منگل , 3 اکتوبر 2023

سیاست کے بے وفا کھلاڑی

(نسیم شاہد)

عثمان بزدار بھی پریس کانفرنس کرکے تحریک انصاف اور سیاست چھوڑ گئے۔ 2018ءسے پہلے کسی نے عثمان بزدار کا نام نہیں سنا تھا،اُنہیں عمران خان نے دریافت کیا اور سیدھا تونسہ شریف سے اُٹھا کر تخت لاہور پر لا بٹھایا حیرت کا سامان تو اُسی وقت ہو گیا تھا مگر مزید حےرت اس طرح ہوتی رہی کہ پنجاب میں اُن کی ڈھیلی حکومت کے باوجود عمران خان اُن کا دفاع کرتے رہے۔اُنہیں اپنا وسیم اکرم پلس قرار دیا۔ یہ بھی کہا کہ جب عوام عثمان بزدار کے دور کا شہبازشریف دور سے موازنہ کریں گے تو اُنہیں عثمان بزدار کا پلڑا بھاری نظر آئے گا۔ عمران خان نے عثمان بزدار پر جتنا بڑا احسان کیا تھا، اس کا تقاضا تو یہی تھا کہ عثمان بزدار ہر حالت میں عمران خان کا ساتھ دیتے، مگر وہ وزارتِ اعلیٰ سے ہٹنے کے بعد عملی سیاست سے دور ہو گئے تھے اور صرف انٹی کرپشن اور نیب کے ریڈار پر تھے، جہاں اُن کے خلاف کرپشن کی انکوائریاں چل رہی ہیں۔ آج واقعی یہ بات درست ثابت ہو رہی ہے کہ تحریک انصاف کی خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ وفادار اور ثابت قدم ہیں جس تیزی سے تحریک انصاف کے مرد رہنما پریس کانفرنس کر رہے ہیں، اُس سے لگتا ہے کہ یہ چوری کھانے والے طوطے تھے جو ذرا سی سختی بھی برداشت نہیں کر سکے۔

ابھی تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ عمران خان نے عثمان بزدار کو صوبے کی سربراہی کے لئے کیوں منتخب کیا تھا۔ اس حوالے سے مختلف کہانیاں زیرگردش ہیں۔ سب سے مضبوط کہانی یہ ہے کہ وہ ایک کمزور وزیراعلیٰ بنا کے صوبہ پنجاب کو خود چلانا چاہتے تھے۔اگر وہ علیم خان یا چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا دیتے تو انہوں نے من مانی کرنی تھی۔ چودھری پرویز الٰہی کی چند ماہ وزارتِ رہی تو عمران خان کو اندازہ ہو گیا کہ عثمان بزدار اور چودھری پرویز الٰہی میں بہت فرق ہے۔ اس لئے انہوں نے اسمبلی توڑنے پر زور دیا۔ آج یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ عثمان بزدار اپنے دوستوں کی محفل میں کہتے ہیں کہ سارے اختیارات فرح گوگی اور بشریٰ بی بی کے پاس تھے۔ میں تو صرف حکم جاری کرتا تھا۔ یہ وہ درست کہتے ہیں کیونکہ ان کا انتخاب کیا ہی اسی لئے گیا تھاکہ وہ مٹی کا مادھو بن کر وزارتِ اعلیٰ پر بیٹھیں گے۔ عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے وہ 14ماہ سے سیاست میں حصہ نہیں لے رہے تھے،۔ اس لئے سیاست سے دستبردار ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ کپتان نے جب سے زمان پارک کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہوا ہے، عثمان بزدار وہاں جانے سے کنی کتراتے رہے حالانکہ انہیں آگے آگے ہونا چاہیے تھا۔ عثمان بزدار کا بطور وزیراعلیٰ انتخاب اکثر لوگوں کے لئے ابھی تک جہانِ حیرت ہے۔ عثمان بزدار نے بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا۔ ان کے بہت سے دوست ملتان میں مقیم ہیں اور صحافت سے بھی تعلق ہے۔جب 2018ءکے انتخابات میں عثمان بزدار ایم پی اے منتخب ہوئے تو انہوں نے ملتان میں اپنے دوستوں سے کہا وہ خبریں شائع کریں کہ تونسہ سے ایک نوجوان کو کابینہ میں شامل کیا جائے۔ ایک عام وزیر بننے کی خواہش رکھنے والے عثمان بزدار کی جب وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے لاٹری نکل آئی تو اُن کے وارے نیارے ہو گئے۔ چاہیے تو یہ تھا وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے اور صوبے کو ایک اچھی گورننس دینے کی کوشش کرتے، مگر ایک تو صلاحیت کے فقدان اور دوسرا عمران خان کے دباﺅ نیز ان کرداروں کی وجہ سے جو ان پر مسلط کر دیئے گئے تھے، عثمان بزدار ایک کٹھ پتلی بن گئے۔ ان کے اس کردار پر عمران خان خوش تھے اس لئے ان کا دفاع بھی کرتے رہے۔ تحریک انصاف دور کی ناکامیوں میں اگر کسی کا بڑا کردار رہا تو وہ پنجاب حکومت تھی جس میں آئی جیز اور چیف سیکرٹریز اس طرح بدلے گئے جیسے کوئی لباس ہوتا ہے۔ افسروں کے تبادلے ایسے ہوتے رہے جیسے پت جھڑ میں پتے جھڑتے ہیں۔ عمران خان نے محبت میں عثمان بزدار سے ایسا تو نہیں کیاکیونکہ 2018ءکے انتخابات سے پہلے عمران خان کی عثمان بزدار سے شناسائی تک نہیں تھی، اس کے پس پردہ کچھ مقاصد تھے جن کی وجہ سے عمران خان نے عثمان بزدار کے معاملے میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی بھی مخالفت مول لی۔ یعنی عمران خان ڈٹ کر عثمان بزدار کے پیچھے کھڑے تھے مگر یہی عثمان بزدار چند دن بھی عمران خان کے ساتھ نہ کھڑا ہو سکا۔

آج عمران خان کو ایک مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ انہیں سب چھوڑ کر جا رہے ہیں جنہیں انہوں نے گورنر بنایا، وزیراعلیٰ اور وزیر بنا کے مناصب دیئے، وہ باد مخالف کا ایک تھپیڑا برداشت نہ کر سکے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ ملک میں پہلی بار پریس کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے تو اسے یہ بھی کہنا چاہیے کہ پریس کانفرنسیں کرنے والے بھی بڑی تعداد میں از خود سامنے آ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی پربھی دور ابتلا آتے رہے ہیں۔ ان کے رہنماﺅںنے بھی گرفتاریاں دی ہیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں، یقینا انہیں بھی یہ پیشکش ہوتی ہوں گی کہ وہ اپنی جماعت کو چھوڑ دیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا مگر وہ نہ مانے، یہ تحریک انصاف ہی کا خاصا کیوں بن گیا ہے کہ کوئی گرفتاری سے بچنے اور کوئی جیل سے رہا ہونے کے لئے پریس کانفرنس کرنے کو تیار ہے، اس میں کہیں نہ کہیں تو کمی یا خرابی ضرور ہے۔ آج عمران خان کو کہنا پڑ رہا ہے کہ جو لوگ خوفزدہ ہو کر پارٹی چھوڑ رہے ہیں ان سے انہیں کوئی شکوہ نہیں، پارٹی کارکن بھی انہیں بُرا نہ کہیں، یہ ان کی اعلیٰ ظرفی اور کشادہ دلی ہے لیکن انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ انہوں نے کیسے کیسے مفاد پرستوں کو اپنی پارٹی میں اعلیٰ مناصب دے رکھے تھے۔ سیاست میں سختیاں تو آتی ہی ہیں، یہ تو پھول اور کانٹوں کا کھیل ہے صرف پھولوں کے لئے سیاست کرنے والے سیاستدان نہیں فصلی بٹیرے ہوتے ہیں۔ عثمان بزدار کے لئے انہوں نے سارے جہان سے لڑائی مول لی، اپنی پارٹی کے اندر گروپ بندی کی بنیاد رکھی۔ پنجاب میں جب ساری دنیا کہہ رہی تھی کہ بُری گورننس ہے تو عمران خان جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں عثمان بزدار کا دفاع کرتے رہے۔ ماضی میں کوئی جماعت اتنی تیزی سے تتر بتر نہیں ہوئی جتنی تیزی سے تحریک انصاف کی شکست و ریخت جاری ہے۔ اب کپتان کی خوش گمانی یہ ہے کہ وہ جسے ٹکٹ دیں گے وہ کامیاب ہو جائے گا۔ خیر تو مستقبل کی پیش گوئی ہے، اس وقت جو تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے اور جس میں چند خواتین اور خیبرپختونخوا کے چند رہنماﺅں کے سوا جس طرح کل تک وزارتوں اور اقتدار کے مزے لوٹنے والے اور عمران خان کے ساتھ مرتے دم تک ساتھ رہنے کے دعویدار پریس کانفرنسیں کرکے اپنی جانیں بچا رہے ہیں اُس سے لگتا ہے عمران خان نے کم از کم اپنی پارٹی کا نظریہ ان لوگوں کے ذہن میں نہیں اتارا تھا۔ ویسے تو ہر شخص اقتدار ملنے کے بعد اپنی مرضی کے فیصلے کرتا ہے تاہم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد ایسے فیصلے کئے جن سے ان کی انا کو تو تسکین ملی ہو گی لیکن بحیثیت حکمران انہیں ایسے لوگوں کے انتخاب سے نقصانات ہی ہوئے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے والے گرفتاری کے خوف زدہ سے ہیں بلکہ اس کرپشن کو بچانے کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں جو انہوں نے تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دورِ اقتدار میں کی ہے۔ بہرحال کسی نے کیا خوب کہا ہے اس مشکل دور میں سب کا چھوڑ جانا بنتا تھا مگر عثمان بزدار کا اپنے کپتان کو چھوڑنا بے وفائی کی ایک ایسی شرمناک داستان کے زمرے میں آتا ہے جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیا نگران حکومت فلسطین پالسی پر یو ٹرن لے رہی ہے؟

(تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم) گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس جاری تھا، اس …