پیر , 26 فروری 2024

بلّے کا نشان پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات سے مشروط، چیلنجز کیا ہیں؟

(فرحان خان)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو آئندہ عام انتخابات میں بلے کا نشان حاصل کرنے کے لیے 20 روز میں پارٹی الیکشن کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کو متنازع قرار دے کر دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے جمعے کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی 20 دن میں انتخابات کروا کے آئندہ سات دنوں میں رپورٹ جمع کرائے۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد سیاسی منظرنامے پر یہ بحث ہو رہی ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان دوبارہ پارٹی انتخابات میں اسی عہدے کے لیے اپنا نام پیش کر سکتے ہیں یا نہیں؟
یہ سوال بھی زیرِبحث ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت منظر پر موجود نہیں ہے۔ انٹرا پارٹی انتخابات اتنے مختصر دورانی میں کیونکر ممکن ہو سکیں گے؟

تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر بیرسڑ علی ظفر کے ایک بیان نے بھی کچھ خدشات کو تقویت دی ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے جمعے کی شام نجی ٹیلی وژن ’جیو نیوز‘ کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ’شاید عمران خان پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کا الیکشن نہ لڑ سکیں۔‘

علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ ’الیکشن کمیشن کے فیصلے کو دباؤ میں تبدیل کیا گیا ہے۔‘سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عام ووٹر لیڈر کے نام پر ووٹ دیتے ہیں، وہ پارٹی عہدوں کی باریکیوں پر زیادہ غور نہیں کرتے۔اس لیے عمران خان کےچیئرمین کے عہدے پر ہونے یا نہ ہونے کا کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

سینیئر تجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر کہا کہ ’بظاہر جو حالات ہیں، ان میں پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن اتنے محدود دورانیے میں ہونا مشکل لگتا ہے۔‘

’اس وقت پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، صدر پرویز الٰہی جیل میں ہیں جبکہ سیکریٹری جنرل عمر ایوب منظر سے غائب ہیں۔‘عمران خان پارٹی الیکشن میں چیئرمین کے عہدے کے لیے خود کو پیش کر سکیں گے؟ اس سوال کے جواب میں ارشاد عارف کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو ایک مقدمے (توشہ خانہ کیس) میں سزا تو ہوئی ہے۔‘

’گو کہ وہ سزا معطل ہے لیکن غالباً سزا معطل ہونے سے ملزم رہا ہو جاتا ہے لیکن جرم کو باقی تصوّر کیا جاتا ہے۔ شاید اس بنیاد پر عمران خان کو باہر رکھا جا سکے گا۔‘ارشاد عارف نے عام انتخابات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’دیکھیں عمران خان اگر چیئرمین کے عہدے پر نہ بھی ہوں تو ان کے ووٹرز ان ہی کے نام پر ووٹ ڈالیں گے

سنہ 2018 میں نواز شریف جیل میں تھے، اس وقت بھی پنجاب میں مسلم لیگ ن نے اچھی خاصی نشستیں حاصل کر لی تھیں۔’ہاں اگر گراؤنڈ پر پی ٹی آئی کے امیدوار ہی نہ ہوئے تو اور بات ہے۔‘

’پی ٹی آئی عدالت سے ریلیف لے سکتی ہے‘
اگر پارٹی الیکشن میں تنازعات جنم لیتے ہیں تو پی ٹی آئی کے پاس کیا آپشن ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اگر الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کو غیرشفاف قرار دے گا تو پارٹی کے پاس عدالتی چارہ جوئی کا حق محفوظ رہے گا۔ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر بھی لے سکتی ہے۔‘

انتخابی سیاست پر نگاہ رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار احمد اعجاز نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تک تو عمران خان چیئرمین ہیں اور پی ٹی آئی کے پاس بلے کا نشان ہے۔ عمران خان کو ابھی تک کسی بھی فیصلے میں سیاست کے لیے نااہل قرار نہیں دیا گیا۔‘

’اس لیے میرے خیال میں عمران خان پارٹی الیکشن میں چیئرمین کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ جب تک انہیں کسی فیصلے میں نااہل نہیں قرار دیا جاتا اس وقت تک پارٹی کی قیادت کرنے میں انہیں کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق ’ایک پہلو یہ بھی یہ ہے کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن میں بڑے تنازعات رہے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے تحفظات ہمارے سامنے ہیں۔تسنیم نورانی والا معاملہ بھی ہم جانتے ہیں۔‘

’تکنیکی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں‘
احمد اعجاز کے مطابق ’اس وقت تحریک انصاف کی صفِ اول کی قیادت جیلوں میں ہے یا منظر سے غائب ہے۔ ان حالات میں اگر پارٹی الیکشن میں تنازعات سر اُٹھاتے ہیں تو اُن کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے لیے کچھ تکنیکی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 20 دن میں یہ تنازعات کیسے ختم کیے جا سکیں گے؟‘’پی ٹی آئی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ تاخیر سے آںے کے بارے میں پی ٹی آئی کی تشویش قابلِ توجہ ہے۔ کیونکہ اگر الیکشن اتنے قریب ہیں تو یہ فیصلہ چند ماہ قبل آنا چاہیے تھا۔‘

کیا مائنس عمران خان پی ٹی آئی سیاسی منظرنامہ بدل پائے گی؟ اس سوال کے جواب میں احمد اعجاز کا کہنا تھا کہ ’بالفرض اگر عمران خان پی ٹی آئی کے چیئرمین نہیں بھی رہتے تو میرے خیال میں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔‘
’پی ٹی آئی کے حامی ووٹرز عمران خان کے نام پر ووٹ دیں گے۔ چیئرمین کے عہدے پر کوئی بھی ہو، یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔‘

’پی ٹی آئی نے اپنا آئین خود معطل کیا‘
سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف دراصل خود تکنیکی طور پر پھنس چکی ہے۔ ’عمران خان نے اپنے دور حکومت میں پارٹی کا آئین خود معطل کیا تھا تاکہ کچھ عہدے داروں کو نکالا جائے۔‘
’اس کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں کئی بار پارٹی انتخابات کرانے کو کہا لیکن الیکشن نہیں کروائے گئے۔‘
’سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں‘

سلمان غنی نے کہا کہ ’پاکستان میں جمہوریت کے مستحکم نہ ہونے کی بڑی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں عام انتخابات میں تو شفافیت کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن خود اپنی جماعتوں کے اندر یہ جمہوریت نہیں چاہتیں۔‘’اس وقت عمران خان یا ان کی جماعت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے۔ ماضی قریب میں یہی نواز شریف کے ساتھ ہو چکا ہے۔‘

’نواز شریف کو نہ صرف عدالتی فیصلوں کے ذریعے نااہل قرار دیا گیا بلکہ اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی سے بھی روک دیا گیا تھا۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اس سب کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو ایسی صورت حال میں غیرمتعلق نہیں کیا جا سکتا۔‘’عمران خان ہوں یا نواز شریف، پارٹی کے عہدے ہونے یا نہ ہونے سے اِن کی سیاسی حیثیت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘بشکریہ اردو نیوز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …