ہفتہ , 2 دسمبر 2023

غزہ میں نہتے شہریوں کا قتل عام ناقابل قبول ہے:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے غزہ میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ’اونروا‘ کے دو اسکولوں کو نشانہ بنائے جانے پر شدید صدمے کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی اسکولوں میں موجود بے گھر افراد پر بمباری میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ گوتیریس نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی عمارتوں کے تقدس کا خیال رکھا جائے اور ان پر حملے نہ کیے جائیں۔

گوتیریس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد "حیران کن اور ناقابل قبول” ہے۔انہوں نے انسانی وجوہات کی بنا پر فوری جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ سے شہریوں کی ہلاکتوں کی ہولناک تعداد ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ یاد رہے کہ درجنوں فلسطینی، جن میں سے اکثر خواتین اور بچے ہیں، غزہ میں اقوام متحدہ کی تنصیبات میں پناہ لینے کے دوران اسرائیلی بمباری سے شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

ایک متعلقہ سیاق و سباق میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی میں حالیہ دنوں میں تشدد کی سطح ناقابلِ فہم ہے۔ اسکولوں پر حملوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد اور ایک ہسپتال "ڈیتھ زون” میں تبدیل ہو گیا ہے۔

ولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جو ہولناک واقعات رونما ہوئے ہیں وہ تصور سے باہر ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ "اسکولوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا قتل جو پناہ گاہیں بن چکے ہیں، اور سیکڑوں لوگوں کا الشفاء ہسپتال سے اپنی جان بچا کر بھاگنا اور بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ولکر ترک نے میڈیا کو اقوام متحدہ کے الفاخورہ اسکول پربمباری کے بعد تباہی کی لی گئی تصاویر دکھائیں اورانہیں ’ہولناک‘قرار دیا۔

 

یہ بھی دیکھیں

عمران خان نے تحریک انصاف کے کسی بڑے سیاسی رہنما کے بجائے ایک وکیل کو نگراں چیئرمین کیوں نامزد کیا؟

(ثنا ڈار) ’میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک …