جمعہ , 23 فروری 2024

سوشل میڈیا پر بھکاری مافیا

(تحریر: تبسم فاطمہ)

میرا تعلق ملتان سے ہے۔ مجھے اپنے ملک خصوصاً ملتان میں فراڈ اور ٹھگ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ اب تو ایک عرصہ ہوا کہ فرانس سے پاکستان واپس جانا نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر دیکھتی رہتی ہوں کہ لوگوں نے اسلام کے نام پر بھیک مانگنے، جادو نکالنے، حساب کتاب دیکھنے، جنت کے گھر بیچنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے۔ بھکاری مافیا میں بچے، بوڑھے، خواتین اور جوان الغرض ہر صنف اور ہر گروہ کے لوگ شامل ہیں۔ میں راہِ حل بھی بتاوں گی اور یہ نہیں کہتی کہ آپ کسی کی مدد نہ کریں بلکہ میں یہ کہتی ہوں کہ اب سوشل میڈیا پر ٹھگوں اور فراڈیوں کے بہت سارے نیٹ ورکس فعال ہیں۔

خدا و رسول ؐ اور مقدس ہستیوں کے نام کی قسمیں کھا کر لوگوں سے بھیک مانگی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں حج و عمرہ یا ایران و عراق میں زیارات کے مقامات ہوں، وہاں بھی بھکاریوں کی سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔ سعودی عرب اور ایران و عراق میں پاکستانی بھکاریوں کو گرفتار اور ڈی پورٹ بھی کیا جاتا ہے۔ انہی کی وجہ سے اب ایران و عراق میں زائرین پر بہت زیادہ سختی کی جا رہی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔

ٹھگوں اور فراڈیوں کے چند مشہور طریقے:
1۔ ایک ایک پیسہ سکیم:
سوشل میڈیا مثلاً وٹس ایپ گروپس بنا کر بطورِ ایڈمن لوگوں سے ایک ایک سو روپیہ سے لے کر حتی کہ ایک ایک روپیہ بھی جمع کرتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر اپنے گروپس بھی ہوتے ہیں اور دوسرے گروپس میں بھی پوسٹیں وائرل کرتے ہیں اور مختلف سوشل میڈیا کے گروپس میں ایک دوسرے کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ کہیں آپ فراڈیوں کے خلاف کوئی پوسٹ کریں، یہ چیخنے لگتے ہیں کہ سارے لوگ تو فراڈی نہیں ہیں، لہذا ایسی پوسٹیں نہ کی جائیں۔ چونکہ ان کا دھندہ مشترکہ ہوتا ہے، لہذا یہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ دو نمبر اور جعلی ٹرسٹس اور رفاہی تنظیمیوں کی طرح انہوں نے بھی جعلی کمیٹیاں بنا رکھی ہوتی ہیں۔ چند ٹھگ خود ہی کمیٹیاں بناتے ہیں، خود ہی کہتے ہیں کہ ہم تصدیق کرتے ہیں اور خود ہی کہتے ہیں کہ ہم نے مستحقین کو رقم پہنچا دی۔ حالانکہ اس کام کیلئے ان کے پاس حکومت کی طرف سے یا کسی مجتہد کی طرف سے کوئی رجسٹرڈ ٹرسٹ نہیں ہوتا۔ نہ ہی یہ کسی مستند ادارے کے پاس اپنا آڈٹ کراتے ہیں۔

2۔ مقدس ہستیوں کی قسمیں:
یہ لوگ چاہے خواتین ہوں یا بچے و بوڑھے، یہ سب خدا و رسولؐ اور مقدس ہستیوں کی قسمیں کھاتے ہیں۔ ان کے پاس لوگوں کو مطمئن کرنے کیلئے مقدس ناموں اور قسموں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ غریبوں کی مدد، بیماروں کی مدد، زخمیوں کی مدد، معذوروں کی مدد، جنت میں گھر بنوائیں، افطاریاں، فطرانے جمع کرائیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ یہ سب حربے یہ استعمال کرتے ہیں۔

3۔ آنلائن مدارس، قرآن اکیڈمیاں چلانے اور مسجدوں کے نام پر چندہ:
ہٹے کٹے لوگ پہلے چند بچوں کو کسی کرائے کے گھر میں جمع کرکے لوگوں سے اللہ کے نام پر مدرسے کی مدد کا دھندہ کرتے تھے۔ اب یہی کام جدید انداز میں آنلائن مدرسوں اور قرآن اکیڈمیوں کے نام پر ہو رہا ہے۔ خوبصورت اسٹیکر بنوا کر وہی صدقات و عطیات، خمس و زکواۃ کو سمیٹا جاتا ہے۔ ان کے پاس کسی مستند ادارے سے فارغ التحصیل ہونے یا کسی مسلمہ رجسٹرڈ ادارے کی طرف سے اُستاد یا مدیر ہونے کی کوئی سند نہیں ہوتی۔ انہوں نے خود سے ہی فارم اور وزٹنگ کارڈ بنا کر رکھے ہوتے ہیں۔ عام آدمی ان کے جھانسے میں آ جاتا ہے۔ کسی کو بھی خمس یا زکواۃ دینے سے پہلے آپ اُس سے مراجع کرام کا اجازہ مانگیں۔

بہتر ہے کہ آپ جس مجتہد کے دفتر میں اپنا خمس جمع کرائیں، اُس سے رسید لیں اور رسید کو چیک بھی کرائیں، چونکہ اکثر فراڈی یا تو رسید ہی نہیں دیتے اور یا پھر جعلی رسید دیتے ہیں۔ مجھے بھی ایک فراڈی نے گذشتہ سال مشہد سے جعلی رسید بھیجی تھی۔ لہذا رسید کے بغیر بالکل کسی کے پاس خمس جمع نہ کرائیں اور رسید چیک بھی کرائیں۔ یاد رکھیئے کہ کوئی بھی مدرسہ، آنلائن اکیڈمی یا آنلائن دینی مدارس چلانے کی بات کرنے والا اجازے کے بغیر آپ سے خمس وصول کرنے کا مجاز نہیں۔ اسی طرح خمس کی ادائیگی کے بعد سو فیصد اطمنان کیلئے ادائیگی کی رسید وصول کرنا آپ کیلئے ضروری ہے۔ ورنہ آپ کی رقم بھی جائے گی اور واجب بھی ادا نہیں ہوگا۔

4۔ استخارہ کروائیں، جادو نکلوائیں، اجارے کی نمازیں پڑھوائیں وغیرہ
دین اسلام نے مسلمانوں کو کبھی کسی کے پاس جادو نکلوانے کیلئے جانے کا حکم نہیں دیا۔ بعض عمامے پہننے والوں نے بھی یہ کام شروع کر رکھا ہے۔ پہلے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم مفت میں جادو نکالتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ جادو نکالنے کیلئے فُلاں فُلاں چیز لے کر آو۔ وہ چیزیں عام آدمی کے بس میں نہیں ہوتیں۔ لہذا یہ کہتے ہیں کہ اتنے پیسے بھیجو، ہم وہ چیزیں منگوا لیں گے۔ یوں یہ پیسے بٹورنے لگتے ہیں۔ بعض سے کئی مرتبہ بٹورتے ہیں۔ یاد رکھئے! اسلام منع کرتا ہے کسی کاہن، نجومی یا جادو وغیرہ کا کام کرنے والے کے پاس جانے سے۔ اسی طرح اگر استخارے کی ضرورت ہو تو خود کرنا چاہیئے، یا کسی جانے پہچانے ایسے متقی عالمِ دین کی طرف رجوع کرنا چاہیئے، جو معاشرے میں اچھی شہرت رکھتا ہو۔

اسی طرح اجارے کی نمازیں بھی ہیں۔ کسی بھی مرحوام کی ساری عمر کی نمازیں پڑھنا بڑے بیٹے پر واجب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص کسی عذرِ شرعی، بیماری یا معذوری کی وجہ سے جو نمازیں نہیں پڑھ سکا یا روزے نہیں رکھ سکا تو صرف وہی نمازیں پڑھنا یا روزے رکھنا واجب ہوتا ہے۔ اس میں بھی بڑے بیٹے پر صرف باپ کی قضا نمازیں واجب ہیں۔ افضل یہ ہے کہ اگر خود نہ پڑھ سکے تو خاندان کے افراد پر تقسیم کر دے، نہ کہ فراڈی لوگوں کو پیسے دے کر یہ امید رکھے کہ وہ پڑھیں گے۔ اہلِ خانہ، دوستوں اور قریبی عزیز و اقارب کا خود پڑھنا زیادہ معتبر اور مطلوب ہے۔ جو لوگ خود حلال کی کمائی نہیں کرسکتے اور جن کی اپنی تجوید غلط ہوتی ہے، انہیں اجارے کی نمازیں دینا ایک بے وقوفی ہے۔

کسی بھی مدرسے کے سارے طالب علموں کی تجوید درست نہیں ہوتی، لہذا اگر کسی کو اجارے کی نمازیں دینی بھی ہوں تو سب سے پہلے خود اس کی تجوید کے ساتھ واجب قرائت سنیں۔ اگر خود نہیں چیک کرسکتے تو سب سے پہلے اُس کی تجوید کسی ماہر سے چیک کروائیں۔ کسی کے مدرسے کے مولوی ہونے یا دینی طالب علم ہونے سے دھوکہ نہ کھائیں۔ اسی طرح تجوید کے ساتھ یہ بھی حتماً پتہ کریں کہ وہ عادل اور متقی بھی ہے یا نہیں۔ کہیں کوئی جادو گر، ٹھگ، پیشہ ور بھکاری، فراڈی، زانی، لواطی یا فاسق انسان نہ ہو۔ اعتماد کرنے سے پہلے یہ ساری چیزیں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔

بھکاری مافیا کا معاشرے کو نقصان
1۔ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی:
اسلام بھیک اور گدائی کو ختم کرنے کا نام ہے جبکہ فراڈی حضرات نے اسلام کے نام پر کشکول اٹھا رکھا ہے اور ان کا پیشہ ہی بھیک مانگنا بن گیا ہے۔ اس سے پاکستان، اسلام اور مسلمانوں کی بے عزتی ہوتی ہے۔
2۔ ٹھگ حضرات کی وجہ سے حقیقی ضرورت مند کی مدد نہیں ہو پاتی۔ اس وجہ سے لوگ خودکُشیاں کر رہے ہیں، غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

راہِ حل:۔
1۔ حکومت سائبر کرائم کے تحت سوشل میڈیا پر بھکاریوں کا تعاقب کرے۔ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
۲۔ ڈونرز اور مخیّر حضرات بھکاریوں کی قسموں کا اعتبار نہ کریں اور ان کے کسی بھی قسم کے اکاونٹس میں رقم ٹرانسفر نہ کریں۔ ہر آدمی اپنے گھر اور خاندان، ہمسائے و عزیز و اقارب میں سفید پوش افراد کی کمک اپنے ہاتھوں سے کرے اور اگر دور ہو تو اپنے رشتے داروں اور جاننے والوں کے ذریعے انتہائی تحقیق کے ساتھ مدد کرے۔ سو فی صد یقین کرے کہ اگلا آدمی واقعی مستحق تھا اور اس کی مدد یقینی طور پر ہوگئی ہے۔

3۔ لوگوں کو بھی چاہیئے کہ سوشل میڈیا پر ایسے اکاونٹس کی رپورٹ کریں۔ بھیک مانگنے والوں کے گروپس جوائن نہ کریں۔ اگر کسی گروپ میں کوئی بھیک مانگتا نظر آئے تو اُسے سختی سے روکیں اور سوشل میڈیا گروپس سے نکالیں۔
4۔ جادو وغیرہ کا شک ہو تو دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں۔ کسی مخلص عالم دین سے یا اپنے مرجع کرام سے کوئی دعا وغیرہ معلوم کریں۔ اس سلسلے میں فراڈیوں کو پیسے دے کر دینِ اسلام کی کمزوری کا سبب مت بنیں۔ یاد رکھیں کہ اسلام میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ جادو کا توڑ آپ کی توبہ و استغفار اور نماز و قرآن کی تلاوت میں ہے۔ باقی سب فراڈ ہے، اس سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے اور اپنے بندوں کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …