جمعرات , 7 دسمبر 2023

غزہ میں سسکتی انسانیت اور بے حس مسلم حکمران

(تحریر: سید منیر حسین گیلانی)

کرہ ارض پر بڑھتی ہوئی مشکلات اور جاری خونیں جنگیں، یوں لگتا ہے کہ انسان کی تباہی قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔ تقریباً آج سے اڑھائی سال پہلے روس اور یوکرائن کی نہ ختم ہونیوالی جنگ اور اس میں انسانیت کا قتل، ایک کھیل بنتا ہوا نظر آرہا تھا۔ اس کھیل میں اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت کا نہ صرف مظاہرہ کیا، بلکہ عالمی بندشوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری میں نمایاں مقام بھی حاصل کیا، جس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن میں اپنے ذہن کے کسی بھی گوشے سے پردہ اٹھاوں تو منظر مجھے یاد دلاتا ہے کہ روس اور یوکرائن کی جنگ، جس میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دیگر یورپی اور نیٹو ممالک حصہ بن گئے تھے، اس وقت بھی راقم الحروف نے پیشین گوئی کی تھی کہ اب ایک اور بڑی جنگ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سر پر آن کھڑی ہے، جس میں ایران، روس، چین، کوریا اور دیگر ممالک کی یہ خواہش تھی کہ امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیلا جائے، تاکہ اس کی معاشی و دفاعی قوت کمزور اور جدید ٹیکنالوجی کو نقصان پہنچایا جائے۔

میرا آج کا موضوع اسرائیل فلسطین جنگ اور خاص طور پر فلسطین کا وہ حصہ جسے غزہ کی پٹی کہا جاتا ہے، اس پر کچھ کہنے کی کوشش ہے۔ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے خوف کے بت کو توڑ دیا اور ایک بڑا حملہ کرکے دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔ یہ حملہ اتنا خوفناک تھا کہ اسرائیل کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ حماس کے مجاہدین نے اسرائیل میں گھس کر ایک دن میں سینکڑوں صیہونی واصل جہنم کئے۔ اس کے دو تین دن بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حماس کو ختم کرنے کے ہدف سے بے دریغ اور ظالمانہ حملے کیا۔ جس میں غزہ کے اوپر بمباری کی وجہ سے کافی جانی اور مالی نقصان ہوا، لیکن حماس کے مجاہدین نے اسرائیل کو اتنا مجبور کیا کہ اسے امریکہ برطانیہ اور یورپی ممالک سے ہر قسم کی مدد مانگنا پڑی۔ امریکہ نے فوری طور پر اسرائیل کی حالت کو دیکھتے ہوئے جنگی جہازوں سے لیس بحری بیڑا، غاصب صیہونی ریاست کی بحری حدود میں لا کھڑا کیا۔ اس بحری بیڑے میں نہ صرف سیکڑوں ایئر کرافٹ اور جدید میزائل سسٹم شامل ہے، بلکہ انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز بھی اسرائیل میں اتار دیئے ہیں۔

میں سلام پیش کرتا ہوں غزہ کے مجاہدین کو، جنہوں نے کسی قسم کا خوف اور کمزوری نہیں دکھائی اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ یقیناً اسرائیل کے فضائی حملوں سے غزہ میں عمارتیں اور جانی نقصان دیکھنے میں آیا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آزادی قربانی کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ دوسری طرف مسلمان عرب ممالک نے اپنے اجلاس بلائے اور فلسطین کے مسئلے پر حماس کی حمایت میں قراردادیں منظور کیں۔ اسی دوران غزہ میں خوراک کی قلت بھی ہوگئی۔ ہسپتال ادویات سے خالی ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کو بجلی، پانی، گیس اور خوراک کی فراہمی کو بند کر دیا ہے۔ لیکن افسوس کسی بھی عرب ملک نے عملی طور پر حماس کے مجاہدین کی مدد نہیں کی، لیکن پھر مجھے دوبارہ مجاہدین کے حوصلہ کو سلام پیش کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ آج بھی بڑی بہادری سے میدان میں موجود ہیں اور شہادت کو سینے سے لگانے کیلئے اسرائیل کے اندرونی علاقوں میں بھرپور حملے کر رہے ہیں۔ اس جنگ کا اختتام میں نہیں سمجھتا کہ مذاکرات کی میز پر ہوگا۔ یقیناً فلسطینیوں کے حقوق اور خطے میں امن، بیت المقدس کی آزادی سے مشروط ہیں۔

مجھے دکھ ہوتا ہے کہ عرب حکمران، جو فلسطین کی آزادی کی زبانی حمایت تو کرتے ہیں، انہوں نے عملی اقدامات کیلئے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ گذشتہ چند دن پہلے قاہرہ میں عرب ممالک کی کانفرنس میں بھی ”نشستند، گفتند اور برخاستند“ کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ مجاہدین کی حمایت کیلئے جو بڑی قوت نظر آرہی ہے، وہ لبنان کی حزب اللہ، شام اور عراق کے مجاہدین اور یمن کے حوثی بہادر قبائل پر مشتمل "انصار اللہ” عملی اقدامات اٹھا کر ثابت کر رہے ہیں کہ وہ فلسطین کی آزادی تک حماس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر امریکی مسلح افواج کا مقابلہ کریں گے۔ امریکہ کا خوف پوری دنیا میں پایا جاتا ہے، حوثی مجاہدین نے اس خوف کو ختم کرنے کیلئے امریکی بحری بیڑے پر حملے کئے۔ اس وقت عرب ممالک اور لفظی طور پر فلسطین کی حمایت کرنیوالے دیگر ممالک نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جبکہ امریکہ اور برطانیہ کے مقابلے میں چین اور روس نے بھی امریکی بحری بیڑے کے قریب اپنے ایئر کرافٹ کیریئر لاکھڑے کئے ہیں۔ روس کے جدید ترین جنگی جہاز امریکی بحری بیڑے کے اوپر فضائی گشت کرتے بھی دکھائی دیئے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ جنگ بے نتیجہ نہیں ہوگی بلکہ اس میں ان شاءاللہ 1967ء کی جنگ میں جو علاقے عرب ممالک گنوا بیٹھے تھے، وہ بھی واپس ہوں گے۔ اس حوالے سے ایران کی فلسطین کیلئے حمایت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ یہ بات تو واضح ہے کہ ایران کے حماس سے تعاون کے بغیر یہ جنگ لڑی نہیں جا سکتی تھی، بلکہ ایران اپنا سیاسی اثر و رسوخ جہاں فلسطین کیلئے استعمال کر رہا ہے، اسی طرح وہ حزب اللہ، شام، عراق اور یمنی قبائل کی تنظیم "انصاراللہ” کی عسکری مدد بھی کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای ہر وقت فلسطین پر مسلط کردہ جنگ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ لاکھوں ایرانی جاں نثار فلسطین کی جنگ میں شریک ہونے کیلئے تیار ہیں۔ البتہ میں شرمندہ ہوں کہ ہمارے ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک پاکستان کے عوام تو حماس کے مجاہدین کیساتھ مل کر جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا جذبہ رکھتے ہیں، لیکن ہمارے حکمران بے حس اور خاموش ہیں۔ البتہ ہماری دفاعی فورسز حالات کا تجزیہ کرنے کیلئے کبھی کبھار اجلاس کرکے کہتے ہیں کہ ہم فلسطین کے معاملے میں لمحہ بہ لمحہ آگاہ ہیں اور صیہونی قوت اسرائیل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، لیکن عملی اقدام کا کوئی وجود نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ امت مسلمہ کی حمایت، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی مدد کرنی چاہیئے۔ اس حوالے سے ایران کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر مسلم ملک کو فلسطین کا بھرپور ساتھ دینا چاہیئے۔ حماس کے مجاہدین نے ظالم ملک اسرائیل پر حملہ کرکے بڑی قربانی دی ہے۔ اسی طرح غزہ کے مسلمانوں نے بڑی قربانی دی ہے۔ اب ان قربانیوں کو ضائع نہیں جانا چاہیئے۔ اس کی عملی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ عرب ممالک اپنا پیسہ، اسلحہ افرادی اور فوجی قوت فلسطین کی مجاہدین کیساتھ لگا دیں۔ جیسے برطانیہ امریکہ اور دیگر ممالک اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔ اسی انداز سے عرب مسلم ممالک بھی فلسطین کی مدد کریں گے تو بیت المقدس آزاد ہوگا، ورنہ پچھتاوے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ورنہ جس انداز سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اس نے فلسطین کو نشان عبرت بنا دینا ہے، یہ بھی امتحان مسلم حکمرانوں کا ہے کہ ان کی غیرت ایمانی کب جاگتی ہے۔؟بشکریہ ایکسپریس نیوز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …