جمعہ , 23 فروری 2024

چوہدری سرور پی ٹی آئی میں دوبارہ شمولیت کے خواہشمند

لندن: پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل-ق) کے چیف آرگنائزر، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اور پنجاب کے سابق گورنر چوہدری محمد سرور ایک بار پھر پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک کامیابی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

چوہدری سرور نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کیلئے بھی مذاکرات کئے تاہم نواز شریف نے انکار کردیا کیونکہ2014میں عمران خان اور قادری کے ناکام دھرنے کے وقت وہ ن لیے چھوڑ کر چلے گئے تھے.

چوہدری محمد سرور نے رواں سال مارچ میں پی ایم ایل کیو میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں پی ایم ایل کیو کا چیف آرگنائزر بنایا گیا تھا لیکن وہ گزشتہ کئی ماہ سے اسکاٹ لینڈ میں مقیم ہیں، انہوں نے پی ایم ایل کیو کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔

دو قابل اعتماد ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے سرور اسکاٹ لینڈ سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ کر رہے ہیں اور پی ٹی آئی میں واپسی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ سرور نے پارٹی رہنماؤں سے رابطہ کرکے دوبارہ شمولیت کی پیشکش کی تھی لیکن پارٹی نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔

چودھری سرور کو دوبارہ شمولیت کی اجازت دینے والا واحد شخص عمران خان ہے لیکن انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ان درجنوں رہنماؤں کو معاف نہیں کریں گے اور نہیں بھولیں گے جنہوں نے مشکل وقت میں انہیں مایوس کیا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف لابنگ کرنے والے قابل قبول نہیں۔ سرور کے قریبی ذرائع نے کہا کہ چوہدری سرور دوبارہ پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خاندان کے افراد فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کھڑے ہونا چاہتے ہیں، پی ایم ایل این کی صفوں میں کوئی سیٹ خالی نہیں ہے اور کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسکاٹش لیبر لیڈر، سرور کے بیٹے، انس کا بھی گلاسگو میں الیکشن ہونے والا ہے اور مقامی حلقے میں پاکستانی ووٹوں کی کافی تعداد ہے۔ جب ان سے پی ٹی آئی میں دوبارہ شمولیت کی کوششوں کے بارے میں پوچھا گیا تو سرور نے ترید نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ تمام آپشنز دستیاب ہیں، مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے، ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، جلد ہی حتمی فیصلہ کروں گا۔ایک اور باخبر ذرائع نے بتایا کہ اب تک پی ٹی آئی نے اس پیشکش میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے، پاکستان میں پی ٹی آئی کو جن حالات کا سامنا ہے اس پر غور کرنے کا وقت نہیں ہے۔

رواں سال مارچ میں سرور نے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی موجودگی میں اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

دسمبر 2021 میں سرور نے یہ کہہ کر عمران خان کی حکومت پر تنقید کی تھی کہ پی ٹی آئی حکومت نے سب کچھ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے کر دیا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

عمران خان نے تحریک انصاف کے کسی بڑے سیاسی رہنما کے بجائے ایک وکیل کو نگراں چیئرمین کیوں نامزد کیا؟

(ثنا ڈار) ’میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک …