ہفتہ , 2 دسمبر 2023

غزہ میں معجزہ

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ آپ جہاں رہتے ہوں، وہاں چند مربع کلومیٹر کے رقبے والی جیل میں 22 دن تک مسلسل بمباری ہو رہی ہو۔ ہر لمحے کسی عزیز اور پیارے کے خاک و خون میں غلطاں ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہوں۔انسانی تاریخ میں شاید دنیا کا کوئی مقام اس حدود اربعہ کے ساتھ اس طرح کے مسلسل وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا ہو۔ اس مقام کا نام غزہ ہے۔ اس غزہ کے لوگ نہ مصر کی طرف بھاگے اور نہ ہی سمندر کی طرف بلکہ اپنے گھروں میں ہی رہے، مقاوم اور پائیدار۔ اپنے پورے قد کے ساتھ کسی اور جغرافیہ میں ان بم دھماکوں کا سوواں حصہ حکومتوں کا تختہ الٹ دیتا اور لاکھوں لوگوں کو ہجرت پر مجبور کر دیتا۔ یہ ایسے عالم میں ہے، جب غزہ اکیلا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں "اسرائیل” اپنی بے پناہ فوجی طاقت اور تباہ کن تباہی کی طاقت کے ساتھ، دنیا کی سپر پاور امریکہ کی حمایت کا بھی حامل ہے۔ فرانس، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بھی ہر طرح کی مدد کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔درحقیقت یہ امریکہ ہی ہے، جو اس جنگ کو آگئے بڑھا رہا ہے۔

ایک ہندوستانی تجزیہ کار کے بقول مزاحمتی فورسز کی آپریشنل اور اسٹریٹیجک کامیابی سے سراسیمہ صیہونی حکومت غزہ کے بچوں اور عورتوں پر اپنا غصہ نکال رہی ہے اور اپنی "مشہور بہادری” کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس سے مغربی رہنماؤں کا اصلی چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا، جو اپنی اپنی حکومتوں میں صیہونیوں کے مفادات کی پاسبانی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسلامی دنیا کے ان عمائدین کے چہرے سے بھی نقاب ہٹ گئی، جو باتیں تو خوب کرتے ہیں لیکن عمل کی باری آئے تو ناپید ہو جاتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اسی طرح دوسروں نے بھی صیہونیوں کو قانون سے بے خوف ہوکر شہریوں کے قتل کی جو کھلی چھوٹ دی ہے، وہ دنیا کی یادداشت میں درج ہوگئی ہے۔ غزہ کے خلاف عالمی جنگ جاری ہے، لیکن غزہ اب بھی پورے قد کے ساتھ کھڑا ہے۔

الفاظ کا اگر صحیح استعمال نہ کیا جائے یا اگر ان کا استعمال اس کے حقیقی معانی سے ہٹ کر کیا جائے تو وہ "دقیانوسی تصورات” بن جاتے ہیں اور اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔ آج کل میڈیا میں ہمارے سامنے چند الفاظ تسلسل سے آرہے ہیں۔ ان الفاظ میں سے ایک لفظ مزاحمت، مقاومت یا استقامت ہے۔ ایک ایسی قوم جس کی آبادی صرف غزہ میں 20 لاکھ سے زیادہ ہے اور اس پر روزانہ بمباری کی جاتی ہے، لیکن ان کی زبان سے کسی نے آج تک مزاحمت یا حماس یا اسلامی جہاد کے خلاف ایک لفظ بھی تنقید یا شکایت کا جملہ نہیں سنا۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو مغربی میڈیا اب تک اسے عام کر چکا ہوتا اور اپنے متعصب میڈیا کے ذریعے اسے وائرل کرچکا ہوتا۔

غاصب صیہونی حکومت، فلسطینی عوام یہاں تک کہ عورتوں اور ننھے اور معصوم بچوں تک کا خون بہا رہی ہے، جبکہ اس نے غزہ کی بجلی، پانی منقطع کرکے اور غذائی اشیاء اور امداد رسانی روک کر وحشیانہ ترین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ ایسے میں ہے کہ غزہ میں اسپتالوں اور بنیادی تنصیبات تک کو بمباری کرکے اس نے تباہ کر دیا ہے۔ اس تکلیف دہ صورت حال میں غزہ کے عوام کی استقامت ناقابل فراموش ہے۔ مثال کے طور پر ایک نو عمر لڑکی جو عام طور پر معمولی مصیبت میں بھی چیخ و پکار کرتی ہے یا ایک ماں جو اپنے شیر خوار بچے کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتا ہوا دیکھ کر جذبات میں آکر کچھ بھی کہہ سکتی ہے، لیکن کسی مغربی یا صیہونی نے گذشتہ 22 دنوں میں ایسی کوئی ویڈیو یا آڈیو سامنے نہیں رکھی، جس میں غزہ کے متاثرین میں سے ایک بھی حماس، مزاحمت یا مقاومت کو کوس رہا ہو بلکہ شدید بمباری اور بم دھماکوں میں صرف ایک جملہ سننے کو ملتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے لئے ہمارا سب کچھ قربان، فلسطین کے لئے سب کچھ قربان۔

اس جذبہ کے پس پردہ کیا سماجی، اجتماعی تعلیمی اور ثقافتی کام ہے، نسل در نسل یہ عزم بالجزم کیوں ہوتا جا رہا ہے۔؟! کیا ہم غزہ میں کوئی معجزہ دیکھیں گے؟ وہ معجزہ جو ہم نے 7 اکتوبر کو دیکھا اور اس نے صیہونی حکومت کی شان اور دبدبے کو کچل دیا، لیکن اس معجزے کا دوسرا مظہر وہ ہے، جو ہم اس مثالی مزاحمت میں، اس بے مثال قربانی میں اور اس صبر اور ہمت میں دیکھ رہے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے غزہ کے مظلوم عوام کے صبر و توکل کی داد دیتے ہوئے ان کے صبر و استقامت کے بعض مناظر اور نمونوں کا ذکر کیا۔ آپ نے کہا کہ جو باپ اپنے فرزند کی شہادت کے بعد اللہ کی حمد کرے، جو والدین اپنے شہید فرزند کو فلسطین کو ہدیہ کر دیں، وہ نوجوان جو زخمی ہوکر قرآن کی آیتوں کی تلاوت کرے۔

اسی طرح دیگر مناظر غزہ کے عوام کے بے پناہ صبر و توکل کے ایک گوشے کو بیان کرتے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے جنگ غزہ میں اہل غزہ اور اسلامی استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو کچھ غزہ میں رونما ہوا، وہ کسی معجزے کی مانند تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کا صبر و تحمل بہت اہم اور فلسطینیوں کو جھکانے میں دشمن کی ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ یہی صبر و توکل غزہ کے عوام کا مددگار بنے گا اور آخرکار وہی فاتح ہوں گے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …