پولیس یا کسی ایجنسی کی حراست میں نہیں ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے مطابق عمران ریاض کے حوالے سے آخری معلومات افغانستان کے ٹیلی فون نمبروں سے حاصل ہوئی تھیں اس لئے پولیس کا خیال ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں۔ اس دوران بول نیوز سے وابستہ اینکر و صحافی سمیع ابراہیم 6 روز تک لاپتہ رہنے کے بعد اچانک واپس آ گئے ہیں لیکن ان کی واپسی کے بعد کسی میڈیا میں یہ معلومات سامنے نہیں آ سکیں کہ وہ کہاں تھے اور اچانک کیوں غائب ہو گئے تھے۔

ان دو جانے پہچانے ناموں کے علاوہ متعدد صحافیوں کو شدید دباؤ اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ نیوز میڈیا پر پابندیوں اور دباؤ کی صورت حال اپنی جگہ پر ایک المناک کہانی ہے۔ اس دوران میں گو کہ ملک سیاسی انتشار و پریشانی کے علاوہ سنگین مالی بحران کا سامنا کر رہا ہے لیکن حکومت اور اس کے عمائدین مسلسل 9 مئی کی بنیاد پر تحریک انصاف کو نشانہ بنانے پر مصر ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ قوم و ملک کی فلاح کا راستہ اس دن ہونے والے سانحات کا ذکر کرنے اور اس الزام میں تحریک انصاف کو زیادہ سے زیادہ دباؤ میں لانے سے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ مگر جسے قومی فخر و امتیاز کا راستہ قرار دیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت سیاسی بحران میں اضافے اور عوام و اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں اگر اپنے مختصر المدت مفاد کے لئے اس وقت عسکری قیادت کو سول معاملات میں مکمل دسترس دینے کا اقدام کریں گی تو وہ عملی طور سے ملکی سیاست پر اسٹبلشمنٹ کا تسلط مضبوط کرنے کا سبب بنیں گی۔

ایسے اقدامات سے اگرچہ حکمران سیاسی جماعتوں کو وقتی فائدہ تو حاصل ہو جائے گا لیکن اس سے ملکی سیاسی نظام کی آئینی بنیادیں ہلا دی جائیں گی۔ یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ اس عمل میں صرف حکومت یا حکمران جماعتوں کو مکمل طور سے ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف سے بھی غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی لیکن جب ملک کا وزیر اعظم اور حکومت میں شامل سب سے بڑی پارٹی کا صدر تحریک انصاف کی طرف سے بات چیت کی ہر پیش کش کو یہ کہہ کر مسترد کرتا ہے کہ وہ ’انارکسٹ اور قومی نشانیوں کو جلانے‘ والے ہیں تو اس سے صورت حال کی یک طرفہ، غیر متوازن اور ناقابل قبول تصویر سامنے آتی ہے۔ عمران خان سے معاملات طے کرنے کے ہر امکان کو مسترد کرتے ہوئے شہباز شریف درحقیقت ملکی مفادات کے حوالے سے بات کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ اس بیان کے دو ہی پہلو قابل فہم ہوسکتے ہیں :

ایک: یہ کہ وہ تحریک انصاف کے خلاف سخت موقف اختیار کر کے فوج کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ انتخابات کے اگلے مرحلے میں اس کی مکمل اعانت حاصل کی جا سکے۔ یہ اعانت محض حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان آئینی تقاضوں کے مطابق تعاون تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس میں شہباز شریف کی اس دبی ہوئی خواہش کو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں فوجی قیادت انہیں بھی ویسی ہی سہولت فراہم کرے جو اس نے 2018 میں عمران خان اور تحریک انصاف کو مہیا کی تھی۔ یادش بخیر اپوزیشن لیڈر کے طور پر شہباز شریف متعدد بار یہ کہتے رہے تھے کہ فوج نے جتنی حمایت و سرپرستی عمران خان کو فراہم کی ہے اگر اس سے کم تر حمایت انہیں دی جاتی تو وہ ملکی معیشت و سیاست کا حلیہ بدل دیتے۔ جملہ معترضہ کے طور پر یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ اپریل میں وزیر اعظم بننے کے بعد سے انہیں یہ موقع ملا ہوا تھا۔ فوج بھی ’غیر سیاسی‘ تھی، اقتدار بھی ان کے ہاتھ میں تھا، اپوزیشن بھی عمران خان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پارلیمنٹ سے باہر تھی لیکن شہباز شریف ملکی حالات بہتر بنانے کے لئے کوئی جادو گردی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

دوئم: تحریک انصاف سے مذاکرات کے حوالے سے وزیر اعظم کے سخت گیر موقف کا دوسرا اہم نکتہ یہ خواہش ہو سکتی ہے کہ سیاسی میدان میں حکومت کو چیلنج کرنے والے اہم ترین لیڈر اور پارٹی کو میدان سے باہر رکھنے کا یہ موقع ضائع نہ کیا جائے۔ فوج بوجوہ عمران خان سے ناراض ہے اور عدالتوں کی طرف سے تحریک انصاف کو ریلیف دینے کی کشمکش بھی کمزور پڑ رہی ہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی میدان کو خالی کیا جائے تاکہ جب انتخابات ہوں تو کوئی ان کا مدمقابل نہ ہو۔

آج تحریک انصاف کے سابق لیڈر فواد چوہدری نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن کے بغیر یا مختلف سیاسی فورسز کے بغیر کیسے ملکی سیاسی نظام کام کر سکتا ہے۔ یہ ایک جائز سوال ہے کیوں کہ شہباز حکومت یہی راستہ اختیار کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ملک کا وزیر دفاع تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی بات کرتا ہے اور کبھی وزیر داخلہ عمران خان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی دھمکیاں دیتا ہے۔

یوں تو عام شہریوں کو فوج کے حوالے کرنا اور ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے سے اتفاق کر کے حکومت نے خود ہی شہریوں کو آئین میں حاصل حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ جلد ہی کسی مرحلہ پر اعلیٰ عدلیہ اس اہم معاملہ پر توجہ دے گی۔ اور طے کرے گی کہ کسی شہری سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد ہوا ہو، اس کے خلاف ملک کے آئینی نظام انصاف کے تحت ہی کارروائی ہونی چاہیے۔

وزیروں کی طرف سے تحریک انصاف پر پابندی اور عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے بیانات اول تو خوف کی فضا پیدا کرنے کے لئے دیے جا رہے ہیں۔ یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ موجودہ حکومت کوئی ایسا انتہائی فیصلہ کر کے اپنی مشکلات اور ملکی مسائل میں اضافہ کرے گی۔ لیکن اگر ایسا کوئی عملی اقدام کیا گیا تو یہ ملک میں آئینی جمہوری نظام پر براہ راست حملہ کے مترادف ہو گا۔ کسی سیاسی لیڈر یا پارٹی کو جبر کے ہتھکنڈوں سے راستے سے ہٹا کر ملک میں جمہوریت عام نہیں ہو سکتی۔ اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی کوئی بھی حکومت جعلی، ناقابل اعتبار اور کمزور ہوگی۔ ان حالات میں سیاست پر فوج کی دسترس مضبوط ہوگی اور سیاسی پارٹیوں کو ٹکڑوں میں بانٹ کر قائم ہونے والی کسی بھی حکومت میں فیصلے کرنے کی سکت نہیں ہوگی اور نہ ہی اسے کوئی اخلاقی برتری حاصل ہو سکے گی۔

نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے چند سال پہلے تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس وقت اسٹبلشمنٹ کو للکارا تھا جب ’پروجیکٹ عمران‘ کا طوطی بولتا تھا اور تمام فوجی قیادت کسی بھی قیمت پر تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کو خاموش کروانے پر تلی ہوئی تھی۔ اس وقت انہوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ اور عوامی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس مقصد کے لئے جد و جہد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب نواز شریف یہ نعرہ کسی بکس میں بند کر کے بھول گئے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ جب خود پر مصیبت آئے تب جمہوری حقوق اور انسانی آزادیوں کی بات کرنا مجبوری ہوتی ہے لیکن اس وقت ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانا ملک کی اہم ترین ضرورت ہے۔

نواز شریف اس نعرے کو نہ بھولیں۔ بلکہ یہ فراموش کر کے میدان میں نکلیں کہ اب ان کی بجائے ان کا سیاسی دشمن، ریاستی فسطائی ہتھکنڈوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ اس وقت ملک کو اسٹبلشمنٹ کے وار سے بچانے، جمہوری روایت مستحکم، اداروں کو مضبوط اور بنیادی حقوق کی ترجیح کے لئے کام کرنے، آواز اٹھانے اور جد و جہد کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی رقابت اس وقت ان اہم جمہوری اصولوں کو بھلا دیا گیا تو نواز شریف کے بعد آنے والی نسل بھی اسی حبس اور سیاسی محرومی میں سانس لے گی جس کا مقابلہ کرنے کے لئے انہوں نے جلاوطنی قبول کی تھی۔بشکریہ ہم سب نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کینیڈا پاکستان ہے کیا؟

(نعیمہ احمد مہجور) سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کی کینیڈا میں پر اسرار قتل کے …