جمعرات , 22 فروری 2024

سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا، عدالت کا فیصلہ

راولپنڈی:جیل حکام نے سنجیدہ سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کو سائفر کیس میں عدالت پیش کرنے سے انکار کر دیا، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر، ایف آئی اے پراسیکیوٹر شاہ خاور اور ذوالفقار عباس عدالت میں پیش ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی بھی عدالت پہنچیں۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج دو مختلف معاملات عدالت میں ہیں، امید تھی چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کریں گے لیکن نہیں کیا گیا، یہ ریکارڈ کیس ہے اتنی رفتار سے کبھی کیس نہیں چلا ۔اس دوران جج ابوالحسنات نے عدالتی عملے کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

جیل حکام کی چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے سے معذرت

دوران سماعت جیل حکام نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی سے متعلق رپورٹ پیش کی جس کا جج نے جائزہ لیا اور کہا کہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ چیئرمین کو پیش نہیں کرسکتے، اسلام آباد پولیس کو اضافی سکیورٹی کیلئے خط لکھا اور بتایا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کو سکیورٹی خدشات ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کےساتھ منسلک کی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے، جیل حکام ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا نظر انداز نہیں کر سکتے، جیل سماعت کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سلمان صفدر نے استدعا کی کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہیں تو اس کیس پر سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی جائے، جیل میں کیس نہیں چل سکتا تو یہاں بھی یہ چلانا نہیں چاہ رہے پھر ملزمان کو ضمانت دے دی جائے۔

شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا

دریں اثنا شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کیا، انہوں نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کا لیٹر ایف آئی اے پراسیکیوٹر شاہ خاور نے خود پڑھا ہے، شاہ محمود قریشی کو کیوں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا؟

علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ملزمان کی پروڈکشن کروانا عدالت کی ذمہ داری ہے، اگر عدالتی احکامات نہیں مانے جاتے تو سرکاری ملازم کو جیل میں بھیجنے کا اختیار آپ کے پاس ہے۔

شاہ محمود قریشی کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جج ابولحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ عدالت مناسب آرڈر کرے گی، کیا عدالت نے ملزمان کو طلب کیا تھا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ آپ نے ملزمان کو طلب کیا تھا۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے، عدالت میں جیل حکام نے دستاویزی شواہد کے ساتھ بتایا کہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کر سکتے۔

جج ابولحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو فرق نہیں پڑتا کہاں ٹرائل ہوگا، عدالت چاہتی ہے کہ جو ٹرائل کو دیکھنا چاہے اس کیلئے کیا کریں گے، سیکشن 352 کا اطلاق کرنا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

علی بخاری نے استفسار کیا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی خط و کتابت نہیں، اُن کو پیش کیوں نہیں کیا گیا؟

سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے استفسار کیا کہ یہاں کون سا ایسا واقعہ ہوا جس سے کہیں کوئی تھریٹ ہے، روزانہ اڈیالہ جیل سے دہشتگردوں کو لایا جاتا ہے، اب یا تو پیش کیا جائے یا ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے پر متعلقہ آئی جی کو طلب کیا جانا چاہیے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر کا کام نہیں ہے کہ وضاحتیں دیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان خط و کتابت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

دریں اثنا عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا۔واضح رہے کہ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

رحیم یار خان : دو قبیلوں میں تصادم کے دوران آٹھ افراد جاں بحق

رحیم یار خان:رحیم یار خان کے نزدیک کچھ ماچھک میں دو قبیلوں میں تصادم کے …